کراچی کے شہریوں کو مہنگائی کے ایک اور طوفان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جہاں روزمرہ استعمال کی اشیاء کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے عام آدمی کی زندگی کو انتہائی اجیرن بنا ڈالا ہے۔ اسی سلسلے میں شہر قائد کے اندر مرغی کے گوشت کی قیمتوں میں ایک مرتبہ پھر بڑا اور تشویشناک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
مختلف علاقوں سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق شہر میں فی کلو مرغی کا گوشت اب ساڑھے چھ سو روپے سے لے کر چھ سو ستر روپے تک فروخت ہو رہا ہے۔ اس ہوشربا اضافے نے متوسط اور غریب طبقے کے دسترخوان سے سفید گوشت کی موجودگی کو بھی مشکل بنا دیا ہے۔
ملک بھر میں جاری مہنگائی کی لہر کے اثرات کراچی کی مارکیٹوں میں نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں جہاں ہر گزرتے دن کے ساتھ اشیائے ضروریہ کے دام بڑھ رہے ہیں۔ عوام کے لیے اپنے اہل خانہ کا پیٹ پالنا اور دو وقت کی روٹی کا بندوبست کرنا ایک کٹھن مرحلہ بن چکا ہے۔
شہر کے مختلف علاقوں میں مرغی کے گوشت کے نرخوں میں بھی واضح تضاد اور فرق پایا جا رہا ہے جس کی وجہ سے خریدار شدید پریشانی میں مبتلا ہیں۔ کہیں دکاندار فی کلو چکن ساڑھے چھ سو روپے میں دے رہے ہیں تو کہیں اس کے دام چھ سو ستر روپے تک وصول کیے جا رہے ہیں۔
پوش علاقوں اور بڑی کمرشل مارکیٹوں میں دکانداروں کی جانب سے اپنی مرضی کے نرخ وصول کیے جانے کی شکایات عام ہو چکی ہیں جبکہ نسبتاً سستے علاقوں میں قیمت معمولی سی کم رکھی جاتی ہے۔ اس غیر اعلانہ نرخ بندی نے صارفین کو دکانداروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے۔
مارکیٹ ذرائع کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ پولٹری فارمز کی جانب سے مرغی کی سپلائی مہنگی داموں مل رہی ہے اور فیڈ کی قیمتوں میں بھی مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ فیڈ کی زیادہ لاگت براہ راست پیداوار پر اثر انداز ہوتی ہے جس کا سارا بوجھ آخر کار عام صارفین پر ڈالا جا رہا ہے۔
پولٹری سیکٹر سے وابستہ افراد کا موقف ہے کہ فارمنگ کے اخراجات بڑھ جانے کی وجہ سے مرغی کی پرورش سستی نہیں رہی اور انہیں مجبورا ًبڑے ہوئے نرخوں پر سپلائی دینا پڑتی ہے۔ اس تمام صورتحال میں پیداواری لاگت کا بڑھنا ایک اہم معاشی حقیقت کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔
دوسری جانب متعلقہ ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ محکموں کی جانب سے مرغی کے گوشت کے سرکاری نرخ نامے باقاعدہ طور پر جاری کیے جاتے ہیں لیکن ان پر عملدرآمد کرانے کا کوئی مؤثر نظام نظر نہیں آتا۔ پرائس کنٹرول کمیٹیوں کی کارکردگی سوالیہ نشان بن چکی ہے اور وہ مارکیٹ کا دورہ کرنے سے گریزاں ہیں۔
انتظامی غفلت کا یہ عالم ہے کہ دکانداروں اور تاجروں نے سرکاری نرخ ناموں کو ہوا میں اڑا رکھا ہے اور وہ اپنی مرضی کے مطابق ریٹ وصول کرنے میں مصروف ہیں۔ کوئی بھی مجاز اتھارٹی اس من مانی کو روکنے کے لیے عملی اقدامات کرتی دکھائی نہیں دے رہی ہے۔
عوامی حلقوں اور سماجی تنظیموں نے اس صورتحال پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے حکومت اور ضلعی انتظامیہ سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ منافع خور عناصر دونوں ہاتھوں سے عوام کو لوٹ رہے ہیں اور انتظامیہ خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔
شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ پرائس کنٹرول کمیٹیوں کو فعال بنایا جائے تاکہ ناجائز منافع خوری کرنے والے عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔ اگر ان قیمتوں کو کنٹرول نہ کیا گیا تو غریب عوام کے لیے زندہ رہنا مزید محال ہو جائے گا۔
ماہرین اقتصادیات نے بھی اس بات پر زور دیا ہے کہ سپلائی چین کے اندر موجود خرابیوں کو دور کرنے اور مڈل مین کے کردار کو محدود کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ جب تک پولٹری فارمنگ کی بنیادی لاگت میں کمی نہیں لائی جاتی، صارفین کو اس مہنگائی سے نجات ملنا ممکن نہیں۔
امید کی جا رہی ہے کہ متعلقہ حکام اس معاملے کا فوری نوٹس لیں گے اور کراچی کے عوام کو اس اضافی مالی بوجھ سے نکالنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کریں گے۔ شہریوں کی نظریں اب ضلعی انتظامیہ کی اگلی کارروائی پر مرکوز ہیں کہ وہ کب حرکت میں آتی ہے۔





اپنی رائے دیں