لاہور قلندرز کی انتظامیہ نے بین الاقوامی سطح پر اپنی موجودگی کو مزید وسعت دینے کے لیے بنگلادیش پریمیئر لیگ میں شمولیت میں گہری دلچسپی ظاہر کی ہے۔ فرنچائز کے حکام کا ماننا ہے کہ اگر مناسب کاروباری مواقع میسر آئے تو وہ اس لیگ کا حصہ بننے سے گریز نہیں کریں گے۔
لاہور قلندرز کے چیف آپریٹنگ آفیسر ثمین رانا نے اپنے حالیہ دورے کے دوران بنگلادیش کرکٹ بورڈ کے ذمہ داران سے ملاقاتیں کی ہیں۔ ان ملاقاتوں میں فرنچائز کرکٹ کے فروغ اور باہمی تعاون کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔
ثمین رانا نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بنگلادیشی کرکٹ سے ان کا اور ان کی فرنچائز کا پرانا لگاؤ رہا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ طویل عرصے سے بنگلادیشی کرکٹ کے ساتھ باضابطہ طور پر کام کرنے کے خواہشمند ہیں۔
بنگلادیش کرکٹ بورڈ نے مالیاتی اور انتظامی امور کی بہتری کے لیے اپنے ٹورنامنٹ کے آئندہ ایڈیشن کو کچھ عرصے کے لیے مؤخر کیا ہے۔ بورڈ کا یہ اقدام لیگ کے نظام کو شفاف بنانے اور اسے مزید مستحکم کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔
بنگلادیشی کرکٹ بورڈ کے اعلیٰ عہدیداران اور ذمہ داران پہلے ہی اشارہ دے چکے ہیں کہ ضابطوں پر پورا اترنے والی غیر ملکی فرنچائزز کو خوش آمدید کہا جائے گا۔ اس پالیسی کی روشنی میں لاہور قلندرز کے لیے راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
لاہور قلندرز کے عہدیدار نے ابوظبی میں ہونے والے ایک ٹرائنگولر سیریز کے دوران بنگلادیشی حکام کے ساتھ وقت گزارا۔ اس موقع پر دونوں طرف کے کھیل سے وابسته اہم شخصیات نے کرکٹ کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا۔
دونوں ممالک میں کرکٹ کے لیے پائے جانے والے جنون کو مدنظر رکھتے ہوئے ثمین رانا کا کہنا تھا کہ اس کھیل کی بہتری کے لیے مشترکہ کاوشیں کی جانی چاہیے۔ اس سے نہ صرف لیگ کو تقویت ملے گی بلکہ شائقین کو بھی بہتر کھیل دیکھنے کو ملے گا۔
لاہور قلندرز گذشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے سے پاکستان سپر لیگ کا ایک نمایاں اور اہم حصہ چلی آ رہی ہے۔ اس طویل تجربے نے فرنچائز کو دنیا بھر میں کرکٹ کے انتظامی امور چلانے میں ماہر بنا دیا ہے۔
پاکستان سپر لیگ کے علاوہ لاہور قلندرز نے جنوبی افریقا کی ٹی ٹین لیگ اور گلوبل لیگ جیسے بڑے مقابلوں میں بھی اپنی ٹیمیں اتاری ہیں۔ ان بین الاقوامی تجربات سے فرنچائز کو گلوبل کرکٹ مارکیٹ کو سمجھنے میں بڑی مدد ملی ہے۔
فرنچائز کے حکام نے صرف اندرون ملک ہی نہیں بلکہ دیگر کرکٹ بورڈز کے ساتھ بھی روابط استوار رکھے ہیں۔ کینیڈا کے کرکٹ بورڈ کے ساتھ رابطے اس بات کا ثبوت ہیں کہ قلندرز عالمی سطح پر اپنے نیٹ ورک کو پھیلانا چاہتی ہے۔
حال ہی میں لاہور قلندرز نے گیانا کی وزارت برائے نوجوانان و ثقافت کے ساتھ ایک باضابطہ معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ اس معاہدے کے تحت گیانا کے نوجوان کھلاڑی تربیت حاصل کرنے کے لیے پاکستان کا دورہ کریں گے۔
اس سے قبل زمبابوے کے آٹھ کھلاڑی بھی پاکستان آ چکے ہیں جنہوں نے اسلام آباد کے ہائی پرفارمنس سینٹر میں چھ ہفتے گزارے۔ ان تربیتی پروگراموں کا مقصد غیر ملکی کھلاڑیوں کو جدید سہولیات فراہم کرنا ہے۔
لاہور قلندرز کی انتظامی چاہتی ہے کہ بنگلادیشی نوجوان کرکٹرز بھی پاکستان کے جدید ترین تربیتی مراکز سے بھرپور استفادہ کریں۔ اس طرح کے اقدامات دونوں ممالک کے درمیان کھیلوں کے تعلقات کو مزید مضبوط کرتے ہیں۔
کرکٹ کے تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر لاہور قلندرز بنگلادیش پریمیئر لیگ میں داخل ہوتی ہے تو اس سے جنوبی ایشیا میں فرنچائز کرکٹ کو نیا فروغ ملے گا۔ یہ اقدام دونوں ممالک کے کرکٹ بورڈز کے لیے بھی سود مند ثابت ہو سکتا ہے۔





اپنی رائے دیں