مواد پر جائیں
جمعہ، 23 اکتوبر 2026 12 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: شام 7:59
بریکنگ
گوادر میں دہشت گردی کی بڑی کوشش ناکام، خاتون سمیت 10 دہشت گرد ہلاکلسبیلہ میں کوچ اور وین میں خوفناک تصادم، 12 افراد جاں بحقراولپنڈی: گھر سے دو خواتین کی تشدد زدہ لاشیں برآمد، مقدمہ درجوفاق کا خیبرپختونخوا کیلئے 160 ارب روپے کے فنڈز کی فراہمی کا وعدہدہشت گردوں کو ہر جگہ نشانہ بنائیں گے، فیلڈ مارشل سید عاصم منیرایرانی پاسداران انقلاب کا خلیج فارس میں 7 غیر ملکی بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰلاہور کی فضا زہریلی، ایئر کوالٹی انڈیکس 300 سے تجاوز کر گیابلوچستان کے علاقے دالبندین میں زلزلے کے جھٹکے، شدت 5.1 ریکارڈکراچی: آن لائن نیٹ ورک کے شکنجے میں پھنسی 13 سالہ بچی کو بازیاب کر لیا گیالاہور: مزنگ میں اسکوٹی سوار لڑکی پر تشدد کرنے والا ملزم گرفتارگوادر میں سکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کا بڑا حملہ ناکام بنا دیامشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی، ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگی خطرات میں اضافہہالی ووڈ اداکارہ جینا اورٹیگا اپنی فلمیں اور تبصرے کیوں نہیں دیکھتیں؟اسحاق ڈار کی مصری وزیر خارجہ سے ملاقات، تجارت و دفاع میں تعاون بڑھانے پر اتفاقبالی ووڈ اداکارہ ملائیکہ اروڑا کی شیخ زاید مسجد آمد، تصاویر وائرلبینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں 24 ارب روپے کی مالی بے ضابطگیوں کا انکشافپورٹ قاسم پر ایل پی جی کی درآمد، دو جہاز لنگراندازکومل عزیز خان کا شوبز انڈسٹری کو مستقل خیرباد کہنے کا اعلانانٹرنیٹ پر خوشبوئیں شیئر کرنے کی جدید سینٹرونک ٹیکنالوجی تیارلاہور میں فضائی آلودگی میں کمی، ایئر کوالٹی انڈیکس 178 ریکارڈ
پاکستان

بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں 24 ارب روپے کی مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف

قومی اسمبلی میں پیش کردہ دستاویزات کے مطابق ایک لاکھ سے زائد سرکاری ملازمین اور ان کے شریک حیات نے مستحقین کے فنڈز وصول کیے۔

بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں 24 ارب روپے کی مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) ملک کے غریب اور نادار طبقات کی مالی معاونت کے لیے قائم کیے جانے والے معروف فلاحی ادارے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں اربوں روپے کی مالی بے ضابطگیوں کا ہولناک انکشاف سامنے آیا ہے۔ وزارت تخفیف غربت اور سماجی تحفظ کی جانب سے قومی اسمبلی کے اجلاس میں پیش کی گئی توثیقی دستاویزات کے مطابق پروگرام سے ایک لاکھ سے زائد نااہل سرکاری ملازمین نے فنڈز وصول کیے۔

اس انتہائی حساس اور چونکا دینے والے معاملے میں مجموعی طور پر چوبیس ارب روپے کی مالی بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی گئی ہے جو کہ غریب عوام کے حق پر مبینہ ڈاکہ ڈالنے کے مترادف ہے۔ سرکاری ریکارڈ کے مطابق اس بدعنوانی اور فنڈز کی غیر قانونی منتقلی سے مستحق خاندانوں کی حق تلفی ہوئی ہے جن کے لیے یہ امدادی رقم مختص کی گئی تھی۔

قومی اسمبلی میں پیش کی گئی تفصیلات سے یہ بات بھی عیاں ہوئی ہے کہ مالی سال دو ہزار انیس اور بیس کے دوران سرکاری ملازمین اور پنشنرز نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سے تئیس ارب تیرہ کروڑ روپے کی بھاری رقم وصول کی۔ حیرت انگیز طور پر دو ہزار انیس میں ان بے ضابطگیوں کی واضح نشاندہی کیے جانے کے باوجود مبینہ طور پر چھ سال تک نادار افراد کے فنڈز کی غیر متعلقہ افراد کو ادائیگیاں جاری رہیں۔

دستاویزات میں مزید انکشاف کیا گیا ہے کہ متعلقہ اداروں کی طرف سے ملازمین کی نشاندہی کے بعد بھی نوی کروڑ روپے کی مزید ادائیگیاں کی جاتی رہیں جو انتظامی نگرانی اور احتساب کے نظام پر بڑا سوالیہ نشان ہے۔ اس غفلت اور لاپرواہی نے فلاحی اداروں کے اندرونی کنٹرول سسٹمز کی کارکردگی کو بھی شدید تنقید کی زد میں لا کھڑا کیا ہے۔

ریکارڈ کے جائزے سے معلوم ہوتا ہے کہ مالی سال دو ہزار بیس اور اکیس میں بارہ ہزار سے زائد سرکاری ملازمین نے چودہ کروڑ سٹھ لاکھ روپے سے زائد کی رقم حاصل کی۔ اس کے بعد کے برسوں میں بھی اس طرح کی غیر قانونی وصولیوں کا سلسلہ کسی نہ کسی شکل میں برابر جاری رہا اور مختلف مالی سالوں میں سرکاری عملہ امدادی رقوم سے مستفید ہوتا رہا۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق مالی سال دو ہزار اکیس اور بائیس میں دو ہزار چار سو سینتالیس، جبکہ مالی سال دو ہزار بائیس اور تئیس میں دو ہزار دو سو پینتیس سرکاری ملازمین اس عمل میں ملوث پائے گئے۔ اس کے علاوہ مالی سال دو ہزار تئیس اور چوبیس کے دوران دو سو ستائیس سرکاری ملازمین نے بھی یہ امدادی رقوم اپنے نام کروائیں۔

اسی طرح تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق مالی سال دو ہزار چوبیس اور پچیس میں بھی بارہ ہزار سے زائد سرکاری ملازمین کی جانب سے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے فنڈز وصول کرنے کے شواہد سامنے آئے۔ ان تمام اعداد و شمار نے پارلیمنٹ میں ایک طوفان کھڑا کر دیا ہے اور اراکین پارلیمنٹ نے اس معاملے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

رپورٹ میں اس بات کی بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ ان مالی بے ضابطگیوں میں اکیلے سرکاری ملازمین ہی ملوث نہیں تھے بلکہ ان کے شریک حیات بھی اس غیر قانونی عمل میں برابر کے شریک رہے۔ اس مکہ مکروہ نیٹ ورک میں حیرت انگیز طور پر بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے اپنے دو سو چھتیس ملازمین کے نام بھی شامل پائے گئے ہیں۔

فلاحی پروگرام کے اندر اپنے ہی ملازمین کا اس نوعیت کی بے ضابطگیوں میں ملوث ہونا ادارے کے اندرونی احتساب پر سنگین سوالات اٹھاتا ہے۔ وفاقی حکومت اور متعلقہ اداروں نے اس معاملے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے ملوث افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کرنے کا تہیہ کر رکھا ہے۔

اربوں روپے کی اس مبینہ کرپشن اور بے ضابطگیوں کے مقابلے میں اب تک کی جانے والی ریکوری کی رفتار انتہائی سست اور نامناسب دکھائی دیتی ہے۔ دستیاب دستاویزات کے مطابق چوبیس ارب روپے کی بڑی رقم کے مقابلے میں اب تک صرف اکیس کروڑ یا مجموعی طور پر لگ بھگ اکہتر کروڑ روپے ہی ریکور کیے جا سکے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی تحقیقاتی ادارے یعنی ایف آئی اے نے مالی بے ضابطگیوں میں ملوث سرکاری ملازمین سے چونسٹھ کروڑ روپے کی خطیر رقم برآمد کی۔ اس کے علاوہ دیگر سرکاری محکموں نے چودہ کروڑ پچاس لاکھ روپے کی ریکوری کرنے میں کامیابی حاصل کی جو کہ کل خسارے کا بہت چھوٹا حصہ ہے۔

ادھر بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی انتظامیہ نے اپنے ملوث پائے جانے والے ملازمین سے دو کروڑ پندرہ لاکھ روپے کی رقم واپس وصول کی۔ اس طرح تمام متعلقہ اداروں کی مشترکہ کوششوں کے باوجود کل ملا کر تقریبا ستر کروڑ پینسٹھ لاکھ روپے ہی سرکاری خزانے میں واپس لائے جا سکے ہیں۔

ریکوری کی اس انتہائی کم مقدار اور مجموعی بے ضابطگیوں کی کثیر رقم کے درمیان پایا جانے والا یہ اکھاڑ پچھاڑ اور بڑا فرق حکومتی نگرانی کے نظام کی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے۔ عوامی حلقوں اور پارلیمانی اراکین کی جانب سے اس بات کا شدت سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ تمام لوٹی گئی رقم پائی پائی کر کے واپس لی جائے۔

بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی انتظامیہ نے انکشافات کے بعد تمام مالی بے ضابطگیوں میں ملوث سرکاری ملازمین اور افراد کا مکمل ریکارڈ متعلقہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ارسال کر دیا ہے۔ اداروں کی جانب سے اس ریکارڈ کی روشنی میں مزید قانونی کارروائی اور چھان بین کا عمل تیزی سے آگے بڑھایا جا رہا ہے۔

معاملے کی تہہ تک پہنچنے اور آئندہ اس قسم کی غفلت کو روکنے کے لیے ایک انتہائی اہم فیصلہ کیا گیا ہے جس کے تحت چھ لاکھ سے زائد سرکاری ملازمین اور پنشنرز کے ریکارڈ کی جانچ پڑتال کی جائے گی۔ اس جامع اسکریننگ کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ آئندہ کوئی بھی غیر مستحق سرکاری ملازم قومی خزانے سے غریبوں کا حق نہ مار سکے۔

پاکستان کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں