معذوری کبھی بھی انسان کے بلند حوصلے، پختہ ارادے اور آگے بڑھنے کی لگن کے سامنے رکاوٹ نہیں بن سکتی جب دل میں کچھ کر دکھانے کا جذبہ موجود ہو۔ اس بات کا عملی ثبوت بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے تعلق رکھنے والی باصلاحیت اور محنتی بیٹی پلوشہ شہزادی نے فراہم کیا ہے۔
پلوشہ شہزادی نے اپنی زندگی کی تمام رکاوٹوں، جسمانی مشکلات اور چیلنجز کو پس پشت ڈالتے ہوئے قانون کے شعبے میں شاندار کامیابی حاصل کی ہے۔ انہوں نے اپنی انتھک محنت اور عزم صمیم کے ذریعے بلوچستان ہائی کورٹ کی وکیل بننے کا اعزاز اپنے نام کیا ہے۔
موصولہ تفصیلات کے مطابق پلوشہ شہزادی جب صرف چار سال کی کم عمر تھیں تو وہ پولیو جیسے موذی مرض کا شکار ہو گئی تھیں جس کی وجہ سے ان کی زندگی میں مشکلات کا ایک نیا باب شروع ہوا۔
اس خطرناک بیماری کے نتیجے میں پلوشہ شہزادی کا بایاں بازو اور بایاں پاؤں مستقل طور پر مفلوج ہو گیا تھا، جس نے ان کی ابتدائی زندگی کو انتہائی کٹھن بنا دیا تھا۔
تاہم اس گہرے صدمے، جسمانی تکلیف اور معذوری کے باوجود پلوشہ شہزادی نے کبھی بھی ہمت نہیں ہاری اور مایوسی کو اپنے اوپر طاری ہونے کا موقع نہیں دیا۔ انہوں نے اپنے گھر والوں کے بھرپور تعاون اور حوصلہ افزائی کی بدولت اپنی تعلیمی سرگرمیوں کو بغیر کسی تعطل کے جاری رکھا۔
اپنی تعلیمی زندگی کے دوران انہیں گوناگوں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا لیکن ان کا عزم ہمیشہ چٹان کی طرح مضبوط اور غیر متزلزل رہا۔ انہوں نے اسکول سے لے کر اعلیٰ تعلیمی اداروں تک ہر مرحلے پر سخت محنت کی اور بالآخر قانون کی ڈگری حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئیں۔
وکالت کا پیشہ اپنانے کے بعد انہوں نے عدالتوں میں پریکٹس کا آغاز کیا اور اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ ان کا کہنا ہے کہ ابتداء میں کچھ لوگوں اور ساتھیوں نے اس شعبے میں ان کے آنے کی مخالفت کی تھی اور ان کی صلاحیتوں پر شکوک کا اظہار کیا تھا۔
پلوشہ شہزادی نے ایک انٹرویو کے دوران اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے وہ ساتھی جو پہلے ان کے وکالت کا پیشہ اپنانے کے مخالف تھے، آج ان کی محنت، لگن اور کارکردگی کا کھل کر اعتراف کرتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ معذور افراد معاشرے کا ایک انتہائی فعال اور اہم حصہ ہیں اور اگر انہیں مناسب مواقع اور حوصلہ افزائی فراہم کی جائے تو وہ کسی بھی میدان میں کسی سے پیچھے نہیں رہ سکتے۔ قانون کے شعبے میں بھی معذور افراد اپنی بھرپور صلاحیتوں کا لوہا منوا سکتے ہیں۔
پلوشہ کے مطابق اگر انسان کے پاس اپنے خاندان کی بھرپور معاونت اور سپورٹ موجود ہو تو دنیا کا کوئی بھی مشکل ہدف ناممکن نہیں رہتا۔ خاندانی پشت پناہی ہی دراصل انسان کو بڑے فیصلے کرنے اور زندگی کی سخت ترین مشکلات کا مقابلہ کرنے کی اصل طاقت دیتی ہے۔
کوئٹہ کی اس باہمت بیٹی کا سفر یہیں پر ختم نہیں ہوتا بلکہ ان کے عزائم اور بلند حوصلے اب مزید وسعت اختیار کر چکے ہیں۔ ان کا اگلا اور سب سے بڑا ہدف مقابلے کا امتحان یعنی جوڈیشل مجسٹریٹ کا امتحان پاس کرنا ہے۔
وہ آئندہ دنوں میں بطور مجسٹریٹ فرائض انجام دے کر ملک و قوم کا نام روشن کرنے کا پختہ عزم رکھتی ہیں۔ ان کی یہ زندگی کی کہانی ملک بھر کی ان تمام خواتین اور نوجوانوں کے لیے ایک روشن چراغ ہے جو حالات کی سختیوں کے آگے گھٹنے ٹیک دیتے ہیں۔
ماہرین، وکلاء برادری اور سماجی حلقوں کی جانب سے پلوشہ شہزادی کی اس شاندار کامیابی کو بھرپور خراج تحسین پیش کیا جا رہا ہے۔ ان کی یہ داستانِ عزم ثابت کرتی ہے کہ اصل معذوری جسمانی نہیں بلکہ سوچ کی ہوتی ہے جسے محنت اور پختہ یقین سے ہرایا جا سکتا ہے۔





اپنی رائے دیں