اوپن مارکیٹ میں لیکوئفائیڈ پیٹرولیم گیس یعنی ایل پی جی کی قیمتیں اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہیں، جس کے نتیجے میں عام صارفین کو شدید مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ سرد موسم کی آمد اور سوئی گیس کی فراہمی میں تعطل کے باعث شہریوں کا رجحان ایل پی جی کی طرف بڑھتا ہے، تاہم اس دوران قیمتوں میں بے پناہ اضافہ کر دیا گیا ہے۔
مختلف علاقوں سے موصولہ اطلاعات کے مطابق شہر کے پرچون بازاروں میں ایل پی جی سرکاری نرخوں کے برعکس من مانے داموں فروخت کی جا رہی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس وقت مارکیٹ میں ایل پی جی کی قیمت چار سو تیس سے لے کر چار سو اسی روپے فی کلو تک پہنچ چکی ہے۔
حکومت کی جانب سے ایل پی جی کا سرکاری نرخ دو سو اناسی روپے فی کلو مقرر کیا گیا ہے، لیکن اس کے باوجود عمل درآمد نظر نہیں آتا۔ سرکاری قیمت اور اوپن مارکیٹ کے ریٹ میں اس بڑے فرق کی وجہ سے غریب اور متوسط طبقے کے گھریلو صارفین شدید پریشانی میں مبتلا ہیں۔
سوئی گیس کے کم پریشر اور اس کی قلت کے باعث شہریوں کے پاس کھانا پکانے اور دیگر ضروریات کے لیے متبادل ایندھن استعمال کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں بچا۔ اس مجبوری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دکاندار اور ڈسٹری بیوٹرز صارفین سے اضافی رقوم وصول کرنے میں مصروف ہیں۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ وہ ایک طرف تو سوئی گیس کے بھاری بھرکم بل باقاعدگی سے ادا کر رہے ہیں، اور دوسری طرف انہیں ضروریات زندگی پوری کرنے کے لیے مہنگی ایل پی جی بھی خریدنا پڑ رہی ہے۔ اس دہہرے مالی بوجھ نے سفید پوش طبقے کی کمر توڑ دی ہے۔
موجودہ مہنگائی کے دور میں گھریلو بجٹ پہلے ہی شدید دباؤ کا شکار ہے، اور گیس کی اس مصنوعی قلت اور مہنگائی نے عام آدمی کی زندگی مزید اجیرن کر دی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ وہ بنیادی ضرورت کی اس شے کو خریدنے کے لیے بھی مالی تنگی کا شکار ہو رہے ہیں۔
متعلقہ اداروں کی جانب سے بازاروں میں چیکنگ کا موثر نظام نہ ہونے کے باعث ناجائز منافع خوروں کے حوصلے بلند ہیں۔ سرکاری نرخوں پر عمل درآمد کرانے والے ادارے مبینہ طور پر خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں، جس کی وجہ سے بلیک مارکیٹنگ عروج پر ہے۔
شہریوں اور سماجی حلقوں نے حکومت اور ضلعی انتظامیہ سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر اس صورتحال کا نوٹس لیں۔ ایل پی جی کی اوپن مارکیٹ میں قیمتوں کو قابو میں لایا جائے اور سرکاری نرخوں پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔
عوام کا یہ بھی کہنا ہے کہ ناجائز منافع خوری اور بلیک مارکیٹنگ میں ملوث عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جانی چاہیے تاکہ غریب صارفین کو ریلیف مل سکے۔ سوئی گیس کی بلا تعطل فراہمی اور ایل پی جی کی مناسب داموں دستیابی اس وقت وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔
ملک بھر کے مختلف شہروں کی طرح صوبائی دارالحکومت میں بھی گیس کا بحران شدت اختیار کر گیا ہے جس نے عام آدمی کا جینا محال بنا رکھا ہے۔ کم پریشر اور گیس کی غیاب کی شکایات آئے روز بڑھتی جا رہی ہیں مگر متعلقہ اداروں کی طرف سے کوئی خاطر خواہ قدم نہیں اٹھایا گیا۔
مارکیٹ ذرائع کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ قلت کی بنیادی وجہ طلب اور رسد کا عدم توازن ہے جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بعض عناصر مصنوعی مہنگائی کو ہوا دے رہے ہیں۔ پرچون سطح پر صارفین کو لوٹنے کا یہ سلسلہ بدستور جاری ہے اور کوئی پوچھنے والا نہیں۔
ماہرین اقتصادیات کا ماننا ہے کہ اس طرح کے حالات میں جب بنیادی اشیائے خورونوش اور ایندھن عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو جائیں تو معاشرتی مسائل میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ حکومت کو فوری طور پر مارکیٹ کمیٹیوں کو فعال بنانا ہو گا تاکہ غریب عوام کی دادرسی ہو سکے۔
تمام تر دعوؤں کے باوجود زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں جہاں مقررہ نرخوں کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں اور دکاندار اپنی مرضی کے دام وصول کر رہے ہیں۔ شہریوں کا مطالبہ ہے کہ اس گھمبیر مسئلے پر فوری قابو پایا جائے تاکہ عام گھرانوں کا چولہا جل سکے۔





اپنی رائے دیں