مواد پر جائیں
اتوار، 11 اکتوبر 2026 30 ربیع الثانی 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: صبح 7:16
بریکنگ
سعودی ایئرپورٹ پر حملہ، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا صورتحال کا جائزہ لینے کا اعلان
دنیا بریکنگ نیوز

نئی دہلی میں احتجاج پر پابندی، راہول گاندھی کی حمایت، سینکڑوں افراد زیر حراست

بھارتی دارالحکومت میں الیکشن کمشنر کے خلاف مظاہرے روکنے کے لیے سکیورٹی کے سخت انتظامات، میٹرو اور ٹرین سروسز معطل کر دی گئیں۔

نئی دہلی میں احتجاج پر پابندی، راہول گاندھی کی حمایت، سینکڑوں افراد زیر حراست

بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں الیکشن کمشنر کے استعفے کے مطالبے پر ہونے والے احتجاج کے پیش نظر انتظامیہ نے سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کر لیے ہیں۔ کاکروچ جنتا پارٹی کی جانب سے جنتر منتر پر احتجاج کی کال دی گئی تھی، جسے پولیس نے اجازت دینے سے انکار کر دیا تھا۔

احتجاج کو روکنے کے لیے دہلی پولیس اور نیم فوجی دستوں کے 30 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔ شہر کے داخلی راستوں پر ناکہ بندی کر دی گئی ہے جبکہ میٹرو سروس اور کئی ٹرینوں کی آمدورفت بھی معطل رکھی گئی ہے۔

اس صورتحال کے دوران پولیس نے اب تک ایک ہزار سے زائد افراد کو حراست میں لیا ہے۔ حراست میں لیے جانے والوں میں طلبہ رہنما، وکلا اور صحافی بھی شامل ہیں۔ پولیس کا موقف ہے کہ منتظمین نے اجازت کے لیے مقررہ وقت پر درخواست نہیں دی تھی۔

بھارتی لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہول گاندھی نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے پیغام میں احتجاج کرنے والے نوجوانوں کی مکمل حمایت کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت جتنی چاہے طاقت استعمال کر لے، اپوزیشن پیچھے نہیں ہٹے گی۔

سماجی کارکن سونم وانگچک نے بھی مظاہرین کی گرفتاریوں کی شدید مذمت کی ہے۔ انہوں نے حکومت کو تنبیہ کی ہے کہ اگر 24 گھنٹوں کے اندر گرفتار افراد کو رہا نہ کیا گیا تو وہ پرامن احتجاج یا بھوک ہڑتال شروع کرنے پر مجبور ہوں گے۔

مقبول یوٹیوبر دھروو راٹھی کو بھی گروگرام سے حراست میں لیے جانے کی اطلاعات ہیں۔ دھروو راٹھی نے اپنی گرفتاری سے قبل ایک ویڈیو میں دہلی میں کیے گئے لاک ڈاؤن اور میٹرو اسٹیشنز کی بندش پر کڑی تنقید کی تھی۔

کاکروچ جنتا پارٹی نے دہلی پولیس کی کارروائیوں کو آمرانہ قرار دیا ہے۔ پارٹی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ شہریوں کی نقل و حرکت پر پابندی اور پرامن مظاہرین کی گرفتاری بنیادی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

کچھ میڈیا رپورٹس کے مطابق، کوریج کرنے والے صحافیوں کو بھی پولیس نے حراست میں لیا اور ان کے موبائل فون قبضے میں لے لیے۔ تاہم، کچھ صحافیوں کو بعد ازاں رہا بھی کیا گیا ہے۔

دوسری جانب بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنما نتن نوین نے اس احتجاج کو ملک کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کچھ عناصر ملک کے امن و امان کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔

سپریم کورٹ کے سینئر وکیل پرشانت بھوشن نے بھی حکومت کے اقدامات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سکیورٹی فورسز کے ذریعے عوامی آواز کو دبایا نہیں جا سکتا۔

دہلی کے مختلف علاقوں سے کشیدگی کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں، تاہم پولیس نے تاحال کسی بڑے تصادم یا تشدد کے حوالے سے کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا ہے۔ حکام نے عوام سے نظم و ضبط برقرار رکھنے کی اپیل کی ہے۔

خیال رہے کہ یہ احتجاج الیکشن کمشنر کے خلاف کیا جا رہا ہے جس کے لیے منتظمین نے جنتر منتر کا انتخاب کیا تھا۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

صورتحال تاحال کشیدہ ہے اور دہلی پولیس کی جانب سے شہر بھر میں گشت بڑھا دی گئی ہے۔ مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ ان کے ساتھیوں کو فوری رہا کیا جائے اور انہیں پرامن احتجاج کی اجازت دی جائے۔

یہ خبر ڈیلی پاکستان آن لائن کے نیوز روم نے اصل رپورٹنگ کی بنیاد پر اپنے الفاظ میں لکھی ہے۔

دنیا کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیلوں کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں