اسرائیل کے سب سے طویل عرصے تک وزیرِ اعظم رہنے والے بنیامین نیتن یاہو ایک بار پھر 27 اکتوبر کو ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں ساتویں بار اقتدار حاصل کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ نیتن یاہو، جو خود کو ’مسٹر سکیورٹی‘ کے طور پر پیش کرتے ہیں، اس بار ایک انتہائی مشکل سیاسی ماحول میں انتخابی میدان میں اُتر رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق سات اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال نے اسرائیلی ووٹرز کے فیصلوں پر گہرا اثر ڈالا ہے۔ بہت سے اسرائیلی شہری اس واقعے کو ملک کی تاریخ کی بدترین سکیورٹی ناکامی قرار دیتے ہیں، جس سے نیتن یاہو کی سیاسی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
نیتن یاہو نے تسلیم کیا ہے کہ اس سکیورٹی ناکامی کی کچھ ذمہ داری ان پر بھی عائد ہوتی ہے، تاہم ان کا موقف ہے کہ اس میں اعلیٰ فوجی اور سکیورٹی حکام بھی برابر کے شریک ہیں۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ حملے سے قبل اہم انتباہات ان تک بروقت نہیں پہنچائے گئے۔
انتخابی میدان میں نیتن یاہو کو سخت مقابلے کا سامنا ہے۔ اپوزیشن اتحاد میں سابق وزیرِ اعظم نفتالی بینیٹ اور اسرائیلی فوج کے سابق سربراہ گادی آئزنکوٹ جیسی شخصیات نمایاں ہیں۔ رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق دائیں بازو کے اتحاد اور اپوزیشن کے درمیان کانٹے کا مقابلہ متوقع ہے۔
نیتن یاہو کو نہ صرف سیاسی چیلنجز کا سامنا ہے بلکہ وہ بدعنوانی کے الزامات سے متعلق فوجداری مقدمات کا بھی سامنا کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ نومبر 2024 میں بین الاقوامی فوجداری عدالت نے ان کے اور سابق وزیرِ دفاع یوآو گیلنٹ کے خلاف وارنٹِ گرفتاری جاری کیے تھے۔
عدالت کی جانب سے یہ وارنٹ غزہ میں جاری فوجی کارروائیوں کے دوران جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات کے تحت جاری کیے گئے تھے۔ نیتن یاہو اور ان کے ساتھیوں نے ان تمام الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد قرار دیا ہے۔
بنیامین نیتن یاہو 1949 میں تل ابیب میں پیدا ہوئے اور ابتدائی زندگی کا کچھ حصہ امریکہ میں گزارا۔ 18 برس کی عمر میں اسرائیل واپسی پر انہوں نے فوج کے خصوصی کمانڈو یونٹ میں خدمات انجام دیں۔ 1973 کی عرب اسرائیل جنگ میں بھی انہوں نے حصہ لیا۔
ان کا سیاسی سفر 1980 کی دہائی میں شروع ہوا جب وہ اقوامِ متحدہ میں اسرائیل کے مستقل نمائندے مقرر ہوئے۔ 1996 میں وہ پہلی بار اسرائیل کے وزیرِ اعظم منتخب ہوئے، جو اس وقت ان کی کم عمری کے باعث ایک اہم سیاسی پیش رفت سمجھی جاتی تھی۔
اپنے طویل سیاسی کیریئر کے دوران نیتن یاہو نے کئی اتار چڑھاؤ دیکھے ہیں۔ 1999 میں انہیں شکست کا سامنا کرنا پڑا، لیکن بعد کے برسوں میں وہ دوبارہ ملکی سیاست کے مرکزی کردار کے طور پر ابھرے۔ وہ دائیں بازو اور مذہبی ووٹرز میں خاصی مقبولیت رکھتے ہیں۔
نیتن یاہو کی حکومت نے سخت گیر مذہبی یہودی طلبہ کے لیے فوجی خدمت سے استثنا میں توسیع کی کوشش کی، جو ان کے روایتی حمایتی طبقے کا ایک دیرینہ مطالبہ تھا۔ یہ اقدام بھی ان کے سیاسی بیانیے کا ایک اہم حصہ رہا ہے۔
غزہ میں جاری فوجی کارروائیوں پر نیتن یاہو کو عالمی سطح پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔ اقوامِ متحدہ اور دیگر عالمی اداروں نے غزہ میں ہونے والی ہلاکتوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے، جس کا اثر ان کے بین الاقوامی تعلقات پر بھی پڑا ہے۔
انتخابات کے قریب آتے ہی یہ سوال شدت اختیار کر گیا ہے کہ آیا اسرائیلی عوام سات اکتوبر کی سکیورٹی ناکامی اور موجودہ جنگی پالیسیوں کے باوجود نیتن یاہو پر دوبارہ اعتماد کا اظہار کریں گے یا نہیں۔ یہ انتخابات اسرائیل کی حالیہ تاریخ کے اہم ترین سیاسی معرکوں میں شمار کیے جا رہے ہیں۔
نیتن یاہو نے ہمیشہ مشکل حالات سے نکلنے کی صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے۔ ان کے حامیوں کا اب بھی ماننا ہے کہ وہ قومی سلامتی کے امور پر سب سے موزوں رہنما ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ 27 اکتوبر کے نتائج ان کے سیاسی مستقبل کا کیا فیصلہ کرتے ہیں۔



اپنی رائے دیں