کراچی میں میر رضا قتل کیس کے حوالے سے متوفی کے اہل خانہ نے ایک اہم پریس کانفرنس کے دوران جوڈیشل کمیشن کی انکوائری رپورٹ فوری طور پر منظر عام پر لانے کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔ متاثرہ خاندان کا کہنا ہے کہ رپورٹ کو صیغہ راز میں رکھنا انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے۔
اس موقع پر وکیل جبران ناصر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عدالتی کمیشن نے 15 اکتوبر کو اپنی رپورٹ جمع کروا دی تھی، تاہم اب یہ اطلاعات سامنے آ رہی ہیں کہ رپورٹ کو پبلک کرنے یا نہ کرنے کا حتمی فیصلہ صوبائی کابینہ کرے گی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اس رپورٹ کو چھپانے کے پیچھے آخر کس کی پشت پناہی کارفرما ہے۔
جبران ناصر نے مزید کہا کہ اگر حکومت نے رپورٹ جاری نہ کی تو وہ عدالت سے رجوع کرنے پر مجبور ہوں گے۔ انہوں نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ اگر انکوائری رپورٹ کو عوام کے سامنے نہ لایا گیا تو جوڈیشل کمیشن کی تمام تر کارروائی محض ایک ڈرامہ ثابت ہوگی۔
متاثرہ خاندان کے وکیل نے پولیس کی تفتیشی کارکردگی پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پولیس اس کیس کو خودکشی کا رنگ دینے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس معاملے کی شفاف تحقیقات کے لیے ایک جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دی جائے۔
میر رضا کے والد میر حسین علی نے پریس کانفرنس میں کہا کہ پولیس کی جانب سے ثبوتوں کو تباہ کیا گیا ہے اور وہ اس معاملے میں کسی بھی قسم کی شفافیت کی توقع نہیں رکھتے۔ انہوں نے وزیراعلیٰ سندھ کو خط لکھ کر مطالبہ کیا ہے کہ خاندان کو جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ فراہم کی جائے۔
میر حسین علی نے سپریم میڈیکل بورڈ کی تشکیل کو بھی غیر قانونی قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب کیس قتل کا ہے تو اسے خودکشی ثابت کرنے کے لیے میڈیکل بورڈ کیوں بنایا جا رہا ہے، یہ اقدام تفتیش کو گمراہ کرنے کے مترادف ہے۔
وکیل جبران ناصر نے کیس سے وابستہ کچھ افراد کے کردار پر بھی سوالات اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ میر رضا کے پارٹنرز احمد بھر دے اور علی شاز کا کردار مشکوک ہے، اور یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ انہیں پہلے سے کیسے معلوم تھا کہ میر رضا واپس نہیں آئیں گے۔
متاثرہ خاندان کا موقف ہے کہ پولیس نے عدالتی کمیشن کے احکامات کے باوجود تفتیش میں تعاون نہیں کیا اور نہ ہی فوکل پرسن مقرر کیا ہے۔ خاندان کا کہنا ہے کہ پولیس مسلسل کیس کو خراب کرنے میں مصروف ہے جس سے عام عوام میں عدم تحفظ کا احساس پیدا ہو رہا ہے۔
جبران ناصر نے حکومت کو متنبہ کیا کہ وہ اپنے آپ کو پولیس کی صف میں کھڑا نہ کرے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت نے انصاف فراہم نہ کیا تو وہ قانونی راستے اختیار کرنے کے ساتھ ساتھ عوامی سطح پر بھی آواز اٹھاتے رہیں گے۔
اس کیس میں آئی کلاؤڈ تک رسائی اور دیگر ڈیجیٹل شواہد کے حوالے سے بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ اہل خانہ کا کہنا ہے کہ ان تمام پہلوؤں کی تحقیقات کے بغیر کیس کا منطقی انجام تک پہنچنا ناممکن ہے، اور رپورٹ کو راز میں رکھنے سے گزشتہ دو ماہ کی محنت ضائع ہو جائے گی۔
یاد رہے کہ میر رضا کیس کراچی میں ایک انتہائی حساس معاملہ بن چکا ہے جس پر سول سوسائٹی اور قانونی حلقے بھی گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ عدالت کی جانب سے قائم کردہ کمیشن نے اس معاملے کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا تھا جس کی رپورٹ اب ایک متنازعہ شکل اختیار کر گئی ہے۔
متاثرہ خاندان نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پولیس کے دباؤ میں آئے بغیر میر رضا کے لواحقین کو انصاف کی فراہمی یقینی بنائے۔ ان کا کہنا ہے کہ جے آئی ٹی ہی واحد راستہ ہے جس سے اصل حقائق سامنے آ سکتے ہیں اور ذمہ داروں کو کیفر کردار تک پہنچایا جا سکتا ہے۔
پریس کانفرنس کے دوران یہ بھی واضح کیا گیا کہ پولیس کی جانب سے تفتیش میں تاخیری حربے استعمال کیے جا رہے ہیں۔ لواحقین کا مطالبہ ہے کہ شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے عدالتی کمیشن کی سفارشات پر فوری عمل درآمد کیا جائے تاکہ میر رضا کے اہل خانہ کو انصاف مل سکے۔





اپنی رائے دیں