لندن میں برطانوی حکومت کی جانب سے ایک اہم پالیسی فیصلے کا اعلان کیا گیا ہے جس کے تحت سعودی عرب کو فضائی دفاعی تعاون فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ برطانوی وزیرِ اعظم اینڈی برنہم نے ملک کی پارلیمنٹ سے اہم خطاب کرتے ہوئے اس اقدام کی باضابطہ تصدیق کی اور صورتحال پر روشنی ڈالی۔
حوثی ملیشیا کی جانب سے ہونے والے حملوں کے تناظر میں سعودی عرب کی بھرپور مدد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ برطانوی حکومت نے اس سلسلے میں فوری عملی قدم اٹھاتے ہوئے ری فیولنگ اور فضائی دفاعی معاونت کے لیے ایک وائجر طیارہ سعودی عرب روانہ کر دیا ہے۔
برطانوی وزیرِ اعظم نے اپنے پارلیمانی خطاب میں اس عزم کا اعادہ کیا کہ برطانیہ مشکل کی اس گھڑی میں اپنے اتحادی سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ریاض کی حمایت کا سلسلہ ہر ممکن طریقے سے جاری رکھا جائے گا۔
خطاب کے دوران برطانوی وزیرِ اعظم نے فیئرفورڈ ایئربیس کے حوالے سے ہونے والی کارروائیوں کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ان کارروائیوں کی منصوبہ بندی ایران کے اندر کی گئی تھی اور ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے اس کی ہدایات دی تھیں۔
برطانوی حکومت نے دوٹوک الفاظ میں اعلان کیا ہے کہ برطانیہ اپنی سرزمین پر ایسے کسی بھی خطرے کو ہرگز برداشت نہیں کرے گا۔ ملک کی سلامتی کو مقدم رکھتے ہوئے بیرونی خطرات سے نمٹنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔
اس موقع پر برطانوی وزیرِ اعظم اینڈی برنہم نے یہ اعلان بھی کیا کہ ایران کے جرائم پیشہ نیٹ ورکس کے خلاف سخت ترین کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ اس حکمت عملی کا مقصد تہران کی سرگرمیوں کو محدود کرنا ہے۔
برطانوی حکومت تہران پر مزید کڑی پابندیاں عائد کرنے کا ارادہ رکھتی ہے تاکہ اس کی دوسروں کو نقصان پہنچانے کی صلاحیت کو کم سے کم کیا جا سکے۔ ان پابندیوں کا مقصد خطے میں استحکام لانا اور سلامتی کو یقینی بنانا ہے۔
برطانیہ کی جانب سے یہ اقدامات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب خطے میں سکیورٹی کی صورتحال انتہائی حساس مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ بین الاقوامی سطح پر اس فیصلے کو انتہائی اہمیت کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔
برطانوی حکام کا ماننا ہے کہ سعودی عرب کے ساتھ دفاعی تعاون میں اضافے سے خطے میں جارحانہ عزائم رکھنے والے عناصر کو واضح پیغام ملے گا۔ اس تعاون کو طویل المدتی حکمت عملی کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔
برطانیہ اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی اور سکیورٹی امور پر طویل عرصے سے قریبی تعاون چلا آ رہا ہے۔ حالیہ فیصلوں سے دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔
برطانوی پارلیمنٹ میں اس معاملے پر اراکین کی جانب سے مختلف آراء کا اظہار کیا گیا تاہم حکومت نے اپنے فیصلوں کا بھرپور دفاع کیا۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ اقدامات ملکی مفاد اور بین الاقوامی امن کے لیے ناگزیر ہیں۔
مستقبل میں بھی برطانیہ کی جانب سے خطے کے امن کے لیے ایسے اقدامات کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ برطانوی وزارتِ دفاع اور متعلقہ ادارے صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔
عالمی سطح پر اس پیشرفت کے بعد سفارتی حلقوں میں چہ مہ گوئیاں شروع ہو گئی ہیں اور مبصرین اس کے خطے کی سیاست پر پڑنے والے اثرات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ آنے والے دنوں میں اس پالیسی کے مزید نتائج سامنے آنے کی توقع ہے۔





اپنی رائے دیں