مواد پر جائیں
بدھ، 21 اکتوبر 2026 10 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: صبح 10:18
بریکنگ
سعودی اتحادی افواج کا مدینہ منورہ کی جانب آنے والے 4 ڈرونز تباہ کرنے کا دعویٰامریکی مڈٹرم انتخابات سے قبل صدر ٹرمپ کی مقبولیت نچلی ترین سطح پر پہنچ گئیلاہور: نشتر کالونی میں مضر صحت دودھ پینے سے دو سالہ بچہ جاں بحقپٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں معمولی اضافہ، نیا نوٹیفکیشن جاریراجن پور میں المناک حادثہ، مسافر بس الٹنے سے 8 افراد جاں بحقٹائیگر شروف پر حملے کے بعد سلمان خان کی سکیورٹی میں غیر معمولی اضافہحج و عمرہ زائرین ویکسین اسکینڈل: بارڈر ہیلتھ سروسز کے سربراہ سمیت 3 افسران گرفتارفیلڈ مارشل عاصم منیر کا دورہ ایران: اہم علاقائی امور پر تبادلہ خیالایم ڈی کیٹ نتائج اور سوالنامہ: پی ایم ڈی سی کا ہنگامی اجلاس طلبحکومت کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں معمولی اضافہاسلام آباد: سوتیلی بیٹی سے زیادتی کے مجرم کو سزائے موت کا حکمموسم سرما میں گیس کی فراہمی یقینی بنانے کیلئے 18 ایل این جی کارگوز خریدنے کا فیصلہعارف والا میں موسم سرما کے آغاز کے ساتھ ہی سوئی گیس کی لوڈشیڈنگ کا سلسلہ شروعپنجاب میں اسموگ کے تدارک کیلئے اینٹی اسموگ گن ٹیکنالوجی کا دائرہ کار وسیعلاہور میں سبزیوں اور پھلوں کی قیمتوں میں ردوبدل، تازہ ریٹ لسٹ جاریکراچی: منکی پاکس پھیلانے والا غیر قانونی ہسپتال سیل، عملے کی مزاحمت ناکاممشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی، عالمی منڈی میں خام تیل مہنگا ہو گیااوور 50 کرکٹ ورلڈ کپ: پاکستان کی بھارت میں شرکت سے معذرتخیبر پختونخوا میں گورنر راج کے بعد تجاوزات کے خلاف بھرپور آپریشن کا آغازسرطان کے خلاف جنگ: طبی تحقیق اور سماجی ذمہ داریوں کا تقاضا
پاکستان

بچوں کی فلاح و بہبود والدین کے ترجیحی حق سے مقدم ہے، لاہور ہائیکورٹ

لاہور ہائیکورٹ نے والد کی بچوں کی حوالگی کی درخواست مسترد کرتے ہوئے مالی مشکلات کو اخراجات سے استثنیٰ کا جواز قرار دینے سے انکار کر دیا۔

بچوں کی فلاح و بہبود والدین کے ترجیحی حق سے مقدم ہے، لاہور ہائیکورٹ

لاہور ہائیکورٹ نے بچوں کی حوالگی اور ان کے اخراجات سے متعلق ایک اہم قانونی فیصلہ جاری کیا ہے۔ جسٹس شیریں عمران نے نو صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ سناتے ہوئے واضح کیا ہے کہ بچوں کی بہترین فلاح و بہبود والدین کے کسی بھی ترجیحی حق سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔

عدالت نے اس کیس میں والد کی جانب سے دائر کی گئی آئینی درخواست کو مسترد کر دیا ہے۔ فیصلے میں عدالت نے ماتحت عدالت کے اس حکم کو برقرار رکھا ہے جس کے تحت والد کو فی بچہ 35 ہزار روپے ماہانہ خرچہ ادا کرنے کا پابند کیا گیا ہے۔

عدالتی فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ اس ماہانہ خرچے میں ہر سال دس فیصد اضافہ بھی کیا جائے گا۔ عدالت نے اپنے ریمارکس میں واضح کیا کہ کوئی بھی والد مالی مشکلات یا بے روزگاری کا عذر پیش کرکے اپنے بچوں کے اخراجات کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا۔

تحریری فیصلے کے مطابق بچوں کی حوالگی کا فیصلہ کرتے وقت ان کی تعلیم، نگہداشت، عمر اور ان کی ذاتی خواہش کو مدنظر رکھنا قانونی تقاضا ہے۔ بچوں کی فلاح و بہبود میں صرف مالی ضروریات ہی نہیں بلکہ جذباتی، نفسیاتی اور تعلیمی ضروریات بھی شامل ہوتی ہیں۔

عدالت کو آگاہ کیا گیا کہ زیر بحث بچے اپنی والدہ کے ساتھ رہائش پذیر ہیں اور ایک نجی اسکول میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ بچوں نے عدالت کے روبرو اپنی والدہ کے ساتھ رہنے کی خواہش کا اظہار بھی کیا ہے جسے عدالت نے اہمیت دی ہے۔

عدالت نے قرار دیا کہ والد بچوں کو والدہ سے منتقل کرنے کے حق میں کوئی ٹھوس ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ اگرچہ بچوں کی رائے کو اہمیت دی جانی چاہیے، تاہم اسے حتمی فیصلہ بنانے کے بجائے مجموعی حالات اور ان کی بہتری کے تناظر میں دیکھا جانا ضروری ہے۔

گارڈیئن اینڈ وارڈز ایکٹ کی دفعہ 17 کے تحت بچوں کی فلاح و بہبود کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ بچوں کی حوالگی کے معاملے میں والدین میں سے کسی کا بھی ترجیحی حق بچوں کی بہتری اور فلاح پر فوقیت نہیں رکھتا۔

لاہور ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے میں مزید کہا کہ ماتحت عدالتوں کے فیصلوں میں کوئی قانونی خامی یا شواہد کی غلط تشریح ثابت نہیں ہوئی۔ اس لیے والد کی جانب سے بچوں کی حوالگی کی درخواست کو مسترد کیا جاتا ہے اور بچوں سے ملاقات کا طے شدہ شیڈول برقرار رہے گا۔

عدالتی کارروائی کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی کہ بچوں کی پرورش کے لیے ان کی نفسیاتی اور جذباتی ضروریات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے اس بات پر زور دیا کہ والدین کا فرض ہے کہ وہ بچوں کی بہترین نشوونما کے لیے مل کر کام کریں۔

فیصلے میں اس بات کا اعادہ کیا گیا کہ بچوں کی تعلیم و تربیت کے لیے مالی وسائل کی فراہمی والد کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ معاشی حالات میں تبدیلی یا بے روزگاری کا بہانہ بنا کر بچوں کے حقوق سے دستبردار ہونا قانوناً درست نہیں ہے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی واضح کیا کہ بچوں کی حوالگی کا معاملہ صرف قانونی حقوق کا نہیں بلکہ اخلاقی ذمہ داریوں کا بھی ہے۔ بچوں کی خوشی اور ان کی تعلیمی کامیابیوں کو ہر صورت میں ترجیح دی جانی چاہیے تاکہ ان کا مستقبل محفوظ رہے۔

جسٹس شیریں عمران نے اپنے فیصلے میں ماتحت عدالتوں کے فیصلوں کو درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ شواہد کا جائزہ لینے کے بعد یہ ثابت ہوا ہے کہ بچے اپنی والدہ کے ساتھ بہتر ماحول میں رہ رہے ہیں۔ لہٰذا، ان کی موجودہ رہائش میں تبدیلی کا کوئی جواز نہیں بنتا۔

آخر میں عدالت نے ہدایت کی کہ بچوں سے ملاقات کا جو شیڈول پہلے سے طے شدہ ہے، اس پر سختی سے عمل کیا جائے۔ اس فیصلے نے خاندانی تنازعات میں بچوں کے حقوق کے تحفظ کے حوالے سے ایک اہم قانونی نظیر قائم کر دی ہے جس سے دیگر کیسز میں بھی رہنمائی ملے گی۔

پاکستان کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں