وزیر مملکت اور چیئرمین پیوارا بلال بن ثاقب کا کہنا ہے کہ سائبر حملے کسی بھی ٹیکنالوجی کی ناکامی کا نتیجہ نہیں ہوتے بلکہ یہ سیکیورٹی پروٹوکول میں موجود کمزوریوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔
انہوں نے یہ بات لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز میں ڈیجیٹل اثاثوں اور بینکاری کے مستقبل کے موضوع پر منعقدہ ایک مکالمے سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
بلال بن ثاقب نے کہا کہ ان کمزوریوں کی بروقت نشاندہی کرنے کے بعد انہیں فوری طور پر دور کرنا انتہائی ضروری ہے تاکہ کسی بھی بڑے نقصان سے بچا جا سکے۔
ان کا کہنا تھا کہ ملک کے ڈیجیٹل مالیاتی انفراسٹرکچر کو مکمل طور پر محفوظ، مستحکم اور مستقبل کے تمام تقاضوں سے ہم آہنگ بنایا جانا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔
وزیر مملکت نے مزید کہا کہ پاکستان کو عالمی مالیاتی منظرنامے میں اپنا نمایاں مقام حاصل کرنے کے لیے مالیاتی جدت اور جدید ترین ٹیکنالوجی اپنانا ہوگی۔
انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان محض ٹیکنالوجی کا صارف بننے کے بجائے اب عالمی مالیاتی نظام کے نئے قواعد کی تشکیل میں بھی اپنا بھرپور کردار ادا کر رہا ہے۔
ان کا ماننا تھا کہ ڈیجیٹل اثاثے اور بلاک چین ٹیکنالوجی ملکی مالیاتی نظام میں ایک انقلابی تبدیلی لانے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔
بلاک چین ٹیکنالوجی کے امکانات صرف بٹ کوائن اور کرپٹو کرنسی ٹریڈنگ تک محدود نہیں بلکہ اس کا دائرہ کار اس سے کہیں زیادہ وسیع تر ہے۔
ڈیجیٹل اثاثوں کے فروغ سے نہ صرف مالیاتی شمولیت میں اضافہ ہوگا بلکہ ملک میں سرمایہ کاری کے نئے مواقع بھی وسیع ہوں گے۔
بلال بن ثاقب نے کہا کہ پاکستان کو مستقبل کے مالیاتی نظام میں اپنا کردار خود متعین کرنا ہوگا جس کے لیے بینکوں اور اسٹیٹ بینک کے ساتھ مل کر کام کرنا ناگزیر ہے۔
مالیاتی استحکام کو برقرار رکھتے ہوئے جدت کو فروغ دینے کے لیے ایک سازگار ریگولیٹری ماحول کا ہونا بھی ضروری ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ترسیلات زر کی لاگت میں محض دو سے تین فیصد کمی کرکے ملکی معیشت میں ایک ارب ڈالر کے لگ بھگ اضافی رقم لائی جا سکتی ہے۔
پاکستان کی تقریباً اکتالیس ارب ڈالر کی سالانہ ترسیلات زر کے نظام کو جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے مزید مؤثر بنایا جا سکتا ہے۔
ترسیلات زر کی لاگت میں کمی لانے کے لیے پیوارا اور اسٹیٹ بینک اس وقت ایک مشترکہ ورکنگ گروپ کی سطح پر کام کر رہے ہیں۔
اس کے علاوہ خلیجی ممالک سے پاکستان آنے والی ترسیلات زر کے لیے ایک خصوصی پائلٹ منصوبے پر بھی سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے۔
بینکوں کو مشترکہ مالیاتی انفراسٹرکچر، کسٹڈی سروسز اور سائبر سیکیورٹی کے شعبوں میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون بڑھانا ہوگا۔
پیوارا، اسٹیٹ بینک اور سیکیوریٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان مالیاتی جدت کے فروغ کے لیے باہمی اشتراکِ عمل سے کام کر رہے ہیں۔
بیرون ملک مقیم پاکستانی فن ٹیک ماہرین کی پیشہ ورانہ مہارتوں سے استفادہ کرنا ملک کے حق میں بہترین ثابت ہوگا۔
ملک کا بینکاری شعبہ پاکستان کو مالیاتی جدت کا ایک بڑا علاقائی مرکز بنانے میں انتہائی کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔

اپنی رائے دیں