پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے شہر قائد کراچی میں سانحہ کارساز کی انیسویں برسی کے موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک بالخصوص صوبہ بلوچستان اور صوبہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کا ایک بہت بڑا اور سنجیدہ چیلنج موجود ہے۔
انہوں نے اس بات پر خصوصی زور دیا کہ اس سنگین مسئلے اور ناسور سے مؤثر طریقے سے نمٹنے کے لیے ملک کی سیاسی قیادت کو سنجیدہ اور فوری اقدامات اٹھانے کی اشد ضرورت ہے تاکہ عوام کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے اپنے خطاب کے دوران اس بات کا کھل کر اظہار کیا کہ دہشت گردی کے خلاف جاری اس اہم اور فیصلہ کن جنگ کو کسی بھی قسم کے سیاسی تنازع یا مفادات کا شکار ہرگز نہیں بنایا جانا چاہیے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ملک کی سلامتی، بقا اور امن و امان کے اس بنیادی معاملے پر تمام سیاسی جماعتوں کو ذاتی اختلافات سے بالاتر ہو کر ایک واضح، دوٹوک اور متفقہ مؤقف اپنانے کی ضرورت ہے تاکہ دشمن کے عزائم ناکام بنائے جا سکیں۔
بلاول بھٹو زرداری نے جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جے یو آئی کے رہنما اور کارکن بھی ماضی میں دہشت گردی کے مختلف دلخراش واقعات میں جامِ شہادت نوش کر چکے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسی تناظر میں انہیں توقع تھی کہ مولانا فضل الرحمان دہشت گرد عناصر کے خلاف کھل کر سامنے آئیں گے اور اس قومی کاز میں اپنا بھرپور اور دوٹوک کردار ادا کریں گے۔
بلاول بھٹو نے مولانا فضل الرحمان کے لیے اپنے گہرے احترام کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس نازک اور اہم سیاسی و سکیورٹی صورتحال میں معاملات کو بہتر بنانے کے لیے مثبت کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے ماضی کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ایک صوبے کا وزیراعلیٰ دہشت گردوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کے لیے بالکل بھی تیار دکھائی نہیں دے رہا تھا، جس کی وجہ سے مجبوری کے تحت انتظامی فیصلے کرناپڑے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ اسی مجبوری کی حالت میں صوبے میں ایمرجنسی نافذ کرنا پڑی تاکہ ریاست کی رٹ کو برقرار رکھا جا سکے اور امن دشمن عناصر کے خلاف بروقت اور ضروری اقدامات کو یقینی بنایا جا سکے تاکہ مزید نقصان سے بچا جائے۔
بلاول بھٹو نے اپنے بیان میں بلوچستان میں سابقہ حکومت کے دورِ اقتدار کے دوران پیش آنے والی دہشت گردی کی صورتحال اور گورنر راج کے نفاذ کے اہم واقعاتی حوالے بھی بیان کیے اور ماضی کے فیصلوں کو منطقی قرار دیا۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ دہشت گردی کے خلاف اٹھائے جانے والے ضروری اور ناگزیر انتظامی و سکیورٹی اقدامات کو متنازع بنانے کے بجائے پوری توجہ اس مکروہ اور جان لیوا فتنے کے مکمل خاتمے پر مرکوز ہونی چاہئے۔
بلاول بھٹو زرداری نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ملک سے دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے تمام ریاستی اداروں اور سیاسی قوتوں کو ایک ہی صفحے پر آنا ہوگا تاکہ ملک کو مستقل امن کا گہوارہ بنایا جا سکے۔
انہوں نے آخر میں اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان پیپلز پارٹی شہداء کے مشن کو آگے بڑھاتے ہوئے ملک دشمن عناصر کے خلاف اپنی نظریاتی اور عملی جدوجہد ہر صورت جاری رکھے گی اور اس مقصد میں کسی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے گا۔





اپنی رائے دیں