مواد پر جائیں
اتوار، 18 اکتوبر 2026 7 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: رات 8:38
تازہ
سعد بیگ پاکستان کی جانب سے ون ڈے کرکٹ کھیلنے والے 262 ویں کھلاڑی بن گئےراولپنڈی: سہ ملکی سیریز کی سیکیورٹی پر مامور ڈولفن اہلکار حادثاتی فائر سے زخمیخیبرپختونخوا میں گورنر راج کا مقصد معدنی ذخائر پر قبضہ ہے، کامران مرتضیٰپاکستان کی کاٹن اور ٹیکسٹائل انڈسٹری شدید مالی بحران کی لپیٹ میںرہائش کے لیے دنیا کے بہترین ممالک کی نئی فہرست جاری، موناکو سرفہرستاسلام آباد ٹریفک پولیس کی جانب سے ڈرائیونگ لائسنس کی آن لائن سہولت کا آغازنیند کی کمی جوڑوں کے امراض کا سبب بن سکتی ہے، طبی تحقیق میں انکشافآئی سی سی کی اینٹی ڈوپنگ ٹیم کا دورہ، انگلینڈ کے کھلاڑیوں کے ڈوپ ٹیسٹ کیےمحمد رضوان اور امام الحق کو ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنے کی اجازتجے پی ایف پنک پولو کپ 2026 کا ٹائٹل ایف جی ڈن پولو نے جیت لیاامام الحق کو پریزیڈنٹ ٹرافی گریڈ ون کھیلنے کی اجازت مل گئیبالی ووڈ اداکار اجے دیوگن کے ممبئی والے بنگلے پر کارروائیامریکی گلوکارہ ٹیلر سوئفٹ کا سنڈریلا کا روپ دھارنا مداحوں کو بھا گیاپیپلز پارٹی کا لاہور میں بلدیاتی انتخابات کیلئے امیدواروں کی نامزدگی کا عمل شروعوزارتِ مواصلات میں 222 ارب روپے سے زائد کی مالی بے ضابطگیاں بے نقابنادرا نے شناختی کارڈ پر نام تبدیل کروانے کا آسان طریقہ کار واضح کر دیااسلام آباد: دامن کوہ کے قریب سرکاری گاڑی کی ٹکر سے خاتون سمیت دو افراد زخمیلاہور ایئرپورٹ پر سائپرس کا ٹیمپرڈ ویزا ناکام، مسافر آف لوڈدہشت گردوں کا مقابلہ کرنے کی سکت نہیں تو پیپلز پارٹی تیار ہے، بلاول بھٹومحکمہ موسمیات کی پیشگوئی، ملک کے بیشتر علاقوں میں موسم خشک رہے گا
پاکستان

نادرا نے شناختی کارڈ پر نام تبدیل کروانے کا آسان طریقہ کار واضح کر دیا

نیشنل ڈیٹابیس رجسٹریشن اتھارٹی نے شہریوں کی سہولت کے لیے شناختی کارڈ میں نام کی تبدیلی کا نیا اور آسان طریقہ کار جاری کر دیا ہے۔

نادرا نے شناختی کارڈ پر نام تبدیل کروانے کا آسان طریقہ کار واضح کر دیا

نیشنل ڈیٹابیس رجسٹریشن اتھارٹی یعنی نادرا نے شہریوں کے لیے شناختی کارڈ پر نام تبدیل کروانے کے طریقہ کار کو انتہائی آسان اور واضح بنا دیا ہے۔ ادارے کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین ہدایات کے مطابق اب شہری بغیر کسی دشواری کے اپنے شناختی کارڈ کے کوائف میں ترمیم کروا سکتے ہیں۔

نادرا کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ اگر کوئی بھی شہری اپنے شناختی کارڈ پر موجود نام کو تبدیل کروانا چاہتا ہے تو اسے سب سے پہلے ایک باضابطہ درخواست جمع کروانا ہوگی۔ اس درخواست کے ساتھ نئے اور تبدیل شدہ نام کی باقاعدہ تصدیق درکار ہوتی ہے۔

درخواست دہندہ کو متعلقہ یونین کونسل، میونسپل کمیٹی یا پھر کنٹونمنٹ بورڈ کی جانب سے جاری کردہ تصدیق شدہ کمپیوٹرائزڈ پیدائش سرٹیفکیٹ کا سی آر ایم ایس نمبر فراہم کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ اس نمبر کی فراہمی سے تصدیق کا عمل بہت تیز ہو جاتا ہے۔

ترجمان کے مطابق اگر نام کی تبدیلی کا معاملہ مذہب کی تبدیلی سے جڑا ہوا ہے تو اس صورت میں متعلقہ دارالافتاء کا سرٹیفکیٹ دینا بھی لازمی ہے۔ اس دستاویز کے بغیر مذہبی تبدیلی کی بنیاد پر نام کی تبدیلی ممکن نہیں ہوگی۔

نادرا نے ایک اہم نکتہ واضح کرتے ہوئے بتایا ہے کہ شناختی کارڈ پر نام کی تبدیلی زندگی بھر میں صرف ایک ہی بار کروائی جا سکتی ہے۔ اس قاعدے میں البتہ خواتین کے لیے ایک خصوصی رعایت رکھی گئی ہے۔

وہ خواتین جو شادی کے بعد اپنے نام میں تبدیلی کرنا چاہتی ہیں، ان پر یہ ایک بار کی پابندی لاگو نہیں ہوتی۔ شادی شدہ خواتین قانون کے مطابق اپنے نام یا خاوند کے نام کی نسبت سے کوائف تبدیل کروا سکتی ہیں۔

ادارے کی جانب سے شہریوں کی سہولت کے لیے کاغذی کارروائی کو بھی کم سے کم کر دیا گیا ہے۔ اب کسی بھی سرکاری یا غیر سرکاری دستاویز کی فوٹوکاپی ساتھ لانے کی کوئی ضرورت باقی نہیں رہی ہے۔

شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ نادرا یا یونین کونسل کی طرف سے جاری کردہ دستاویزات کے صرف نمبر اپنے ہمراہ لائیں۔ اس اقدام سے کاغذی کارروائی کا بوجھ نمایاں طور پر کم ہو گیا ہے۔

نام کی تبدیلی کے اس پورے عمل کو چند آسان مراحل میں تقسیم کیا گیا ہے تاکہ عوام کو کسی قسم کی زحمت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ پہلے مرحلے میں نادرا دفتر جا کر ٹوکن حاصل کرنا پڑتا ہے۔

دوسرے مرحلے کے دوران شہری کی بائیو میٹرک تصدیق کی جاتی ہے جس میں انگلیوں کے نشانات لیے جاتے ہیں۔ تیسرے مرحلے میں ڈیٹا انٹری کا عمل مکمل کیا جاتا ہے جہاں کوائف درست کیے جاتے ہیں۔

اعداد و شمار کی درستگی کے بعد انگلیوں کے نئے نشانات اور تصویر بھی بنائی جاتی ہے۔ چوتھے مرحلے میں درخواست کی منظوری کا مرحلہ آتا ہے جس کے لیے فارم کی تصدیق کروانے کی ضرورت نہیں ہوتی۔

شناختی کارڈ میں ترمیم کی اس درخواست کے لیے کسی بھی گزٹڈ آفیسر سے تصدیق کروانا لازمی نہیں۔ درخواست منظور ہونے کے بعد شہری کے دیے گئے موبائل نمبر پر ایک تصدیقی پیغام موصول ہوتا ہے۔

پانچویں مرحلے میں مطلوبہ کیٹیگری کے مطابق فیس کی ادائیگی کی جاتی ہے جو نادرا دفتر یا آن لائن جمع کروائی جا سکتی ہے۔ فیس کی ادائیگی کے لیے مختلف کیٹیگریز اور ان کی مدت کا تعین بھی کیا گیا ہے۔

ایگزیکٹو کیٹیگری کے تحت فیس ڈھائی ہزار روپے مقرر کی گئی ہے جس کے تحت نیا کارڈ سات دن میں مل جاتا ہے۔ ارجنٹ کیٹیگری کی فیس پندرہ سو روپے ہے اور اس کی ڈیلیوری پندرہ دن میں ہوتی ہے۔

نارمل کیٹیگری کے لیے فیس ساڑھے سات سو روپے رکھی گئی ہے جس کا شناختی کارڈ تیس دن کے اندر تیار ہوتا ہے۔ فیس کی ادائیگی کے بعد مقررہ مدت پوری ہونے پر اسی دفتر سے کارڈ مل جاتا ہے۔

آخری مرحلے میں شہری اپنی منتخب کردہ کیٹیگری کی مدت پوری ہونے کے بعد متعلقہ نادرا دفتر سے اپنا نیا قومی شناختی کارڈ باآسانی وصول کر سکتے ہیں۔ ادارے کا یہ نیا نظام شہریوں کے لیے انتہائی مددگار ثابت ہو رہا ہے۔

پاکستان کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں