کرکٹ کی دنیا کے مایہ ناز بیٹر اور جنوبی افریقہ کے سابق کپتان اے بی ڈی ویلیئرز نے اپنے کیریئر کے حوالے سے ایک حیران کن انکشاف کیا ہے۔ انہوں نے بتایا ہے کہ وہ اپنے انٹرنیشنل کیریئر کے آخری دو سالوں کے دوران ایک آنکھ کی بینائی کے مسائل کا شکار رہے۔
ایک حالیہ پوڈکاسٹ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے مسٹر 360 کے نام سے مشہور ڈی ویلیئرز نے انکشاف کیا کہ ان کی دائیں آنکھ کا ریٹینا اپنی جگہ سے ہٹ گیا تھا، جس کے باعث انہیں بینائی میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔
سابق کرکٹر نے بتایا کہ یہ واقعہ ان کے بیٹے کی ایڑی غلطی سے ان کی آنکھ پر لگنے کے باعث پیش آیا تھا۔ اس حادثے کے بعد سے ان کی دائیں آنکھ کی بینائی متاثر ہوئی، تاہم انہوں نے اس تکلیف کے باوجود کرکٹ کھیلنا جاری رکھا۔
ڈی ویلیئرز کے مطابق، آئی پی ایل کے دوران خاص طور پر رات کے میچوں میں انہیں گیند دیکھنے میں دشواری ہوتی تھی۔ دائیں آنکھ کی بینائی دھندلی ہونے کی وجہ سے انہیں شاٹس کھیلنے میں مسائل کا سامنا تھا، مگر انہوں نے ہمت نہیں ہاری۔
انہوں نے وضاحت کی کہ چونکہ دائیں آنکھ ان کی غالب آنکھ نہیں تھی، اس لیے انہوں نے اس مسئلے کو اپنے کھیل پر زیادہ اثر انداز نہیں ہونے دیا۔ وہ میدان میں اپنی کارکردگی کو برقرار رکھنے کے لیے مسلسل کوشش کرتے رہے۔
سابق کپتان نے بتایا کہ وہ اپنے کیریئر کے دوران سرجری کروانے سے گریزاں تھے کیونکہ اس سے ان کی کرکٹ سرگرمیاں متاثر ہو سکتی تھیں۔ اسی لیے انہوں نے ریٹائرمنٹ کے بعد ہی آنکھ کا مکمل معائنہ کروانے کا فیصلہ کیا تھا۔
ریٹائرمنٹ کے بعد جب انہوں نے ڈاکٹروں سے رجوع کیا تو انہیں معلوم ہوا کہ صورتحال کافی سنگین ہے۔ ڈاکٹروں نے انہیں خبردار کیا کہ اگر آپریشن میں مزید تاخیر کی جاتی تو وہ مستقل طور پر بینائی سے محروم ہو سکتے تھے۔
ڈاکٹروں نے تشخیص کے اگلے ہی روز ان کا آپریشن کیا، جس کے بعد ان کی آنکھ کی حالت بہتر ہوئی۔ ڈی ویلیئرز نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ بروقت علاج نے انہیں بڑی مشکل سے بچا لیا۔
اے بی ڈی ویلیئرز کا شمار کرکٹ کی تاریخ کے جارحانہ ترین بیٹرز میں ہوتا ہے۔ انہوں نے 114 ٹیسٹ میچوں میں 8765 اور 228 ون ڈے میچوں میں 9577 رنز بنائے۔
وہ ون ڈے کرکٹ میں تیز ترین نصف سنچری، سنچری اور 150 رنز بنانے کا عالمی ریکارڈ بھی اپنے نام رکھتے ہیں۔ ان کی بیٹنگ تکنیک اور میدان کے چاروں طرف شاٹس کھیلنے کی صلاحیت نے انہیں دنیا بھر میں مقبول بنایا۔
ان کا یہ انکشاف کرکٹ شائقین کے لیے کسی حیرت سے کم نہیں ہے، کیونکہ کیریئر کے آخری سالوں میں بھی وہ اپنی جارحانہ بیٹنگ کے ذریعے مخالف ٹیموں کے لیے خطرہ بنے رہے۔ ان کی ہمت اور کھیل سے لگن کی دنیا بھر میں تعریف کی جا رہی ہے۔
ڈی ویلیئرز کی جانب سے اس راز کا افشا ہونا یہ ظاہر کرتا ہے کہ ایک کھلاڑی کن مشکلات اور جسمانی تکلیفوں کے باوجود کھیل کے میدان میں اپنی قوم اور شائقین کے لیے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
اس انکشاف نے کرکٹ حلقوں میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے کہ کس طرح ایک کھلاڑی اتنی بڑی انجری کے ساتھ بھی عالمی سطح پر اپنی کارکردگی کو برقرار رکھنے میں کامیاب رہا۔ یہ ان کی ذہنی مضبوطی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔





اپنی رائے دیں