بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی اور دیگر شہروں میں ان دنوں سیاسی صورتحال کافی کشیدہ ہے جہاں اپوزیشن جماعتوں اور مظاہرین کی جانب سے مختلف امور پر احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ اس دوران ملک کے مختلف حصوں میں انوکھے اور دلچسپ احتجاجی مناظر بھی دیکھنے میں آ رہے ہیں جنہوں نے سوشل میڈیا پر خاصی توجہ حاصل کر لی ہے۔
حیدرآباد دکن میں ایک شادی کی تقریب کے دوران باراتیوں نے روایتی انداز سے ہٹ کر ایک انتہائی منفرد احتجاج کیا جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے۔ اس انوکھی تقریب میں شریک مہمانوں اور باراتیوں نے دف بجا کر چیف الیکشن کمشنر کے خلاف نعرے بازی کی اور ان سے فوری استعفیٰ دینے کا مطالبہ کیا۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ 13 اکتوبر 2026 کو پیش آیا جہاں شادی کے استقبالیہ کے موقع پر باراتیوں نے روایتی مرّفا بینڈ کی دھنوں پر احتجاجی مظاہرہ کیا۔ اس غیر روایتی احتجاج کی قیادت معروف سماجی کارکن طلحہ صلاح نے کی جبکہ تقریب کے شریک افراد نے بھرپور نعرے بازی کی۔
ویڈیو فوٹیج میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ شادی کی خوشیوں کے ماحول میں باراتیوں نے ایس آئی آر کی کارروائی کو فوری طور پر روکنے کا پرزور مطالبہ کیا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ انتخابی فہرستوں کی نظر ثانی کا موجودہ عمل درست نہیں ہے اور اسے فوری طور پر معطل کیا جانا چاہئے۔
احتجاج کے دوران شرکاء نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور ان پر مختلف اعتراضات اٹھائے۔ شرکاء کا اصرار تھا کہ موجودہ حالات کے پیش نظر چیف الیکشن کمشنر اپنے عہدے پر برقرار رہنے کا جواز کھو چکے ہیں اور انہیں مستعفی ہو جانا چاہئے۔
دوسری جانب دارالحکومت نئی دہلی میں بھی صورتحال کافی گرم ہے جہاں اپوزیشن جماعتیں اور مختلف گروہ جنتر منتر اور اہم شاہراہوں پر دھرنے اور مظاہرے کر رہے ہیں۔ ان مظاہروں میں حکومت اور الیکشن کمیشن کی پالیسیوں کے خلاف شدید احتجاج کیا جا رہا ہے اور شہر کے کئی مقامات پر مظاہرین کا راج ہے۔
حیدرآباد کی شادی کی تقریب میں ہونے والا یہ احتجاج سوشل میڈیا صارفین کے لیے حیرت اور دلچسپی کا باعث بن گیا ہے جہاں لوگ اس ویڈیو کو بڑے پیمانے پر شیئر کر رہے ہیں۔ روایتی تقریبات میں سیاسی نعرے بازی اور بینڈ باجے کے ساتھ احتجاج کا یہ انوکھا انداز ملک بھر میں خاصا موضوعِ بحث بنا ہوا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت میں انتخابی اصلاحات اور فہرستوں کی نظرثانی کے معاملے پر سیاسی جماعتیں اور عوام شدید ردعمل کا اظہار کر رہے ہیں۔ آنے والے دنوں میں اس تنازعے کے مزید شدت اختیار کرنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کیونکہ اپوزیشن کا حکومت پر دباؤ مسلسل بڑھتا جا رہا ہے۔
ملک بھر میں جاری سیاسی اور انتخابی تنازعات کے تناظر میں عوام کی جانب سے ایسے منفرد احتجاجی طریقے اختیار کیے جا رہے ہیں جو روایتی دھرنوں اور ریلیوں سے ہٹ کر ہیں۔ شادی بیاہ جیسی تقریبات میں اس قسم کے سیاسی مظاهرے اس بات کا غماز ہیں کہ عوامی حلقوں میں موجودہ انتخابی عمل کے حوالے سے شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔
سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر وائرل ہونے والی اس ویڈیو پر مختلف تبصروں کا سلسلہ جاری ہے جہاں کچھ صارفین اس طنز و مزاح بھرے احتجاج کو سراہ رہے ہیں۔ دوسری طرف سیاسی حلقوں میں اس واقعے پر ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے اور اس کی بازگشت مختلف فورمز پر سنی جا رہی ہے۔
حیدرآباد دکن کی اس تقریب میں شریک افراد کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ اپنے جمہوری حقوق کے حصول کے لیے ہر ممکنہ پلیٹ فارم سے آواز اٹھاتے رہیں گے۔ ان کا عزم ہے کہ جب تک انتخابی فہرستوں کی نظرثانی کے متنازع عمل کو روکا نہیں جاتا، ان کا احتجاج مختلف شکلوں میں جاری رہے گا۔
عوامی سطح پر اس نوعیت کے انوکھے احتجاج نے روایتی سیاست میں ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے جہاں عام شہری اپنی بات حکام تک پہنچانے کے لیے تخلیقی طریقے استعمال کر رہے ہیں۔ یہ واقعہ اس امر کی نشان دہی کرتا ہے کہ عوام ملکی سیاسی صورتحال سے کس قدر باخبر اور فکرمند ہیں۔
آنے والے دنوں میں دیکھنا یہ ہوگا کہ الیکشن کمیشن یا متعلقہ حکام اس عوامی دباؤ اور منفرد احتجاج کے بعد کیا لائحہ عمل اختیار کرتے ہیں۔ فی الحال تو یہ شادی کی تقریب اور اس میں ہونے والا یہ انوکھا احتجاج میڈیا اور سوشل میڈیا پر سب کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔





اپنی رائے دیں