خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے اور امریکہ اور ایران کے درمیان دیرینہ تنازعات کے حل کے لیے قطر کی فعال سفارتی کوششیں ایک بار پھر تیز ہو چکی ہیں۔ اس سلسلے میں قطری ثالثوں کا ایک اہم وفد جمعہ کی صبح ایران کے دارالحکومت تہران پہنچ گیا ہے تاکہ دونوں حریف ممالک کے درمیان معطل سفارتی رابطوں کو دوبارہ بحال کیا جا سکے۔
ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے آئی آر این اے کے مطابق یہ سفارتی مشن قطری وزیراعظم اور وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن بن جاسم آل ثانی کے سینئر مشیر کی قیادت میں تہران پہنچا ہے۔ اس اعلیٰ سطح کے وفد کی آمد کا بنیادی مقصد واشنگتن اور تہران کے مابین ممکنہ جنگ بندی معاہدے کی بحالی کے لیے فریقین کو ایک بار پھر مذاکرات کی میز پر لانا ہے۔
یہ سفارتی پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی دارالحکومت واشنگتن سے خطے کے حوالے سے متضاد اور مختلف نوعیت کے اشارے موصول ہو رہے ہیں۔ حالیہ دنوں میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی جانب سے ایران کے سیکیورٹی چیف محسن رضاعی کے نام ایک خط ارسال کیا گیا تھا جسے سفارتی حلقوں میں ایک اہم پیشرفت قرار دیا گیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق امریکی نائب صدر کا یہ خط تہران میں انتہائی مثبت انداز میں وصول کیا گیا ہے اور ایرانی حکام کی طرف سے اس کے مناسب جواب کے حوالے سے مختلف زاویوں پر غور کیا جا رہا ہے۔ قطری وفد کا تہران کا یہ دورہ اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے تاکہ ایرانی حکام سے باضابطہ جواب حاصل کیا جا سکے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے خلیجی ممالک کے اتحادیوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ وہ آئندہ ہفتے ہونے والے امریکی وسطی مدتی انتخابات کے بعد کسی بھی ممکنہ عسکری صورتحال کے لیے پوری طرح تیار رہیں۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس قسم کے بیانات کے بعد سفارتی سطح پر تناؤ کم کرنے کی کوششیں مزید تیز کر دی گئی ہیں۔
قطری وفد کی جانب سے ایرانی حکام تک پہنچائے جانے والے خط میں براہ راست امن کی کوئی مخصوص اور سخت شرائط پیش کرنے کے بجائے مذاکرات کے لیے ایک نئے اور لچکدار فریم ورک کی تجویز دی گئی ہے۔ اس سفارتی اقدام کا مقصد امریکہ کی طرف سے متوقع ممکنہ فضائی حملوں یا سخت عسکری کارروائیوں کے سلسلے کو روکنا ہے۔
تہران میں موجود باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی نائب صدر کے اس خط کا مجموعی لہجہ پچھلی امریکی انتظامیہ کے بیانات اور رویے کے مقابلے میں کافی احترام والا تھا جسے تہران میں قدر کی نگاہ سے دیکھا گیا۔ تاہم، اس کے باوجود ایرانی حکومت کی جانب سے تاحال کوئی حتمی سرکاری ردعمل عوامی سطح پر سامنے نہیں آیا ہے۔
قطری وفد اپنے اس دورے کے دوران تہران میں قیام کے دوران ایرانی اعلیٰ حکام اور وزارت خارجہ کے نمائندوں سے اہم ملاقاتیں کرے گا۔ ان ملاقاتوں میں خطے کی موجودہ پیچیدہ سیکیورٹی صورتحال، دوطرفہ امور اور آئندہ کے مذاکرات کے مراحل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
سفارتی ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ قطری وفد کا یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان خلیجی ملک کے توسط سے تعطل کا شکار رابطہ بحال کرنے کا ایک سنہری موقع فراہم کرتا ہے۔ اس مشن کی کامیابی سے خطے میں جاری کشیدگی میں کمی لانے میں مدد مل سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اگر فریقین کے درمیان جاری یہ پس پردہ بات چیت مثبت سمت میں آگے بڑھتی ہے تو آئندہ ایک ہفتے کے اندر قطر کے دارالحکومت دوحہ یا ترکی کے شہر استنبول میں ایک اور اعلیٰ سطحی ملاقات متوقع ہے۔ اس ممکنہ اجلاس میں دونوں فریقین مذاکرات کے باضابطہ آغاز اور اس کی شرائط پر بات چیت کریں گے۔
خطے کے سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ قطر کی یہ ثالثی مشرق وسطیٰ میں کسی بھی بڑی فوجی محاذ آرائی کو روکنے میں انتہائی اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان طویل عرصے سے جاری کشیدگی نے پہلے ہی خطے کے امن و امن کو شدید خطرے میں ڈال رکھا ہے۔
قطر اس سے قبل بھی بین الاقوامی تنازعات کے حل میں ایک کامیاب ثالث کا کردار ادا کرتا رہا ہے اور اس بار بھی امریکی ایرانی تعلقات میں جمی برف کو پگھلانے کی سنجیدہ کوشش کر رہا ہے۔ عالمی برادری کی نظریں تہران میں ہونے والی ان خفیہ ملاقاتوں اور قطری وفد کے مشن کی کامیابی پر مرکوز ہیں۔
آئندہ چند روز کے دوران یہ بات بالکل واضح ہو جائے گی کہ تہران واشنگتن کی اس نئی سفارتی پیشکش پر کیا حتمی موقف اختیار کرتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ بھی دیکھنا باقی ہے کہ آیا فریقین ایک بار پھر مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کے لیے تیار ہوتے ہیں یا نہیں۔



اپنی رائے دیں