مواد پر جائیں
جمعہ، 16 اکتوبر 2026 5 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: رات 1:17
بریکنگ
حکومت کا پیٹرول کی قیمت میں کمی، ہائی اسپیڈ ڈیزل مہنگا کرنے کا اعلانحکومت کا پاسپورٹ کے اجرا میں بڑا فیصلہ، ای پاسپورٹ فیسوں میں اضافہحکومت کا پیٹرول سستا، ڈیزل کی قیمت میں معمولی اضافہپشاور سکول سانحہ: انتظامیہ کی سنگین غفلت کے انکشافات، ابتدائی رپورٹ تیاریمن: صدارتی کمپلیکس پر حوثیوں کے میزائل حملے، 2 سکیورٹی اہلکار جاں بحقیمن: عدن میں صدارتی محل پر حوثیوں کا میزائل حملہ، وزیراعظم محفوظپشاور: اسکول کی چھت گرنے کا واقعہ، شہر کے بڑے اسپتالوں میں ہیلتھ ایمرجنسی نافذجنوبی وزیرستان: نامعلوم افراد کی فائرنگ سے سب انسپکٹر شہید، طالب علم زخمیوزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی چینی ہم منصب سے ملاقات، معاشی تعاون پر اتفاقحنا جاوید قتل کیس: تفتیشی ٹیم کا شوہر کو بے گناہ قرار، اہلخانہ کا عدم اعتمادلندن: ایون فیلڈ کے باہر نقاب پوش افراد کا نواز شریف کی گاڑی پر حملہکراچی: کینیڈا سے آئے میاں بیوی کے قتل کی تحقیقات میں اہم پیشرفتیورپ میں ویسٹ نائل وائرس کا پھیلاؤ، ہلاکتوں کی تعداد 150 کے قریب پہنچ گئیاسرائیل نے مشرق وسطیٰ تنازع میں اخلاقی برتری کھو دی ہے، باراک اوباماسندھ میں لائیو اسٹاک کی افزائش کیلئے جدید ٹیکنالوجی کا پروگرام متعارفایف بی آر نے انکم ٹیکس گوشوارے جمع کروانے کی تاریخ میں 31 اکتوبر تک توسیع کر دیبلاول بھٹو اور محسن نقوی کی ملاقات، خیبرپختونخوا کی صورتحال پر تبادلہ خیالدیہی خواتین کی معاشی خود مختاری پنجاب کی ترقی کا ضامن ہے، مریم نوازپاکستان ہاکی کی بحالی کیلئے نوجوان کھلاڑیوں کی سرپرستی ناگزیر ہے، احسن اقبالوزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی آئی او ایم کی ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل سے ملاقات
دنیا

اسرائیل نے مشرق وسطیٰ تنازع میں اخلاقی برتری کھو دی ہے، باراک اوباما

سابق امریکی صدر نے شمالی آئرلینڈ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فوجی طاقت پائیدار سلامتی کی ضمانت نہیں دے سکتی۔

اسرائیل نے مشرق وسطیٰ تنازع میں اخلاقی برتری کھو دی ہے، باراک اوباما

سابق امریکی صدر باراک اوباما نے مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتحال اور غزہ میں جاری کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل نے اس تنازعے کے دوران اپنی اخلاقی برتری کھو دی ہے۔

یہ بیان سابق امریکی صدر نے شمالی آئرلینڈ کے شہر بیلفاسٹ میں ایک تقریب کے دوران معروف مصنفہ اور صحافی سوزن میکے کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے دیا، جس کی بازگشت عالمی سطح پر سنی جا رہی ہے۔

اوباما نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا کہ محض فوجی طاقت کا استعمال کسی بھی صورت میں پائیدار امن اور سلامتی کی ضمانت فراہم نہیں کر سکتا، جو کہ خطے کے لیے انتہائی ضروری ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ فلسطینیوں کو بنیادی حقوق اور رعایتیں دینے سے مسلسل انکار کرنا اسرائیل کی عالمی سطح پر اخلاقی پوزیشن کو کمزور کرنے کا باعث بن رہا ہے، جس کے نتائج طویل مدت میں نقصان دہ ہو سکتے ہیں۔

غزہ میں جاری جنگ اور تشدد کے واقعات پر بات کرتے ہوئے سابق صدر نے کہا کہ اس تباہ کن صورتحال سے دنیا کے ہر باضمیر انسان کو تکلیف ہونی چاہیے، کیونکہ یہ ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ معلوم ہوتا ہے۔

انہوں نے اس تنازعے کو تاریخی شکایات، سخت گیر رویوں اور گہری سماجی تقسیم کا نتیجہ قرار دیا، جس نے پورے خطے کو ایک ایسے تباہ کن چکر میں دھکیل دیا ہے جہاں سے نکلنا مشکل نظر آتا ہے۔

باراک اوباما نے یورپ میں یہودی عوام کو درپیش تاریخی ظلم و ستم اور مشکلات کا اعتراف کیا، تاہم انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ فلسطینیوں نے اپنی زمینوں سے محرومی اور ناانصافی کا سامنا کیا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ فلسطینیوں کی جانب سے اپنی زمینوں کی واپسی کا مطالبہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے، جسے نظر انداز کر کے خطے میں دیرپا امن کا قیام کسی بھی طور پر ممکن نہیں ہے۔

سابق صدر نے کہا کہ اگر اسرائیل کا رویہ یہ رہا کہ وہ خطے میں سب سے زیادہ طاقتور اور تکنیکی اعتبار سے ترقی یافتہ ہونے کے ناطے اپنی مرضی مسلط کرے گا، تو یہ حکمت عملی قلیل مدت کے لیے شاید کارگر ہو۔

تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر اسرائیل کسی بھی قسم کی رعایت دینے سے انکار کرتا ہے اور صرف طاقت کے زور پر اپنے اہداف حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے، تو وہ اپنی اخلاقی بنیادیں کھو دے گا۔

اوباما کے اس بیان کو مشرقِ وسطیٰ کے تنازع پر امریکی حلقوں میں ایک اہم اور واضح مؤقف کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس میں انہوں نے طاقت کے بجائے سفارتکاری اور انصاف پر مبنی حل کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ سابق امریکی صدر کے یہ ریمارکس اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ عالمی سطح پر اسرائیل کی پالیسیوں پر تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے اور امن کے لیے نئے زاویوں کی تلاش ضروری ہے۔

خطے میں جاری کشیدگی کے باعث انسانی المیہ جنم لے چکا ہے، اور اوباما کے الفاظ اس بات کی یاد دہانی ہیں کہ کسی بھی تنازع کے حل کے لیے اخلاقی اقدار اور انسانی حقوق کا احترام بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔

دنیا کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں