مانسہرہ کے تھانہ سٹی میں ملزم نعمان کے خلاف 85 لاکھ روپے کے فراڈ کا مقدمہ درج کیا گیا ہے جس میں انتہائی اہم اور چونکا دینے والے انکشافات سامنے آئے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر مانسہرہ پولیس اس معاملے میں ذرا بھی سستی کا مظاہرہ نہ کرتی تو قیمتی انسانی جان کو بچایا جا سکتا تھا۔
طالبہ لائبہ اعجاز کی خودکشی کے اس دلخراش معاملے میں روز بروز نئے حقائق سامنے آ رہے ہیں جنہوں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر کئی سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں۔ متاثرہ حلقوں اور ذرائع کا ماننا ہے کہ بروقت کارروائی سے سانحہ ٹالا جا سکتا تھا۔
تفتیش کے دوران یہ بات سامنے آئی ہے کہ ملزم نعمان مسلسل لائبہ سے رقوم وصول کر رہا تھا اور صورتحال کافی حد تک واضح ہو چکی تھی۔ اس حوالے سے فراڈ کیس کے مدعی نے متعلقہ تفتیشی افسر کو خصوصی طور پر لائبہ سے رابطہ کر کے متنبہ کرنے کی درخواست بھی کی تھی۔
مدعی مقدمہ کی جانب سے بار بار توجہ دلائے جانے کے باوجود تفتیشی افسر نے مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کیا۔ افسر نے نہ تو خود لائبہ سے رابطہ کرنے کی زحمت کی اور نہ ہی مرکزی ملزم نعمان کو گرفتار کرنے کے لیے کوئی سنجیدہ قدم اٹھایا۔
واقعے سے متعلق ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ لائبہ کی موت سے ٹھیک 1 مہینہ قبل مقدمہ کے مدعی نے مانسہرہ پولیس کے ہمراہ خود اسلام آباد کا دورہ کیا تھا۔ اس موقع پر مقامی پولیس کو ملزم کی موجودگی کی اطلاع بھی دی گئی تھی۔
مانسہرہ پولیس نے اسلام آباد پولیس کے ساتھ اشتراک کرتے ہوئے ملزم نعمان کے گھر پر چھاپہ بھی مارا تھا جہاں کارروائی کے دوران گھر میں موجود بچوں نے پولیس کو بتایا کہ ملزم رات کے وقت کہیں اور چلا گیا ہے۔
ابتدائی تحقیقات سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ملزم نعمان نے انتہائی مکاری کے ساتھ مانسہرہ کے ایک ہی خاندان کے 12 بچوں کو حساس ادارے میں ملازمت دلانے کا جھانسہ دیا تھا۔ ملزم نے لوگوں کو اپنے جال میں پھنسانے کے لیے تمام حربے استعمال کیے۔
ملزم کی جانب سے دھوکہ دہی کے اس مکروہ کھیل کو آگے بڑھاتے ہوئے ان 12 لڑکوں اور لڑکیوں کے سی ایم ایچ سے باقاعدہ میڈیکل ٹیسٹ بھی کروائے گئے تھے تاکہ متاثرہ خاندان کو کسی قسم کا کوئی شک نہ گزرے۔
ملزم نے اس سادہ لوح متاثرہ خاندان سے سرکاری نوکری اور بھرتی کے نام پر مجموعی طور پر 85 لاکھ روپے بٹورے تھے جس پر متاثرین کی مدعیت میں باقاعدہ مقدمہ بھی درج کیا جا چکا ہے۔
فریب کاری کی حد یہ ہے کہ ملزم نعمان نے اس خاندان کو مکمل یقین دلانے کے لیے جعلی اپوائنٹمنٹ لیٹر اور باقاعدہ سروس کارڈ بھی اپنے ہاتھ سے بنا کر دیے تھے تاکہ وہ دھوکہ کھاتے رہیں۔
پولیس حکام اب اس تمام معاملے کی مختلف قانونی زاویوں سے گہرائی کے ساتھ جانچ پڑتال کر رہے ہیں تاکہ اس بڑے فراڈ اور اس سے جڑے دیگر محرکات کو مکمل طور پر بے نقاب کیا جا سکے۔
متاثرہ خاندان اور انصاف پسند شہریوں نے اس المناک واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ غفلت برتنے والے عملے کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔
پولیس کے اعلیٰ ترین دفاتر کی جانب سے اس کیس کے تمام پہلوؤں کا از سر نو جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ قانون کی بالادستی کو یقینی بنایا جا سکے اور متاثرہ خاندان کو انصاف کی فراہمی ممکن ہو۔





اپنی رائے دیں