مواد پر جائیں
منگل، 20 اکتوبر 2026 9 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: صبح 6:36
بریکنگ
پنجاب ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کا نومولود بچوں کے طبی کلیمپ کے استعمال پر الرٹ جاریضلع خیبر میں پولیس اہلکاروں کے اغوا اور تصادم کی خبریں بے بنیاد قرارسہیل آفریدی کو حفاظتی تحویل میں لیا گیا ہے، عطا تارڑملتان: جبری مشقت سے انکار پر 15 سالہ یتیم بچے کو گاڑی تلے کچل کر قتل کر دیا گیاپاکستان نے پاک ایران سرحد پر چاروں کراسنگ پوائنٹس عارضی طور پر بند کر دیےقلات اور گوادر میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، 4 دہشتگرد ہلاک، میجر وجاہت وحید شہیدایکواڈور کے جڑواں بھائی طبی پیچیدگیوں کے باعث انتقال کر گئےکراچی: مختلف علاقوں میں پولیس مقابلے، 3 ڈاکو زخمی حالت میں گرفتارژاں پال سارتر کا فلسفہ اور جدید دور میں انسانی آزادی کا مفہومڈیجیٹل دور میں خبروں کا بہاؤ اور الگورتھم کی بدلتی ہوئی دنیاجامشورو: 17 سالہ مہک ملاح کی پراسرار موت پر دو افراد کے خلاف قتل کا مقدمہ درجوادی کیلاش: ثقافتی تنوع اور قدیم روایات کا مسحور کن مرکزجرمنی میں پاکستان کے نئے سفیر سلمان شریف نے سفارتی اسناد پیش کر دیںلاہور دنیا کے آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں پانچویں نمبر پر آ گیاسعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کا حوثی حملوں کے خلاف مشترکہ لائحہ عمل پر اتفاقآسٹریلیا: خاتون رکن پارلیمنٹ ہیلن ہینز گاڑی کی ٹکر سے شدید زخمیایلون مسک کا 2027 میں امریکی بچوں کو اسپیس ایکس کے شیئرز تحفے میں دینے کا اعلانروس کی پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کم کرانے کی پیشکشنیب کا ڈاکٹر امجد علی سمیت 5 افراد کو طلبی کا نوٹس جاریمتحدہ عرب امارات اور فرانس کا سمندری سلامتی کیلئے تعاون بڑھانے پر اتفاق
جرم و سزا

جامشورو: 17 سالہ مہک ملاح کی پراسرار موت پر دو افراد کے خلاف قتل کا مقدمہ درج

مقتولہ کی والدہ کی مدعیت میں رکشہ ڈرائیور اور ایک ساتھی کو نامزد کیا گیا ہے، پولیس تحقیقات جاری ہیں۔

جامشورو: 17 سالہ مہک ملاح کی پراسرار موت پر دو افراد کے خلاف قتل کا مقدمہ درج

جامشورو کے علاقے کوٹری میں 17 سالہ مہک ملاح کی پراسرار موت کے معاملے پر پولیس نے مقتولہ کی والدہ کی مدعیت میں قتل کا مقدمہ درج کر لیا ہے۔ اس افسوسناک واقعے کے بعد علاقے میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے اور لواحقین انصاف کے منتظر ہیں۔

مقدمے میں دو افراد کو نامزد کیا گیا ہے جن میں رکشہ ڈرائیور رضا حسین چانڈیو اور احمد جمالی شامل ہیں۔ پولیس حکام کے مطابق دونوں ملزمان کا تعلق جامشورو کی سید آباد کالونی سے ہے جہاں مقتولہ بھی رہائش پذیر تھی۔

مقتولہ کی والدہ نجمہ ملاح نے ایف آئی آر میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ ان کی بیٹی 17 اکتوبر کی رات جامشورو کے ایک ہوٹل میں میوزیکل پروگرام دیکھنے گئی تھی۔ اس مقصد کے لیے رکشہ ڈرائیور کو بلایا گیا تھا جس کے ساتھ احمد جمالی بھی موجود تھا۔

والدہ کا کہنا ہے کہ دونوں افراد مہک کو اپنے ساتھ لے گئے تھے جس کے بعد اہل خانہ رات بھر اس کی واپسی کے منتظر رہے۔ تاہم 18 اکتوبر کی صبح انہیں اطلاع ملی کہ مہک انڈس ہائی وے پر ایک ٹریفک حادثے میں جاں بحق ہو گئی ہے۔

نجمہ ملاح نے الزام عائد کیا ہے کہ یہ محض حادثہ نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت کیا گیا قتل ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ ملزمان نے باہمی مشاورت سے مہک کو کسی گاڑی سے ٹکرا کر یا رکشے سے نیچے پھینک کر موت کے گھاٹ اتارا ہے۔

پولیس نے والدہ کی مدعیت میں مقدمہ درج کر کے قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔ واقعے کے بعد سے ملزمان کی گرفتاری کے حوالے سے مختلف اطلاعات گردش کر رہی ہیں تاہم پولیس نے تاحال باضابطہ طور پر کسی گرفتاری کی تصدیق نہیں کی ہے۔

تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ معاملے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ اور جائے وقوعہ سے ملنے والے شواہد کی روشنی میں حقائق کو سامنے لایا جائے گا تاکہ مقتولہ کے لواحقین کو انصاف فراہم کیا جا سکے۔

انڈس ہائی وے پر پیش آنے والے اس واقعے کے بعد پولیس نے علاقے میں سیکیورٹی اور نگرانی کے اقدامات کو بھی مزید سخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ مقامی لوگ اس واقعے کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

پولیس کے مطابق ملزمان کی تلاش جاری ہے اور جلد ہی انہیں حراست میں لے کر تفتیش مکمل کی جائے گی۔ اس کیس میں نامزد افراد کے کردار کا تعین کرنے کے لیے بیانات قلمبند کیے جا رہے ہیں۔

مقتولہ کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ وہ اپنی بیٹی کے لیے انصاف چاہتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ ملوث افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ پولیس نے یقین دہانی کرائی ہے کہ میرٹ پر تفتیش کی جائے گی۔

جامشورو پولیس اس کیس کو انتہائی سنجیدگی سے دیکھ رہی ہے اور تمام تکنیکی ذرائع استعمال کیے جا رہے ہیں۔ واقعے کے وقت کی سی سی ٹی وی فوٹیج اور دیگر شواہد کو بھی تفتیش کا حصہ بنایا جا رہا ہے۔

اس واقعے نے مقامی آبادی میں خوف و ہراس پھیلا دیا ہے، تاہم پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ افواہوں پر کان نہ دھریں اور تحقیقات میں تعاون کریں۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے حقائق تک پہنچنے کے لیے پرعزم ہیں۔

مستقبل قریب میں اس کیس کی پیش رفت کے حوالے سے مزید تفصیلات سامنے آنے کی توقع ہے۔ پولیس کی جانب سے جلد ہی ملزمان کی گرفتاری کے حوالے سے پریس کانفرنس یا اعلامیہ جاری کیا جا سکتا ہے۔

جرم و سزا کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں