پشاور سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق خیبرپختونخوا پولیس کے افسران اور جوانوں کے مالیاتی امور میں بہتری لانے اور انہیں درپیش پیشہ ورانہ چیلنجز کے تناسب سے مراعات دینے کے لیے ایک اہم سمری باضابطہ طور پر گورنر خیبرپختونخوا کو ارسال کر دی گئی ہے۔ اس سمری کا بنیادی مقصد صوبے بھر میں خدمات انجام دینے والے پولیس عملے کی تنخواہوں میں نمایاں اضافہ کرنا اور محکمہ پولیس کے مختلف شعبوں کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہے۔
نجی ٹی وی چینل کی رپورٹ کے مطابق اس مجوزہ سمری میں اس بات کی پُر زور سفارش کی گئی ہے کہ صوبے کے جنوبی اضلاع جن میں ڈی آئی خان، بنوں اور کوہاٹ ریجن شامل ہیں، کے ساتھ ساتھ تمام ضم شدہ اضلاع میں تعینات پولیس اہلکاروں کو ایک سو بیس فیصد سکیورٹی چیلنج الاؤنس فراہم کیا جائے۔
اس کے علاوہ دیگر آباد اضلاع سے تعلق رکھنے والے پولیس اہلکاروں کے لیے بھی بنیادی تنخواہ کا ایک سو فیصد سکیورٹی چیلنج الاؤنس دینے کی تجویز پیش کی گئی ہے تاکہ انہیں مہنگائی کے اس دور میں بہتر معاشی سہولیات میسر آ سکیں۔
سمری میں یہ بھی تجویز کیا گیا ہے کہ ہزارہ ریجن کے پولیس اہلکاروں کو ان کی بنیادی تنخواہ کا پچہتر فیصد سکیورٹی چیلنج الاؤنس دیا جائے، کیونکہ یہ علاقے بھی اپنے مخصوص جغرافیائی اور حفاظتی تناظر میں خصوصی توجہ کے مستحق ہیں۔
دستاویزات کے مطابق خیبرپختونخوا پولیس گزشتہ تین دہائیوں سے ملک میں دہشت گردی کے خلاف برسرِ پیکار چلی آ رہی ہے اور اس طویل جنگ میں پولیس فورس نے بے شمار قربانیاں دی ہیں، جن کے اعتراف کے طور پر ان کی تنخواہیں دیگر صوبوں کے مقابلے میں متناسب ہونی چاہئیں تھیںـ
محکمہ پولیس کی جانب سے بھیجی گئی اس سمری کے نفاذ سے ماہانہ بنیادوں پر پانچ ارب پندرہ کروڑ نوے لاکھ روپے سے زائد کے اضافی مالی اخراجات متوقع ہیں، جنہیں صوبائی خزانے سے پورا کرنے کے لیے باقاعدہ منظوری طلب کی گئی ہے۔
تنخواہوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ اس سمری میں مالی سال دو ہزار چھبیس اور ستائیس کے دوران خریداری کے لیے مختص کیے گئے بجٹ کی فوری اجراء کی بھی پرزور درخواست کی گئی ہے تاکہ فورس کی آپریشنل تیاریوں میں کوئی تعطل نہ آئے۔
مجوزہ تجاویز کے تحت آباد اضلاع میں پولیس کے لیے سازوسامان کی خریداری کی خاطر گیارہ ارب سولہ کروڑ روپے سے زائد کے فنڈز جاری کیے جانے کی استدعا کی گئی ہے تاکہ روزمرہ کے امور احسن طریقے سے چلائے جا سکیں۔
اسی طرح ضم شدہ اضلاع کے لیے تین ارب چونتیس کروڑ روپے سے زائد کے خصوصی فنڈز جاری کرنے کی سفارش کی گئی ہے تاکہ پسماندہ اور حساس علاقوں میں پولیس چوکیوں اور تھانوں کو فعال بنایا جا سکے اور بنیادی ڈھانچہ بہتر ہو۔
سمری میں اس امر پر زور دیا گیا ہے کہ پولیس کے لیے اسلحہ، گولہ بارود، جدید ٹرانسپورٹ، پلانٹ اور مشینری، آرڈیننس سٹور سمیت دیگر تمام ضروری آلات کی خریداری کے فنڈز بلا تاخیر جاری کیے جائیں تاکہ امن و امان کی صورتحال سے مؤثر انداز میں نبردآزما ہوا جا سکے۔
رپورٹ کے مطابق خیبرپختونخوا پولیس نے ہتھیاروں، جدید آلات اور ٹرانسپورٹ کی فوری خریداری کی مد میں تیرہ ارب ستاسی کروڑ دس لاکھ روپے کے اضافی فنڈز کا بھی پرزور مطالبہ کیا ہے جو کہ انتہائی ناگزیر ہو چکے ہیں۔
موجودہ مالیاتی کمی اور بجٹ کے محدود وسائل کے باعث پولیس کو اس وقت اسلحے، حفاظتی سامان، جدید نگرانی کے نظام اور نقل و حرکت سے متعلقہ آلات کی شدید قلت کا سامنا ہے جس سے ان کی کارکردگی متاثر ہو رہی ہے۔
سمری میں یہ سفارش بھی کی گئی ہے کہ صوبائی پولیس فورس کے لیے جدید سب مشین گنز، ایم جی ون اے تھری رائفلیں اور پانچ اعشاریہ پانچ چھ ملی میٹر کے جدید ہتھیار فوری طور پر خریدے جائیں تاکہ وہ جرائم پیشہ عناصر کا مقابلہ کر سکیں۔
پولیس جوانوں کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے بلٹ پروف جیکٹس اور جدید بیلسٹک ہیلمٹس کی خریداری کو بھی اس سمری کا لازمی حصہ بنایا گیا ہے تاکہ فرائض کی انجام دہی کے دوران جانی نقصان کے خطرات کو کم کیا جا سکے۔
عصر حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہوتے ہوئے پولیس کے لیے جدید ڈرونز، تھرمل ویپن سائٹس اور دور مار دوربینیں خریدنے کی تجویز بھی دی گئی ہے تاکہ روایتی طریقوں سے ہٹ کر جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے نگرانی کی جا سکے۔
اس کے علاوہ پولیس فورس کو جدید ڈرونز کے خلاف مؤثر دفاعی استعمال کے لیے خصوصی گنز اور سکیورٹی کا ایک جدید نظام فراہم کرنے کی سفارش کی گئی ہے جو موجودہ سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے انتہائی ضروری ہے۔
امن و امان کے نفاذ اور فورس کی نقل و حرکت کو تیز کرنے کی غرض سے پولیس کے لیے نئی آرمڈ پرسنل کیریئرز اور سنگل و ڈبل کیبن پک اپ گاڑیاں خریدنے کی بھی باضابطہ اجازت مانگی گئی ہے۔
گورنر خیبرپختونخوا کو ارسال کی جانے والی اس تفصیلی سمری کا مقصد تمام تر حفاظتی لوازمات، اسلحے اور ٹرانسپورٹ کی کمی کو فوری طور پر دور کرنا ہے تاکہ صوبے کے محافظ کسی بھی ناگہانی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہمہ وقت تیار رہیں۔




اپنی رائے دیں