مواد پر جائیں
اتوار، 18 اکتوبر 2026 7 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: سہ پہر 5:16
بریکنگ
مصر کا سعودی عرب کے دفاع کیلئے ہر ممکن اقدامات اٹھانے کا اعلانجدہ ایئرپورٹ پر پروازوں کا آپریشن 45 منٹ کی معطلی کے بعد بحالنائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا ایرانی وزیر خارجہ سے ٹیلی فونک رابطہدہشت گردی کے نام پر سیاست نہیں ہونی چاہیے: بلاول بھٹودہشت گردی کیخلاف جنگ کو سیاسی تنازع نہ بنایا جائے: بلاول بھٹوامریکا کا ایران سے جوہری پروگرام دوبارہ شروع نہ کرنے کی ضمانت کا مطالبہمعیاری تعلیم کے یکساں مواقع فراہم کرنا اولین ترجیح ہے، وزیراعظم شہباز شریفلاہور بورڈ کا کھیلوں کے فروغ کیلئے بجٹ بڑھا کر ساڑھے 6 کروڑ کر دیا گیاپاکستان کا پہلا خلا باز 25 نومبر کو خلائی مشن پر روانہ ہوگا، احسن اقباللاہور میں پٹرولنگ آفیسر سے بدتمیزی کرنے والا نوجوان گرفتار، مقدمہ درجلاہور میں پولیس حراست میں موجود ملزم ہسپتال میں دم توڑ گیاپنجاب پولیس کے سب انسپکٹرز کی ترقی کے لیے کمیٹی کا اجلاس کل ہوگامالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معیزو 20 تا 22 اکتوبر پاکستان کا سرکاری دورہ کریں گےلاہور کے گلاب دیوی اسپتال میں ہنگامہ، ڈاکٹرز اور لواحقین میں جھگڑاپی آئی اے کا بوئنگ 777 طیاروں میں نئی بزنس کلاس سیٹیں نصب کرنے کا فیصلہامریکی سفارتخانے کی رپورٹس میں تبدیلیاں، نیتن یاہو حکومت کو بچانے کا انکشافبابر اعظم نے بین الاقوامی کرکٹ میں سولہ ہزار رنز مکمل کر لیےکم عمر نوجوانوں میں پروٹین پاؤڈر کا بڑھتا رجحان اور طبی خطراتپاکستان اور سری لنکا کی ٹیمیں راولپنڈی میں آمنے سامنےکراچی: رینجرز اور پولیس کا مشترکہ آپریشن، بین الصوبائی انسانی اسمگلر گرفتار
دنیا

امریکا کا ایران سے جوہری پروگرام دوبارہ شروع نہ کرنے کی ضمانت کا مطالبہ

امریکی نائب صدر نے کہا ہے کہ واشنگٹن تہران سے طویل مدت کے لیے قابلِ تصدیق ضمانت چاہتا ہے۔

امریکا کا ایران سے جوہری پروگرام دوبارہ شروع نہ کرنے کی ضمانت کا مطالبہ

واشنگٹن سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایک اہم بیان میں کہا ہے کہ امریکا ایران کے خلاف تنازع کے بعض پہلوؤں میں نمایاں اور فیصلہ کن کامیابی حاصل کر چکا ہے۔ اس مؤقف کا اظہار انہوں نے حال ہی میں سی بی ایس نیوز کے زیراہتمام منعقدہ ایک عوامی نشست سے خطاب کے دوران کیا، جس میں عالمی امور پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔

اپنے خطاب میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا یہ کہنا تھا کہ امریکا اس بات کو یقینی بنانے پر اپنی تمام تر توجہ مرکوز رکھے ہوئے ہے کہ ایران آئندہ برسوں میں کبھی بھی دوبارہ جوہری ہتھیار تیار کرنے کی کوشش نہ کرے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس کارروائی کے نتیجے میں ایرانی جوہری پروگرام کو شدید نقصان پہنچایا گیا ہے اور اس کی بنیادی صلاحیتوں کو مؤثر طریقے سے کم کیا گیا ہے۔

خطاب کے دوران امریکی نائب صدر نے شرکا سے مخاطب ہوتے ہوئے یہ بنیادی سوال بھی اٹھایا کہ موجودہ انتظامیہ کے بعد آنے والے برسوں میں کیا صورتحال ہوگی۔ انہوں نے پوچھا کہ کیا آئندہ پانچ سال گزرنے پر تہران ایک بار پھر جوہری ہتھیاروں کا ذخیرہ بنانے یا یورینیم افزودگی کی صلاحیت بحال کرنے کی کوشش کر سکتا ہے۔

ان کے مطابق واشنگٹن محض موجودہ تنصیبات کے نقصان پر اکتفا نہیں کرے گا بلکہ وہ تہران سے ایسی ٹھوس اور طویل مدتی یقین دہانی حاصل کرنے کا خواہاں ہے جس کی مکمل بین الاقوامی تصدیق بھی کی جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ مستقبل میں اس نوعیت کے کسی بھی پروگرام کی بحالی کو مکمل طور پر روکنے کے لیے قابلِ تصدیق انتظامات انتہائی ناگزیر ہیں۔

جے ڈی وینس کے اس بیان سے یہ واضح اشارہ ملتا ہے کہ واشنگٹن کے لیے یہ معاملہ صرف ایران کی موجودہ جوہری تنصیبات کو نقصان پہنچانے تک ہرگز محدود نہیں ہے۔ امریکی حکومت اس بات کی متلاشی ہے کہ تہران مستقبل میں اس خطرناک راستے پر دوبارہ گامزن نہ ہو سکے اور اس کے لیے سخت حفاظتی اقدامات کیے جائیں۔

دوسری جانب تہران کا موقف اس کے برعکس رہا ہے جہاں ایرانی حکام طویل عرصے سے اس بات کی سختی سے تردید کرتے آئے ہیں کہ ان کا ملک جوہری ہتھیار تیار کرنے کا کوئی بھی ارادہ رکھتا ہے۔ ایران ہمیشہ سے پرامن مقاصد کے تحت اس ٹیکنالوجی کے حصول پر زور دیتا چلا آیا ہے۔

ایرانی مؤقف کے مطابق ان کے ملک کو بجلی کی پیداوار، طبی تحقیق اور دیگر تمام پرامن شعبوں کی ترقی کے لیے جوہری پروگرام چلانے کا مکمل اور مسلمہ حق حاصل ہے۔ تہران بین الاقوامی قوانین کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنے اس سویلین توانائی پروگرام کو جاری رکھنے کا پختہ عزم رکھتا ہے۔

واشنگٹن اور تہران کے درمیان جاری اس کشمکش میں امریکی قیادت کا اصرار ہے کہ خطے کی مستقبل کی سلامتی کے لیے صرف زبانی کلامی وعدے یا دعوے ہرگز کافی نہیں ہوں گے۔ دونوں ممالک کے مابین اس سفارتی اور تزویراتی ڈیڈ لاک کو ختم کرنے کے لیے عالمی سطح پر بھی مختلف سفارتی ذرائع سے رابطے جاری رکھے گئے ہیں۔

بین الاقوامی سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق امریکی انتظامیہ کی جانب سے اس قسم کے سخت بیانات کا بنیادی مقصد خطے میں اپنے اتحادیوں بالخصوص اسرائیل اور دیگر ممالک کو مطمئن کرنا ہے۔ اس کے علاوہ اس کا مقصد ایران پر سفارتی دباؤ کو مسلسل برقرار رکھنا بھی ہے تاکہ تہران کسی بھی قسم کی مشکوک سرگرمی سے باز رہے۔

موجودہ حالات میں یہ دیکھنا انتہائی دلچسپ ہوگا کہ آنے والے دنوں میں تہران کی جانب سے اس تازہ ترین امریکی مطالبے پر کیا باضابطہ ردعمل سامنے آتا ہے۔ ایران روایتی طور پر بیرونی دباؤ کو مسترد کرتا رہا ہے اور اپنے خودمختار حقوق کے دفاع کو اولین ترجیح دیتا ہے۔

امریکہ اور ایران کے درمیان جوہری تنازع دہائیوں پر محیط ہے جس میں وقتاً فوقتاً سفارتی ڈیڈ لاک اور کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آتا ہے۔ ماضی میں بھی بین الاقوامی معاہدوں کے ذریعے اس مسئلے کو حل کرنے کی کوششیں کی گئی ہیں جو تاحال مکمل طور پر بارآور ثابت نہیں ہو سکیں۔

عالمی برادری اور سلامتی کونسل کے اراکین بھی مشرق وسطیٰ میں جوہری پھیلاؤ کو روکنے کے لیے فریقین کے درمیان بات چیت کی اہمیت پر زور دیتے رہے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے فریقین کو سفارتی لچک کا مظاہرہ کرنا ہوگا ورنہ کشیدگی بڑھ سکتی ہے۔

امریکی نائب صدر کے اس حالیہ بیان نے ایک بار پھر عالمی میڈیا اور پالیسی ساز اداروں کی توجہ ایران کے جوہری پروگرام اور واشنگٹن کی نئی حکمت عملی کی طرف مبذول کرا دی ہے۔ آنے والے ہفتوں میں اس حوالے سے مزید اہم سفارتی پیشرفت متوقع ہے جس کے اثرات عالمی سیاست پر مرتب ہوں گے۔

دنیا کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں