راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں پاکستان اور سری لنکا کی کرکٹ ٹیمیں سہ ملکی ون ڈے سیریز کے پہلے میچ میں آمنے سامنے ہیں۔ اس اہم مقابلے کا آغاز ٹاس کے ساتھ ہوا جہاں سری لنکن کپتان نے بخت کا سکہ اپنے حق میں کرنے کے بعد پہلے فیلڈنگ کرنے کا فیصلہ کیا۔
مہمان ٹیم کے اس فیصلے کے بعد قومی کرکٹ ٹیم کے بیٹرز کو پچ پر اتر کر پہلے بیٹنگ کرنے کی دعوت دی گئی ہے۔ میچ کے آغاز سے قبل دونوں ٹیموں کے درمیان روایتی رسمی کارروائیاں مکمل کی گئیں اور کھلاڑی میدان میں اترے۔
قومی ٹیم کے کپتان شاہین شاہ آفریدی کا کہنا تھا کہ اگر وہ بھی ٹاس جیت جاتے تو پہلا فیصلہ بیٹنگ کا ہی کرتے۔ انہوں نے پچ کی کنڈیشنز کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وکٹ کافی تازہ اور بہتر دکھائی دے رہی ہے۔
قومی ٹیم کی قیادت کرنے والے فاسٹ باؤلر نے عزم ظاہر کیا کہ ان کی ٹیم اس سازگار پچ پر تین سو رنز یا اس سے زائد کا بڑا ٹوٹل بورڈ پر سجانے کی بھرپور کوشش کرے گی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ بیٹرز ذمہ دارانہ کھیل کا مظاہرہ کریں گے۔
اس اہم میچ کے لیے پاکستان کی پلئینگ الیون میں کئی اہم کھلاڑی شامل ہیں جن میں صائم ایوب، فخر زمان، اور تجربہ کار بیٹر بابر اعظم کے نام نمایاں ہیں۔ سلیکٹرز نے ٹیم میں توازن برقرار رکھنے کے لیے مختلف کمبینیشنز کو موقع فراہم کیا ہے۔
بیٹنگ لائن اپ کو استحکام دینے کے لیے حسن نواز اور سلمان علی آغا بھی قومی اسکواڈ کا حصہ ہیں۔ ٹیم مینجمنٹ کو امید ہے کہ مڈل آرڈر کے یہ کھلاڑی ٹیم کے لیے اہم رنز بنانے میں کامیاب ہوں گے۔
اس میچ میں نوجوان وکٹ کیپر بیٹر سعد بیگ نے پاکستان کی جانب سے ون ڈے انٹرنیشنل کرکٹ میں اپنا ڈیبیو کیا ہے۔ ڈومیسٹک کرکٹ میں شاندار کارکردگی کا صلہ پانے والے اس کھلاڑی کی شمولیت سے ٹیم کو نئی توانائی ملی ہے۔
قومی ٹیم کے کپتان شاہین شاہ آفریدی کے مطابق سعد بیگ اس میچ میں نمبر چار پر بیٹنگ کی ذمہ داری نبھائیں گے۔ ٹیم انتظامیہ کو اس نوجوان کھلاڑی سے اچھی کارکردگی کی توقع ہے۔
دیگر کھلاڑیوں میں منہاس عرفات، تجربہ کار آل راؤنڈر فہیم اشرف اور خود کپتان شاہین شاہ آفریدی بھی ٹیم کا حصہ ہیں۔ بولنگ اٹیک کو مزید دھار دینے کے لیے نسیم شاہ اور حارث رؤف کو بھی پلئینگ الیون میں شامل کیا گیا ہے۔
دوسری جانب پاکستان کرکٹ بورڈ کے مطابق دو اہم لیگ اسپنرز شاداب خان اور سفیان مقیم بیماری کے باعث اس میچ کے لیے دستیاب نہیں ہیں۔ دونوں کھلاڑیوں کو طبعی ناسازی کی وجہ سے آرام دیا گیا ہے اور طبی عملہ ان کی دیکھ بھال کر رہا ہے۔
پی سی بی نے بتایا ہے کہ ان دونوں اسپنرز کی آئندہ میچوں میں شرکت کا فیصلہ ان کی صحت کی بہتری سے مشروط ہوگا۔ میڈیکل پینل کی رپورٹس کے بعد ہی ان کے حوالے سے حتمی لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ اس سہ ملکی ون ڈے سیریز میں پاکستان، سری لنکا اور انگلینڈ کی مضبوط ٹیمیں مد مقابل ہیں۔ ٹورنامنٹ کے تمام میچز پاکستان کے دو بڑے شہروں راولپنڈی اور لاہور کے کرکٹ اسٹیڈیمز میں کھیلے جا رہے ہیں۔
پی سی بی نے اس سیریز کے دوران ایک اہم سماجی مہم کا بھی اعلان کیا ہے جس کے تحت پچیس اکتوبر کو پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان ہونے والا میچ چھاتی کے سرطان سے آگاہی کے لیے وقف ہوگا۔
لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں ہونے والے اس مخصوص میچ سے دو گھنٹے قبل پنک ربن مہم کے سلسلے میں خصوصی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا۔ اس اقدام کا مقصد اس خطرناک مرض سے متعلق عوام میں شعور اجاگر کرنا ہے۔
اس فلاحی سرگرمی کے دوران قومی ٹیم روایتی سبز کے بجائے خصوصی طور پر تیار کردہ گلابی کٹس زیب تن کرے گی۔ اس کے علاوہ مہمان ٹیم کے کھلاڑیوں، میچ آفیشلز اور کمنٹیٹرز کو بھی گلابی ربن پہننے کی دعوت دی جائے گی۔
میچ کے دوران روایتی اسٹمپس کی بجائے گلابی رنگ کے اسٹمپس استعمال کیے جائیں گے جبکہ اسٹیڈیم کی بڑی اسکرینوں اور ایل ای ڈی بورڈز پر اس مرض سے بچاؤ کے آگاہی پیغامات مستقل بنیادوں پر چلائے جائیں گے۔





اپنی رائے دیں