انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی جانب سے پاکستان اور سری لنکا کی کرکٹ ٹیموں پر ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرنے پر مالی جرمانے عائد کیے گئے ہیں جن کا تعلق سلو اوور ریٹ سے ہے۔
راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم کے تاریخی میدان میں کھیلی جانے والی سہ فریقی ون ڈے سیریز کے افتتاحی مقابلے کے دوران دونوں فریقین مقررہ وقت میں اپنے مقررہ اوورز مکمل کرنے میں ناکام رہے تھے۔
میچ کے دوران گرین شرٹس نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سری لنکن ٹیم کو شکست سے دوچار کیا تھا لیکن فیلڈنگ کے دوران وقت کی پابندی پر عمل درآمد نہ کیا جا سکا۔
آئی سی سی کے جاری کردہ بیان کے مطابق پاکستان کی ٹیم کو مقررہ وقت میں دو اوورز کم کرانے کا مرتکب پایا گیا جس پر کونسل نے ضابطے کے تحت سخت کارروائی کی۔
قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی پر پاکستان کرکٹ ٹیم پر ان کی میچ فیس کا دس فیصد جرمانہ عائد کیا گیا ہے جسے کرکٹ بورڈ کے ریکارڈ کا حصہ بنا دیا گیا ہے۔
دوسری جانب مہمان ٹیم سری لنکا نے بھی مقررہ وقت کے دوران ایک اوور کم کروایا تھا جس پر عالمینگ ادارے نے کارروائی کرتے ہوئے ان پر بھی جرمانے کا اعلان کیا۔
سری لنکن ٹیم پر سلو اوور ریٹ کی پاداش میں ان کی میچ فیس کا پانچ فیصد جرمانہ عائد کیا گیا ہے جو کہ ضابطہ اخلاق کے عین مطابق ہے۔
میچ کے اختتام پر دونوں ٹیموں کے کپتانوں نے میچ ریفری کے سامنے اپنی غلطی کا برملا اعتراف کیا اور کسی بھی قسم کی باضابطہ سماعت کی زحمت کے بغیر جرمانے کو قبول کیا۔
قومی ٹیم کی قیادت کرنے والے فاسٹ بولر شاہین شاہ آفریدی نے ٹیم کی طرف سے سلو اوور ریٹ کی کوتاہی کو تسلیم کیا اور ضابطے کی پابندی کا مظاہرہ کیا۔
اسی طرح سری لنکن ٹیم کے کپتان کوشل مینڈس نے بھی مقررہ وقت میں اوورز پورے نہ کیے جانے کی غلطی تسلیم کی جس کے بعد معاملہ مزید آگے نہیں بڑھایا گیا۔
راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلا جانے والا یہ افتتاحی میچ دونوں ٹیموں کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل تھا جس میں شائقین کرکٹ کو بہترین مقابلہ دیکھنے کو ملا۔
کھیل کے دوران اگرچہ قومی ٹیم نے میدان میں شاندار فتح سمیٹی لیکن سلو اوور ریٹ کی وجہ سے دونوں ٹیموں کو مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔
آئی سی سی کے قوانین کے مطابق میچ کے دوران وقت کا ضیاع اور مقررہ اوورز بروقت مکمل نہ کرنا سنگین جرم مانا جاتا ہے جس پر فوری ایکشن لیا جاتا ہے۔
کرکٹ کے حلقوں میں اس واقعے کے بعد ٹیموں کی طرف سے مزید احتیاط برتنے کی توقع کی جا رہی ہے تاکہ آئندہ میچوں میں ایسے جرمانوں سے بچا جا سکے۔





اپنی رائے دیں