مواد پر جائیں
منگل، 3 نومبر 2026 23 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ:
بریکنگ
وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت خیبرپختونخوا کی صورتحال پر اہم جائزہ اجلاسامریکہ کا آبنائے ہرمز میں ایران کے جزیرے پر فضائی حملہاے سی سی رائزنگ اسٹارز ایشیا کپ: پاکستان شاہینز کے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلانسعودی عرب میں نومبر سے جنوری تک معمول سے زائد بارشوں کی پیش گوئیسپریم کورٹ نے بیوی پر تشدد کے ملزم آئی بی ملازم کی اپیل خارج کر دیسمندری طوفان مرسو انڈیا کے مشرقی ساحل سے ٹکرا گیابیلجیم میں سیاسی بحران، وفاقی بجٹ پر مذاکرات ناکام ہونے پر وزیراعظم نے استعفیٰ دے دیاامریکی سپریم کورٹ نے کیلیفورنیا میں بیلٹس روکنے کی ٹرمپ انتظامیہ کی درخواست مسترد کر دیپاک چین تعلقات کے استحکام کا اعادہ، چینی وزیر کا دورہ اسلام آبادمالی سال کی پہلی سہ ماہی میں معیشت مستحکم، زرِمبادلہ کے ذخائر میں نمایاں اضافہشمالی کوریا نے بائنس ہیکنگ میں ملوث ہونے کا امریکی الزام مسترد کر دیاایڈرین ہیملٹن مانس نے پی آئی اے کے نئے چیف ایگزیکٹو کی حیثیت سے ذمہ داریاں سنبھال لیںساؤتھ ایشین فٹ بال چیمپئن شپ: پاکستانی کوچ نے سیمی فائنل تک رسائی کا ہدف مقرر کر لیاامریکہ نے روانڈا اور ساؤتھ افریقہ کو ایگوآ سے نکالنے کا اعلان کیاایپل اور گوگل ایپ اسٹورز پر جنسی و پُرتشدد ڈیپ فیک اے آئی ایپس کا انکشافمظفرگڑھ: وراثتی زمین کے تنازع پر بھائی نے حاملہ بہن کو قتل کردیاپاکستان براڈکاسٹرز ایسوسی ایشن کے سالانہ اجلاس میں نئے عہدے داروں کا انتخابلاہور ہائیکورٹ کا نورین نیازی کی بیٹیوں سے ملاقات کروانے کا حکمفِیفا نے زوریخ میں کونسل اراکین کو ورلڈ کپ سیل‑آف دستاویزات تک محدود رسائی دیامریکی عدالت نے ایف بی آئی کے سابق اعلیٰ حکام کے خلاف کیس خارج کر دیا
دنیا

ترکی اور آذربائیجان کے دیرینہ تعلقات میں سفارتی و سیاسی اختلافات کی نئی بحث

غزہ جنگ اور اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے تناظر میں ترکی اور آذربائیجان کے مابین قائم 'دو ملک ایک قوم' کے بیانیے پر نئے سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

ترکی اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ گہرے سٹریٹجک تعلقات میں حال ہی میں علاقائی اور سیاسی تناظرات کی وجہ سے سفارتی و سیاسی مباحثے نے جنم لیا ہے، جہاں دونوں ممالک کے تعلقات میں تناؤ اور ترجیحات کی تبدیلی پر تبصرے کیے جا رہے ہیں۔

دراصل دہائیوں سے 'دو ملک، ایک قوم' کے نعرے کے تحت انقرہ اور باکو کے مابین قائم مضبوط تعلقات کو اب مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال اور غزہ پر اسرائیلی حملوں جیسے عالمی واقعات کے تناظر میں چیلنجز کا سامنا ہے۔

آذربائیجان کے صدر الہام علیئف نے حال ہی میں حکمراں جماعت کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے یہ مؤقف اختیار کیا کہ ان کے ملک نے اپنی دفاعی ضروریات اور ہتھیار اپنے وسائل سے خریدے ہیں اور کسی نے ان کی بلامعاوضہ امداد نہیں کی۔

اگرچہ صدر علیئف نے اپنے خطاب میں براہ راست ترکی کا نام نہیں لیا، تاہم ماہرین اور میڈیا نے ان کے بیانات کو ترکی کے لیے ایک ڈھکے چھپے پیغام کے طور پر دیکھا، جس سے دونوں ممالک کے سفارتی حلقوں میں بحث چھڑ گئی۔

ناگورنو قرہباغ کی جنگ کے دوران ترکی نے آذربائیجان کو عسکری تربیت، انٹیلی جنس اور جدید ترین تکنیکی ڈرونز کی فراہمی میں اہم کردار ادا کیا تھا، جس نے باکو کو آرمینیا پر نمایاں فضائی برتری دلائی۔

جنگ کے بعد باکو اور انقرہ کے مابین باقاعدہ عسکری اتحاد اور مشترکہ دفاعی معاہدوں پر دستخط بھی ہوئے تھے، تاہم باکو حکام کا موقف ہے کہ یہ تمام فوجی سازوسامان اور ڈرونز معاہدوں کے تحت خریدارانہ بنیادوں پر حاصل کیے گئے تھے۔

دوسری جانب مشرق وسطیٰ کے بحران اور بالخصوص غزہ کی جنگ کے حوالے سے دونوں اتحادی ممالک کا مؤقف ایک دوسرے سے منفرد نظر آتا ہے، جو اب سفارتی سطح پر واضح فاصلوں کا باعث بن رہا ہے۔

ترکی نے فلسطینیوں کی کھل کر حمایت کی ہے اور اسرائیلی پالیسیوں کی سخت مذمت کی ہے، جبکہ آذربائیجان نے اس معاملے میں زیادہ تر غیر جانبدارانہ اور محتاط رویہ اختیار کر رکھا ہے۔

آذربائیجان کے اسرائیل کے ساتھ تجارتی اور دفاعی تعلقات بھی قائم ہیں، جہاں سے باکو کو دفاعی ڈرونز اور جدید عسکری ٹیکنالوجی حاصل ہوتی رہی ہے اور بدلے میں وہ اسرائیل کو خام تیل فراہم کرتا ہے۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے حالیہ اجلاس کے دوران بھی یہ اختلافات اُس وقت نمایاں ہوئے جب اسرائیلی وزیر اعظم کے خطاب پر متعدد ممالک نے ہال کا بائیکاٹ کیا لیکن آذربائیجانی نمائندہ ہال میں موجود رہا۔

ترکی کے میڈیا اور سیاسی حلقوں نے باکو کے اس رویے کو اپنے اتحادی کی توقعات کے برعکس قرار دیا اور اس اقدام پر کڑی تنقید کی جس سے دونوں ممالک میں سرد مہری کے تاثر کو تقویت ملی۔

اس کے علاوہ، ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے تعلیمی اداروں میں حجاب پر پابندی کے معاملے پر بھی تشویش ظاہر کی تھی، جسے آذربائیجان میں اندرونی معاملے میں مداخلت کے طور پر دیکھا گیا کیونکہ وہاں کی کابینہ نے ایک پابندی منظور کی تھی۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آذربائیجان کی ۷۰ سالہ سوویت تاریخ کے بعد وہاں کا سیاسی و معاشرتی ڈھانچہ ترکی کے مقابلے میں زیادہ سیکولر انداز کا حامل ہے، جس کے باعث مذہبی اور سیاسی ترجیحات مختلف ہیں۔

ماہرین کا یہ بھی ماننا ہے کہ اگرچہ بعض پالیسیوں اور بین الاقوامی تعلقات کے حوالے سے دونوں ممالک میں آراء کا اختلاف سامنے آیا ہے، تاہم ان کے مابین عسکری، معاشی اور جغرافیائی شراکت داری انتہائی مضبوط ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق ترکی اور آذربائیجان کے صدور کے درمیان مسلسل رابطوں اور آئندہ دوطرفہ ملاقاتوں کے نتیجے میں میڈیا میں اٹھنے والے یہ ابہامات اور عارضی سفارتی اختلافات جلد حل ہونے کی توقع ہے۔

اس موضوع پر مزید خبریں

دنیا کی تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
چیف ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر صحافی جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی ادارتی پالیسی، خبروں کی تصدیق اور معیار ان کی نگرانی میں ہے۔

  • نیوز ڈیسک — قومی، بین الاقوامی، عدالت اور جرم و سزا کی خبریں

ہمیں فالو کریں