اسلام آباد میں بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کی گولڈ میڈلسٹ طالبہ لائبہ اعجاز کے ساتھ پیش آنے والے افسوسناک واقعے کے بعد پولیس اور وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے کارروائی کرتے ہوئے مرکزی ملزم کو گرفتار کر لیا ہے۔
ملزم نعمان کو اسلام آباد پولیس نے ایک گھر کے تہہ خانے سے حراست میں لیا، جہاں وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں سے بچنے کے لیے روپوش تھا۔ ڈی آئی جی آپریشنز نے ملزم کی گرفتاری کی تصدیق کر دی ہے اور اس سے تفتیش جاری ہے۔
وفاقی تحقیقاتی ادارے کے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل نے مقتولہ کے لواحقین کی درخواست پر ملزمان محمد نعمان بدی الزمان اور فاطمہ سرور کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔ یہ مقدمہ تعزیرات پاکستان کی دفعات 419، 420 اور 109 کے تحت درج کیا گیا ہے۔
ایف آئی آر کے مطابق ملزمان نے ایمیگریشن آرڈیننس 1979 کی دفعات 18 اور 22 کی بھی خلاف ورزی کی۔ ابتدائی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ملزمان نے طالبہ کو امریکا کا ویزا اور اسکالرشپ دلوانے کا جھوٹا وعدہ کیا تھا۔
ملزمان نے لائبہ اعجاز کو جعلی اسکالرشپ ایوارڈ لیٹرز، یونیورسٹی ایڈمیشن آفر لیٹرز اور فیس کی جعلی رسیدیں دکھا کر دھوکا دیا۔ اس فراڈ کے ذریعے ملزمان نے طالبہ اور ان کے خاندان سے مجموعی طور پر 93 لاکھ روپے کی خطیر رقم بٹوری۔
متاثرہ خاندان نے بتایا کہ 29 لاکھ روپے کی رقم لائبہ اعجاز کے بینک اکاؤنٹ کے ذریعے منتقل کی گئی تھی، جبکہ باقی رقم ملزمان کو نقد ادا کی گئی۔ یہ رقم جمع کرنے کے لیے خاندان نے انتہائی مشکل حالات کا سامنا کیا تھا۔
لائبہ کے والد، جو موٹر سائیکل پر دودھ فروخت کر کے گھر کا خرچ چلاتے ہیں، نے بیٹی کے تعلیمی خوابوں کی تکمیل کے لیے اپنا پلاٹ فروخت کیا اور والدہ کے زیورات بھی بینک میں گروی رکھوائے تاکہ بیرون ملک تعلیم کا بندوبست ہو سکے۔
اس سنگین مالی دھوکا دہی اور اس کے نتیجے میں پہنچنے والی شدید ذہنی اذیت نے لائبہ کو انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور کر دیا۔ گزشتہ روز اسلام آباد کے تھانہ رمنا کی حدود سے طالبہ کی درخت سے لٹکی ہوئی لاش برآمد ہوئی تھی۔
خودکشی سے قبل لائبہ کا اپنے ماموں کے موبائل فون پر والد کے نام بھیجا گیا آخری پیغام بھی سامنے آیا ہے۔ اس پیغام میں لائبہ نے التجا کی تھی کہ ان کے ساتھ ہونے والے فراڈ کے بارے میں والد کو نہ بتایا جائے۔
طالبہ نے پیغام میں لکھا تھا کہ والد یہ صدمہ برداشت نہیں کر سکیں گے اور مر جائیں گے۔ لائبہ کے اس آخری پیغام نے پورے علاقے کو سوگوار کر دیا ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ کی ہدایت پر ادارے اس کیس میں متحرک ہوئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس گھناؤنے جرم میں ملوث تمام افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا اور متاثرہ خاندان کو انصاف فراہم کیا جائے گا۔
پولیس اور ایف آئی اے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ملزم نعمان سے مزید تفتیش جاری ہے جس سے نیٹ ورک کے دیگر ارکان کے بارے میں بھی اہم انکشافات متوقع ہیں۔





اپنی رائے دیں