مواد پر جائیں
اتوار، 18 اکتوبر 2026 7 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: دوپہر 12:17
بریکنگ
مصر کا سعودی عرب کے دفاع کیلئے ہر ممکن اقدامات اٹھانے کا اعلانجدہ ایئرپورٹ پر پروازوں کا آپریشن 45 منٹ کی معطلی کے بعد بحالفرانس اور البانیہ میں حکومت مخالف مظاہرے، متعدد عمارتیں نذرِ آتشبھارت: کولکتہ میں مذہبی تہوار کے دوران بھگدڑ، 17 افراد ہلاکسعودی عرب: امریکا اور برطانیہ کی اپنے شہریوں کو سکیورٹی الرٹ جاریپشاور: یکہ توت میں نامعلوم افراد کی رکشے پر فائرنگ سے دو خواتین جاں بحقیاسر حسین کا سجل اور زارا کی انسٹاگرام پر واپسی پر دلچسپ تبصرہاوپن مارکیٹ میں ایل پی جی کی قیمتیں بلند ترین سطح پر پہنچ گئیںکے پی پولیس کی تنخواہوں میں اضافے اور خریداری کی سمری ارساللاوینیا فونتانا: عریاں فن پارے تخلیق کرنے والی پہلی خاتون مصورہبلوچستان میں کرکٹ ٹیلنٹ کی تلاش، پی سی بی کے زیر اہتمام ٹرائلز کا انعقادامریکا: فٹبال میچ کے دوران گاڑی میدان میں گھس گئی، بچہ سمیت 2 افراد ہلاکپاکستان میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ جاریراولپنڈی: کہوٹہ میں موٹر سائیکل کھائی میں گرنے سے میاں بیوی جاں بحقپھیپھڑوں کے کینسر کی سرجری کے بعد پوپ لیو اسپتال سے ڈسچارج ہو کر ویٹیکن پہنچ گئےقدرت کا انوکھا کرشمہ، اندھیرے میں روشنی بکھیرنے والے مشروم دریافتجدہ میں علمی و سماجی مجلس کا انعقاد، سوشل میڈیا کے مثبت استعمال پر زورلائن آف کنٹرول پر پاک فوج اور محکمہ صحت کا فری میڈیکل کیمپلاہور میں چھٹی کا دن، شہریوں کا روایتی ناشتے کے پوائنٹس پر رشاسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر خصوصی افراد کے لیے سن فلاور لین یارڈ پروگرام کا آغاز
دنیا

لاوینیا فونتانا: عریاں فن پارے تخلیق کرنے والی پہلی خاتون مصورہ

نشاۃِ ثانیہ کے دور کی معروف اطالوی مصورہ لاوینیا فونتانا نے اپنے جرات مندانہ فن پاروں سے تاریخ میں ایک منفرد مقام حاصل کیا اور جسمانی کشش پر مبنی موضوعات کو فن کا حصہ بنایا۔

لاوینیا فونتانا: عریاں فن پارے تخلیق کرنے والی پہلی خاتون مصورہ

اطالوی مصورہ لاوینیا فونتانا کو تاریخ کی پہلی ایسی خاتون فنکارہ مانا جاتا ہے جنہوں نے خواتین کے عریاں پیکر تخلیق کیے اور جسمانی کشش کو اپنے فن کا موضوع بنایا۔ ان کے کئی فن پارے اپنے دور کے مرد ہم عصروں کے مقابلے میں زیادہ جرات مندانہ سمجھے جاتے ہیں۔

فونتانا کی شخصیت کے دو متضاد پہلو سامنے آتے ہیں۔ ایک طرف وہ خود کو ایک باوقار، تعلیم یافتہ اور خوشحال اطالوی خاتون کے طور پر پیش کرتی تھیں، جیسا کہ ان کی 1577 میں بنائی گئی خود اپنی تصویر سے عیاں ہے، جہاں وہ نفیس لباس اور زیورات میں ملبوس دکھائی دیتی ہیں۔

دوسری جانب، ان کے تخلیق کردہ فن پارے جیسے 'منروا اِن دی ایکٹ آف ڈریسنگ' اور 'تھری فی میل نیوڈز' ان کی فنی جرات کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ ان تصاویر میں انہوں نے انسانی جسم کی کشش کو جس مہارت اور نفاست سے پیش کیا، وہ اس دور کے لیے غیر معمولی تھا۔

ماہرینِ فن کا ماننا ہے کہ فونتانا کی جانب سے ایسے موضوعات کا انتخاب محض اتفاق نہیں تھا۔ کچھ مورخین اسے ان کی پیشہ ورانہ حکمت عملی قرار دیتے ہیں، جس کا مقصد اپنی منفرد شناخت قائم کرنا اور اس دور کے مسابقتی ماحول میں خود کو ممتاز کرنا تھا۔

فونتانا کے والد اور مصور پروسپیرو فونتانا خود بھی ایک مصور تھے اور وہ اخلاقی حدود کے حوالے سے کافی محتاط تھے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ لاوینیا کے سب سے زیادہ جرات مندانہ فن پارے 1597 میں ان کے والد کی وفات کے قریب ترین برسوں میں تخلیق کیے گئے۔

یہ قیاس آرائی بھی کی جاتی ہے کہ شاید والد کی وفات کے بعد انہیں اپنی فنی حدود کو وسیع کرنے کی آزادی ملی ہو۔ ان کے کام میں وینس کالیپیجے جیسے رومی مجسموں کے اثرات بھی دیکھے جا سکتے ہیں، جنہیں انہوں نے اپنے انداز میں پیش کیا۔

ان کی پینٹنگ 'مارس اینڈ وینس' میں جنسی کشش کی عکاسی کو اس دور کے دیگر مصوروں کے کام سے کہیں زیادہ واضح اور بے باک قرار دیا جاتا ہے۔ اس میں انہوں نے دیوی کے چہرے کے تاثرات اور جسمانی ساخت کے ذریعے ایک گہری کہانی بیان کی ہے۔

کچھ ناقدین کا خیال ہے کہ ان کی بعض تصاویر میں نظر آنے والے چہرے دراصل خود لاوینیا فونتانا کے ہی ہیں، جو ان کی فنی خود اعتمادی کو ظاہر کرتے ہیں۔ یہ فن پارے اس دور کی اشرافیہ اور ثقافتی ماحول کی عکاسی بھی کرتے ہیں۔

فونتانا کے فن کو سمجھنے کے لیے ان کی نجی زندگی اور عوامی شخصیت کے درمیان توازن کو دیکھنا ضروری ہے۔ ان کی زندگی میں کسی سکینڈل کا ذکر نہیں ملتا، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ وہ ایک منظم اور اصول پسند خاتون تھیں۔

آج کے دور میں جب ان کے فن پاروں پر مزید تحقیق کی جا رہی ہے، تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ وہ اپنے وقت سے بہت آگے تھیں۔ انہوں نے نہ صرف خواتین مصوروں کے لیے راستے ہموار کیے بلکہ فنِ مصوری میں نئے معیارات بھی قائم کیے۔

ان کے کام میں زیورات، کپڑوں کی بناوٹ اور روشنی کا استعمال ان کی فنی مہارت کا ثبوت ہے۔ سلیٹ کے پتھر پر بنائی گئی تصاویر میں خریدار کا اپنا عکس نظر آنا اس دور کی ایک جدید اور منفرد تکنیک سمجھی جاتی تھی۔

لاوینیا فونتانا کی میراث آج بھی فنِ تاریخ کے طلباء اور شائقین کے لیے ایک دلچسپی کا باعث ہے۔ ان کے فن پارے یہ بتاتے ہیں کہ ایک خاتون کس طرح سماجی پابندیوں کے باوجود اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا لوہا منوا سکتی ہے۔

آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ فونتانا نے اپنے فن کے ذریعے نہ صرف اپنی شناخت بنائی بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک ایسی مثال چھوڑی جس میں روایت اور جدت کا حسین امتزاج موجود تھا۔ ان کا کام تاریخِ مصوری کا ایک لازوال حصہ ہے۔

دنیا کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں