عالمی بینک نے پاکستان میں غربت اور معاشی صورتحال سے متعلق اپنی ایک نئی رپورٹ جاری کر دی ہے جس میں اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملک کی کم آمدن والی اسی فیصد آبادی کا تعلق دیہی علاقوں سے ہے۔
دیہی علاقوں میں مقیم اس کم آمدن والی آبادی کو روزمرہ زندگی میں مختلف سماجی اور معاشی خطرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان علاقوں میں بنیادی سہولیات اور وسائل کی کمی غربت کے خاتمے کی راہ میں بڑی رکاوٹ سمجھی جاتی ہے۔
رپورٹ میں اس بات کی نشاندہی بھی کی گئی ہے کہ معاشرے کے مختلف طبقات کے درمیان خوراک پر ہونے والے اخراجات میں واضح فرق پایا جاتا ہے۔ ملک کا متمول اور امیر طبقہ اپنی کل آمدنی کا تقریباً بیس سے تیس فیصد حصہ خوراک پر خرچ کرتا ہے۔
اس کے برعکس، متوسط اور غریب طبقات کی ایک بہت بڑی تعداد اپنی مجموعی آمدن کا ستر سے اسی فیصد حصہ صرف خوراک کی بنیادی ضروریات کی تکمیل پر خرچ کرنے پر مجبور ہے۔
اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں ہونے والے اضافے سے یہ کم آمدنی والے طبقات سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ مہنگائی کی لہر غریب خاندانوں کے لیے غذائی تحفظ کو مزید مشکل بنا دیتی ہے۔
عالمی بینک کی اس رپورٹ کے مطابق اکیسویں صدی کی پہلی دہائی کے دوران مشرق وسطیٰ، شمالی افریقہ، افغانستان اور پاکستان کے خطے میں غربت میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی تھی۔
تاہم دو ہزار انیس کے بعد یہ مثبت پیش رفت رک گئی اور کورونا وائرس کی عالمگیر وبا کے نتیجے میں خطے میں غربت کی شرح میں دوبارہ اضافہ دیکھنے میں آیا۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ دو ہزار چوبیس کے دوران اس خطے کی چودہ اعشاریہ تین فیصد آبادی یومیہ تین ڈالر سے کم آمدنی پر گزارا کر رہی تھی۔
بین الاقوامی سطح پر یومیہ تین ڈالر سے کم آمدنی والی آبادی کی شرح دس اعشاریہ چار فیصد ہے، جو خطے کی صورتحال کو زیادہ تشویشناک بناتی ہے۔
اس کے علاوہ مشرق وسطیٰ، شمالی افریقہ، افغانستان اور پاکستان کے ممالک میں چھبیس اعشاریہ نو فیصد آبادی کی یومیہ آمدنی چار اعشاریہ بیس ڈالر ریکارڈ کی گئی۔
دنیا بھر میں چار اعشاریہ بیس ڈالر یومیہ آمدنی والی آبادی کی اوسط شرح اٹھارہ اعشاریہ نو فیصد ہے، جو خطے کے اعداد و شمار سے نمایاں طور پر کم ہے۔
عالمی بینک کی جانب سے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ غربت کی شرح سے جڑے یہ منفی معاشی رجحانات دو ہزار چھبیس تک برقرار رہ سکتے ہیں۔
معاشی ماہرین کے مطابق ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ملک میں روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے اور زرعی شعبے کی ترقی پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
دوسری جانب ملک میں غربت کی شرح میں کمی لانے اور عوام کے وسائلِ آمدن کے فروغ کے لیے وفاقی حکومت کی جانب سے مختلف ترقیاتی منصوبوں پر عمل درآمد جاری ہے۔
حکومت کا مقصد ان اقدامات کے ذریعے معاشرے کے پسماندہ اور کم آمدنی والے طبقات کی مالی حالت بہتر بنانا اور ان کی آمدنی میں اِضافہ کو یقینی بنانا ہے۔





اپنی رائے دیں