یورپ بھر میں ویسٹ نائل وائرس کے کیسز میں تشویشناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جس کے نتیجے میں رواں برس اب تک ہلاکتوں کی تعداد 150 کے قریب پہنچ چکی ہے۔ یورپی ادارہ برائے انسداد امراض نے صورتحال کو سنگین قرار دیا ہے۔
یورپی فوڈ سیفٹی اتھارٹی اور یورپی سینٹر فار ڈیزیز پریوینشن اینڈ کنٹرول کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، سال 2026 کے آغاز سے اب تک براعظم کے 18 ممالک میں وائرس کے پھیلاؤ کی تصدیق ہو چکی ہے۔
رپورٹ کے مطابق اب تک متاثرہ افراد کی کل تعداد 1855 تک جا پہنچی ہے، جن میں سے 141 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ یہ تعداد گزشتہ ایک دہائی کے دوران ریکارڈ کیے گئے اوسط کیسز سے کہیں زیادہ ہے جو کہ تشویش کا باعث ہے۔
یورپی حکام کا کہنا ہے کہ ستمبر کے بعد سے اب تک 769 نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وائرس کا پھیلاؤ تاحال رکنے کا نام نہیں لے رہا۔ اس صورتحال نے صحت عامہ کے اداروں کو الرٹ کر دیا ہے۔
یورپی یونین اور یورپی اکنامک ایریا میں کیسز کی مجموعی تعداد 1715 تک پہنچ چکی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ تعداد گزشتہ برسوں کے مقابلے میں غیر معمولی ہے اور وائرس کے پھیلاؤ کی رفتار نے تمام سابقہ ریکارڈز کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔
متاثرہ ممالک میں اٹلی سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے جہاں اب تک 748 کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔ اس کے علاوہ یونان میں 445 اور فرانس میں 144 افراد کے متاثر ہونے کی تصدیق کی گئی ہے، جہاں انتظامیہ حفاظتی اقدامات کر رہی ہے۔
یورپی فوڈ سیفٹی اتھارٹی کی سائنسی افسر گیوسی امورے نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس سال یورپ میں ویسٹ نائل وائرس کی سطح ریکارڈ بلندی پر ہے۔ انسانوں اور جانوروں میں اس کا پھیلاؤ ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔
ویسٹ نائل وائرس بنیادی طور پر مچھروں کے کاٹنے سے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ مچھروں کی افزائش کو روکنے اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے سے ہی اس وائرس کے پھیلاؤ کو قابو میں لایا جا سکتا ہے۔
صحت کے عالمی اداروں نے یورپی شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ مچھروں سے بچاؤ کے لیے خصوصی احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔ خاص طور پر کھڑے پانی کو ختم کرنا اور مچھر دانی کا استعمال اس وائرس سے بچاؤ میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔
حکام کی جانب سے متاثرہ علاقوں میں مچھر مار اسپرے اور آگاہی مہمات کا سلسلہ بھی تیز کر دیا گیا ہے۔ طبی ماہرین نے عوام کو ہدایت کی ہے کہ بخار یا علامات ظاہر ہونے پر فوری طور پر قریبی طبی مرکز سے رجوع کریں۔
یورپی یونین کے ممالک اس وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے باہمی تعاون بڑھا رہے ہیں۔ مختلف ممالک کے درمیان ڈیٹا کا تبادلہ کیا جا رہا ہے تاکہ وائرس کے پھیلاؤ کے نمونوں کو سمجھ کر بروقت تدارک کیا جا سکے۔
ماہرین کا یہ بھی ماننا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں اور درجہ حرارت میں اضافے کے باعث مچھروں کی افزائش کے لیے سازگار ماحول پیدا ہو رہا ہے، جس کی وجہ سے یورپ جیسے خطوں میں بھی ایسے وائرس تیزی سے پھیل رہے ہیں۔
آئندہ آنے والے دنوں میں یورپی ہیلتھ ایجنسیاں صورتحال کی مسلسل نگرانی کریں گی۔ عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ حکومتی ہدایات پر عمل کریں اور کسی بھی قسم کی افواہوں پر کان دھرنے کے بجائے مستند طبی ذرائع سے معلومات حاصل کریں۔





اپنی رائے دیں