بیلجیم میں وفاقی بجٹ کے معاملے پر حکومتی اتحاد کی پانچ جماعتوں کے درمیان مذاکرات ناکام ہو گئے ہیں۔
مذاکرات کی ناکامی کے نتیجے میں ملک میں شدید سیاسی بحران پیدا ہو گیا ہے۔
اس سیاسی بحران کی شدت کے پیش نظر وزیراعظم بارٹ ڈی ویور نے اپنے منصب سے استعفیٰ دے دیا ہے۔
غیر ملکی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق ملک کے بادشاہ فلپ نے وزیراعظم کا استعفیٰ فوری طور پر منظور نہیں کیا۔
بادشاہ فلپ نے مستعفی وزیراعظم کا استعفیٰ منظور کرنے کے بجائے اس پر فیصلہ فی الحال مؤخر کر دیا ہے۔
شاہی محل کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق بادشاہ فلپ اب اس بحران کے حل کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔
بادشاہ اس سلسلے میں حکومتی اتحادی جماعتوں کے سربراہان سے باضابطہ مشاورت کریں گے۔
اسی تناظر میں مستعفی ہونے والے وزیراعظم بارٹ ڈی ویور کو جمعہ 6 نومبر کو دوبارہ شاہی محل طلب کر لیا گیا ہے۔
شاہی محل کے جاری کردہ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ بیلجیم موجودہ معاشی حالات میں کسی بھی طویل سیاسی بحران کا متحمل نہیں ہو سکتا۔
بیان میں زور دیا گیا ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں ذاتی یا جماعتی مفاد کے بجائے قومی مفاد کو ترجیح دیں۔
شاہی محل نے سیاسی جماعتوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ آپسی اختلافات بھلا کر باہمی سمجھوتے کا راستہ اختیار کریں۔
رپورٹس کے مطابق حکومتی اتحاد میں شامل جماعتوں کے درمیان بعض اہم اقتصادی امور پر شدید اختلافات پائے جاتے تھے۔
یہ اختلافات خصوصاً سرکاری اخراجات میں کمی لانے اور دولت مند طبقے پر اضافی ٹیکس عائد کرنے کے معاملات پر تھے۔
اتحادی جماعتیں ان امور پر کسی متفقہ لائحہ عمل پر پہنچنے میں ناکام رہی ہیں جس کی وجہ سے یہ بحران پیدا ہوا۔
نائب وزیراعظم میکسم پریوو نے اس ساری صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے مؤقف اپنایا ہے کہ مالی بوجھ کی منصفانہ تقسیم ملک کے مستقبل کے لیے انتہائی ضروری ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اگر یہ سیاسی تعطل اسی طرح برقرار رہا تو ملک میں قبل از وقت انتخابات کرائے جانے کا امکان بھی موجود ہے۔
آئندہ چند روز میں سیاسی جماعتوں کے درمیان ہونے والی بات چیت کو اس بحران کے حل کے حوالے سے انتہائی اہم سمجھا جا رہا ہے۔
جمعہ 6 نومبر کو وزیراعظم کی بادشاہ کے ساتھ ہونے والی آئندہ ملاقات کو ملک کے سیاسی بحران کے مستقبل کے تعین کے لیے فیصلہ کن قرار دیا جا رہا ہے۔


اپنی رائے دیں