مواد پر جائیں
منگل، 3 نومبر 2026 23 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ:
تازہ
سپریم کورٹ نے بیوی پر تشدد کے ملزم آئی بی ملازم کی اپیل خارج کر دیسمندری طوفان مرسو انڈیا کے مشرقی ساحل سے ٹکرا گیابیلجیم میں سیاسی بحران، وفاقی بجٹ پر مذاکرات ناکام ہونے پر وزیراعظم نے استعفیٰ دے دیاامریکی سپریم کورٹ نے کیلیفورنیا میں بیلٹس روکنے کی ٹرمپ انتظامیہ کی درخواست مسترد کر دیپاک چین تعلقات کے استحکام کا اعادہ، چینی وزیر کا دورہ اسلام آبادمالی سال کی پہلی سہ ماہی میں معیشت مستحکم، زرِمبادلہ کے ذخائر میں نمایاں اضافہشمالی کوریا نے بائنس ہیکنگ میں ملوث ہونے کا امریکی الزام مسترد کر دیاایڈرین ہیملٹن مانس نے پی آئی اے کے نئے چیف ایگزیکٹو کی حیثیت سے ذمہ داریاں سنبھال لیںساؤتھ ایشین فٹ بال چیمپئن شپ: پاکستانی کوچ نے سیمی فائنل تک رسائی کا ہدف مقرر کر لیاامریکہ نے روانڈا اور ساؤتھ افریقہ کو ایگوآ سے نکالنے کا اعلان کیاایپل اور گوگل ایپ اسٹورز پر جنسی و پُرتشدد ڈیپ فیک اے آئی ایپس کا انکشافمظفرگڑھ: وراثتی زمین کے تنازع پر بھائی نے حاملہ بہن کو قتل کردیاپاکستان براڈکاسٹرز ایسوسی ایشن کے سالانہ اجلاس میں نئے عہدے داروں کا انتخابلاہور ہائیکورٹ کا نورین نیازی کی بیٹیوں سے ملاقات کروانے کا حکمفِیفا نے زوریخ میں کونسل اراکین کو ورلڈ کپ سیل‑آف دستاویزات تک محدود رسائی دیامریکی عدالت نے ایف بی آئی کے سابق اعلیٰ حکام کے خلاف کیس خارج کر دیامشرق وسطیٰ کی صورتحال، پاکستان میں آرامکو کے پیٹرول پمپس پر فروخت معطللاہور کے چلڈرن اسپتال میں چوہوں کی ویڈیو وائرل، انتظامیہ کا وضاحتی موقف سامنے آ گیاسانحہ پمز کے ذمہ داران کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی درخواست اسلام آباد ہائی کورٹ میں سماعت کیلئے مقررصادق محمد نے بابر اعظم کی بیٹنگ میں خامیوں کی نشاندہی کر دی
دنیا

سمندری طوفان مرسو انڈیا کے مشرقی ساحل سے ٹکرا گیا

ایک ہفتے کے دوران اس خطے سے ٹکرانے والا یہ دوسرا سمندری طوفان ہے، جس کے پیش نظر ہزاروں افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے۔

انڈیا کے محکمہ موسمیات کے مطابق سمندری طوفان مرسو منگل کے روز ملک کے مشرقی ساحل سے ٹکرا گیا ہے جس کے بعد ساحلی علاقوں میں الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔

یہ طوفان ایک ہفتے کے دوران اس خطے سے ٹکرانے والا دوسرا سمندری طوفان ہے جس کے باعث انتظامیہ اور ریسکیو اداروں کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔

محکمہ موسمیات کی جانب سے طوفان کے ساحل سے ٹکرانے کی تصدیق کی گئی ہے اور متاثرہ علاقوں میں ہنگامی تدابیر اختیار کی جا رہی ہیں۔

طوفان کے پیش نظر حکام نے حفاظتی اقدامات کے طور پر ہزاروں افراد کو متاثرہ علاقوں سے نکال کر محفوظ مقامات اور عارضی پناہ گاہوں میں منتقل کرنا شروع کر دیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ طوفان کے ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے تمام ضروری انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں تاکہ جانی نقصان سے بچا جا سکے۔

خطے میں طوفانی بارشوں اور تیز ہواؤں کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے جس سے نظام زندگی شدید متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

محکمہ موسمیات نے ماہی گیروں کو سمندر میں نہ جانے کی سخت ہدایات جاری کی ہیں کیونکہ ساحلی پٹی پر سمندری لہریں انتہائی بلند ہو سکتی ہیں۔

مقامی انتظامیہ نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور حکام کی ہدایت پر عمل کریں۔

انڈیا کے مشرقی ساحلی علاقوں میں اس سے قبل بھی طوفانوں کے باعث نقصان ہو چکا ہے جس کی وجہ سے اس بار انتظامیہ پہلے سے زیادہ چوکس ہے۔

قومی اور صوبائی سطح کے ڈیزاسٹر مینجمنٹ ادارے صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔

طوفان کے گزرنے کے بعد متاثرہ علاقوں میں نقصانات کا تخمینہ لگایا جائے گا اور بحالی کا کام شروع کیا جائے گا۔

متعلقہ محکموں نے عوام کو خبردار کیا ہے کہ طوفان کے اثرات مزید چند روز تک برقرار رہ سکتے ہیں اس لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنا نہایت ضروری ہے۔

اس موضوع پر مزید خبریں

دنیا کی تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
چیف ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر صحافی جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی ادارتی پالیسی، خبروں کی تصدیق اور معیار ان کی نگرانی میں ہے۔

  • نیوز ڈیسک — قومی، بین الاقوامی، عدالت اور جرم و سزا کی خبریں

ہمیں فالو کریں