پاکستان کی اوور 50 کرکٹ ٹیم بھارت میں شیڈول آئندہ ورلڈ کپ میں شرکت نہیں کرے گی۔ پاکستان ویٹرنز کرکٹ ایسوسی ایشن نے تصدیق کی ہے کہ حکومتی سطح پر اجازت نہ ملنے کے باعث گرین شرٹس کا دورہ بھارت منسوخ کر دیا گیا ہے۔
یہ ٹورنامنٹ 23 جنوری سے 7 فروری 2027 تک بھارت کے شہر حیدرآباد دکن میں منعقد ہونا تھا۔ پاکستان اس ایونٹ میں دفاعی چیمپئن کے طور پر شرکت کرنے والا تھا، کیونکہ اس نے گزشتہ ایڈیشن میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ٹائٹل اپنے نام کیا تھا۔
پاکستان ویٹرنز کرکٹ ایسوسی ایشن کے چیئرمین فواد اعجاز خان نے اس فیصلے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ٹیم کی شرکت کے لیے وزارت خارجہ اور وزارت داخلہ سے باضابطہ اجازت طلب کی گئی تھی، تاہم حکومتی سطح پر گرین سگنل نہیں مل سکا۔
فواد اعجاز خان کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین محسن نقوی نے ایسوسی ایشن کو آگاہ کیا کہ موجودہ حالات کے پیش نظر قومی ٹیم کو بھارت جانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ اس فیصلے کے بعد ٹیم کا دورہ منسوخ کیا گیا۔
بھارتی ویٹرنز کرکٹ حکام کی جانب سے پاکستانی ٹیم کو ویزوں کی فراہمی اور سیکیورٹی کی یقین دہانی کرائی گئی تھی، لیکن ملکی پالیسی اور حکومتی ہدایات کے تحت ایسوسی ایشن نے اس عالمی ایونٹ سے دستبردار ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔
پاکستان نے 2025 میں سری لنکا میں منعقدہ اوور 50 کرکٹ ورلڈ کپ میں فاتحانہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا۔ ٹیم کے کھلاڑی اپنے اعزاز کا دفاع کرنے کے لیے پرعزم تھے، تاہم حکومتی فیصلے کے بعد اب وہ اس ٹورنامنٹ کا حصہ نہیں ہوں گے۔
چیئرمین ویٹرنز کرکٹ ایسوسی ایشن نے اس صورتحال پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی چیمپئن کی حیثیت سے ٹورنامنٹ میں شرکت نہ کر پانا ایک مشکل فیصلہ ہے، تاہم قومی مفاد اور حکومتی احکامات کا احترام کرنا اولین ترجیح ہے۔
فواد اعجاز خان نے مزید کہا کہ ہم ٹورنامنٹ کے منتظمین اور دیگر شریک ٹیموں کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہیں۔ پاکستان ویٹرنز کرکٹ ایسوسی ایشن مستقبل میں بھی ملک کی نمائندگی کے لیے پرعزم ہے اور کھیل کے فروغ کے لیے کام جاری رکھے گی۔
پاکستان میں ویٹرنز کرکٹ کا معیار کافی بلند ہے اور قومی ٹیم نے ماضی میں بھی کئی بین الاقوامی مقابلوں میں ملک کا نام روشن کیا ہے۔ اس ٹیم میں سابق فرسٹ کلاس اور کلب کرکٹرز شامل ہوتے ہیں جو اپنی فٹنس اور مہارت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔
بھارت میں ہونے والے اس ایونٹ کے لیے ٹیم کی تیاریوں کا سلسلہ جاری تھا، لیکن حکومتی اجازت نہ ملنے کے بعد اب تمام تر سرگرمیاں روک دی گئی ہیں۔ کھلاڑیوں کو بھی اس فیصلے سے آگاہ کر دیا گیا ہے تاکہ وہ اپنی مصروفیات ترتیب دے سکیں۔
پاکستان کی جانب سے اس فیصلے کے بعد اب ٹورنامنٹ کی انتظامیہ کو اپنی حکمت عملی میں تبدیلی کرنا پڑے گی۔ بین الاقوامی سطح پر اس طرح کے مقابلوں میں پاکستان کی شرکت ہمیشہ اہمیت کی حامل رہی ہے، خاص طور پر جب ٹیم دفاعی چیمپئن ہو۔
ویٹرنز کرکٹ کے حلقوں میں اس فیصلے پر ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ جہاں ایک طرف کھلاڑیوں میں مایوسی پائی جاتی ہے، وہیں دوسری طرف ملک کی پالیسیوں اور حکومتی فیصلوں کی پاسداری کو بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
پاکستان کرکٹ بورڈ اور دیگر متعلقہ ادارے کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کے لیے کوشاں رہتے ہیں۔ امید کی جا رہی ہے کہ مستقبل میں حالات کے مطابق ٹیم کو دیگر بین الاقوامی مقابلوں میں شرکت کے مواقع فراہم کیے جائیں گے تاکہ کرکٹ کا یہ سلسلہ جاری رہے۔





اپنی رائے دیں