لاہور کے معروف گلاب دیوی ٹیچنگ اسپتال میں گزشتہ رات ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں لیڈی ڈاکٹر اور زیر علاج مریض کے لواحقین کے درمیان شدید تلخ کلامی اور ہاتھا پائی ہوئی۔ اس واقعے کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی ہے۔
اسپتال کے امیرالدین وارڈ میں پیش آنے والے اس واقعے کے چند گھنٹے بعد ہی مریض ذوالفقار علی انتقال کر گئے۔ ذوالفقار علی کا تعلق لاہور کے علاقے جیا موسیٰ سے تھا اور وہ پھیپھڑوں کے عارضے میں مبتلا ہونے کے باعث ایک ہفتے سے زیر علاج تھے۔
پولیس اور اسپتال انتظامیہ کے مطابق واقعہ اس وقت شروع ہوا جب لیڈی ڈاکٹر نے علاج کے عمل میں خلل سے بچنے کے لیے مریض کے ساتھ موجود خواتین کو وارڈ سے باہر جانے کی ہدایت کی۔ اس دوران ایک خاتون کی جانب سے ویڈیو بنانے پر صورتحال کشیدہ ہو گئی۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ بحث و تکرار کے بعد تین خواتین نے مبینہ طور پر لیڈی ڈاکٹر پر تشدد کیا جس کے بعد اسپتال کے عملے اور مریض کے لواحقین کے درمیان ہاتھا پائی کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ واقعے کی فوٹیج میں بھی فریقین کو الجھتے دیکھا جا سکتا ہے۔
دوسری جانب مریض کے لواحقین نے سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پیرامیڈیکل اسٹاف کی جانب سے مبینہ طور پر رشوت طلب کی گئی تھی۔ ان کا دعویٰ ہے کہ جھگڑے کے بعد مریض کے علاج میں رکاوٹ ڈالی گئی جس سے اس کی حالت مزید بگڑ گئی۔
اسپتال انتظامیہ اور ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن نے علاج میں غفلت یا رکاوٹ ڈالنے کے تمام الزامات کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ مریض کو طبی سہولیات کی فراہمی میں کوئی کوتاہی نہیں برتی گئی اور اسے ہر ممکن طبی امداد دی گئی۔
ترجمان گلاب دیوی اسپتال نے مزید واضح کیا کہ مریض کی حالت پہلے ہی تشویشناک تھی اور اسے وینٹی لیٹر سمیت تمام ضروری سہولیات فراہم کی جا رہی تھیں۔ انتظامیہ کے مطابق علاج روکنے کا الزام بے بنیاد اور حقائق کے منافی ہے۔
واقعے کے بعد نصیر آباد پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے دو خواتین کو حراست میں لے لیا ہے۔ پولیس کے مطابق ان خواتین کے خلاف دفعہ 107 اور 151 کے تحت انسدادی کارروائی عمل میں لائی گئی ہے اور انہیں عدالت میں پیش کر دیا گیا ہے۔
مریض کے لواحقین نے بھی لیڈی ڈاکٹر کے خلاف مقدمہ درج کروانے کے لیے پولیس کو باقاعدہ درخواست جمع کروا دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔
اسپتال میں پیش آنے والے اس واقعے کے بعد سیکیورٹی کے انتظامات کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔ طبی ماہرین نے اسپتالوں میں ڈاکٹروں اور مریضوں کے لواحقین کے درمیان بڑھتے ہوئے تنازعات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
واقعے کے بعد سے اسپتال میں صورتحال پر قابو پا لیا گیا ہے اور طبی خدمات معمول کے مطابق جاری ہیں۔ انتظامیہ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ اسپتال کے نظم و ضبط کا خیال رکھیں تاکہ علاج کے عمل میں کسی قسم کی رکاوٹ نہ آئے۔
پولیس حکام نے بتایا کہ واقعے سے متعلق مزید تفتیش جاری ہے اور سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے ملوث افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے اس معاملے کو میرٹ پر حل کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔
اسپتال انتظامیہ نے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مریض کی موت ایک فطری عمل ہو سکتا ہے، تاہم اس واقعے کو غلط رنگ دے کر اسپتال کے عملے کو بدنام کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جو کہ افسوسناک ہے۔





اپنی رائے دیں