خیبر پختونخوا حکومت نے صوبے میں امن و امان کے قیام، قانون کی بالادستی اور دہشت گردی کے خلاف برسرپیکار پولیس فورس کے مالی معاملات کو بہتر بنانے کے لیے ایک انتہائی اہم اور سنگ میل اقدام اٹھایا ہے۔ اس سلسلے میں صوبائی پولیس فورس کی بنیادی تنخواہوں میں اضافے، سکیورٹی چیلنج الاؤنس کی منظوری اور جدید سازوسامان کی خریداری سے متعلق ایک جامع سمری تیار کر کے باضابطہ طور پر گورنر کو ارسال کر دی گئی ہے۔
صوبائی پولیس فورس گزشتہ تین دہائیوں سے طویل عرصے تک دہشت گردی کے خلاف فرنٹ لائن پر بہادری کے ساتھ لڑ رہی ہے اور اس طویل کٹھن جنگ کے دوران فورس کے ہزاروں جوانوں اور افسران نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے ہیں۔ اس تمام تر عزم، استقلال اور گراں قدر قربانیوں کے باوجود خیبر پختونخوا کے پولیس اہلکاروں کی تنخواہیں اور دیگر الاؤنسز ملک کے دیگر صوبوں کے مقابلے میں کافی کم ہیں، جنہیں اب معقول اور بہتر بنانے کی تجاویز تیار کی گئی ہیں۔
نئی تیار کردہ سمری کے مطابق صوبے کے جنوبی اضلاع، ڈیرہ اسماعیل خان، بنوں اور کوہاٹ ریجن سمیت تمام ضم شدہ اضلاع میں تعینات پولیس اہلکاروں اور افسران کے لیے ایک سو بیس فیصد سکیورٹی چیلنج الاؤنس تجویز کیا گیا ہے۔ اس اہم اقدام کا بنیادی مقصد ان حساس اور کٹھن علاقوں میں فرائض انجام دینے والے جوانوں کے مالی تحفظ کو یقینی بنانا اور دہشت گردوں کا مقابلہ کرتے ہوئے ان کے بلند حوصلوں کو مزید تقویت دینا ہے۔
صوبے کے دیگر آباد اضلاع میں خدمات سرانجام دینے والے پولیس اہلکاروں کے لیے بھی بنیادی تنخواہ کا ایک سو فیصد سکیورٹی چیلنج الاؤنس دینے کی پرزور سفارش کی گئی ہے تاکہ صوبے بھر میں پولیس افسران اور جوانوں کے درمیان معاوضے کے توازن کو بہتر بنایا جا سکے۔ اس کے علاوہ ہزارہ ریجن کے پولیس اہلکاروں کے لیے بنیادی تنخواہ کا پچہتر فیصد سکیورٹی چیلنج الاؤنس دینے کی تجویز بھی اس مجوزہ ڈرافٹ کا حصہ بنائی گئی ہے۔
صوبے کے مختلف حصوں میں زمینی حقائق، جغرافیائی پوزیشن اور سکیورٹی خدشات کی نوعیت کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ خصوصی الاؤنسز تجویز کیے گئے ہیں تاکہ ہر علاقے کے تناظر میں فرائض دینے والے اہلکاروں کو مناسب مالی معاونت فراہم کی جا سکے۔ ان تجاویز پر باضابطہ عمل درآمد کرنے سے صوبائی خزانے پر ماہانہ پانچ ارب پندرہ کروڑ نوے لاکھ روپے سے زائد کے اضافی مالی اخراجات آئیں گے۔
تنخواہوں اور الاؤنسز میں اضافے کے علاوہ پولیس فورس کو جدید تقاضوں کے مطابق خطوط پر استوار کرنے اور ان کے موجودہ سازوسامان کو مکمل طور پر اپ ڈیٹ کرنے کی بھی شدید ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔ اس اہم مقصد کے لیے مالی سال دو ہزار چھبیس اور ستائیس کے دوران خریداری کے لیے مختص کیے گئے بجٹ کے فوری اور بلاتعطل اجراء کی باقاعدہ درخواست کی گئی ہے۔
سامنے آنے والی تفصیلات کے مطابق سمری میں یہ سفارش کی گئی ہے کہ صوبے کے آباد اضلاع میں پولیس کی ضروریات پوری کرنے کے لیے گیارہ ارب سولہ کروڑ روپے سے زائد کے فنڈز جاری کیے جائیں جبکہ ضم شدہ اضلاع کے لیے تین ارب پینتیس کروڑ روپے سے زائد کے فنڈز فراہم کیے جائیں۔ ان تمام فنڈز کا بنیادی مقصد پولیس کی آپریشنل تیاری کو ہر وقت بلند ترین سطح پر برقرار رکھنا ہے۔
بجٹ کی حالیہ کمی کے باعث خیبر پختونخوا پولیس کو اسلحے، حفاظتی سامان، جدید نگرانی کے نظام اور نقل و حرکت سے متعلق آلات کی شدید قلت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اس سنگین کمی کو فوری طور پر پورا کرنے کے لیے پولیس کی طرف سے اسلحہ، جدید آلات اور ٹرانسپورٹ کی خریداری کے لیے تیرہ ارب ستاسی کروڑ دس لاکھ روپے کے اضافی فنڈز مانگ لیے گئے ہیں۔
مجوزہ خریداری کے اس وسیع تر منصوبے کے تحت پولیس کے لیے جدید ترین سب مشین گنز، ایم جی ون اے تھری رائفلیں اور پانچ اعشاریہ پانچ چھ ملی میٹر کے معیاری ہتھیار خریدے جائیں گے۔ اس کے علاوہ فورس کے افسران اور جوانوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے بلٹ پروف جیکٹس اور بیلسٹک ہیلمٹس کی خریداری بھی اس پیکیج کا ایک لازمی حصہ ہے۔
جدید جنگی تقاضوں، چیلنجز اور سیکورٹی خطرات سے مؤثر طریقے سے نمٹنے کے لیے پولیس کے لیے جدید ڈرونز، تھرمل ویپن سائٹس اور جدید دوربینیں حاصل کرنے کی بھی پرزور سفارش کی گئی ہے۔ پولیس کو اسمارٹ ڈرونز کے خلاف مؤثر انداز میں استعمال ہونے والی انسداد ڈرون گنز اور دیگر جدید نظام بھی فراہم کیے جائیں گے۔
نقل و حرکت، رسائی اور گشت کے نظام کو مزید بہتر بنانے کے لیے خیبر پختونخوا پولیس کے لیے بکتر بند گاڑیاں یعنی آرمڈ پرسنل کیریئرز اور سنگل و ڈبل کیبن پک اپ گاڑیاں خریدی جائیں گی۔ ان گاڑیوں اور اضافی ٹرانسپورٹ کی فراہمی سے صوبے کے دور دراز اور دشوار گزار پہاڑی علاقوں میں پولیس کی رٹ مزید زیادہ مضبوط ہوگی۔
سمری کے متن میں اس امر پر انتہائی زور دیا گیا ہے کہ پولیس کے لیے اسلحے، گولہ بارود، ٹرانسپورٹ، پلانٹ و مشینری، آرڈیننس اسٹور اور دیگر تمام ضروری آلات کی خریداری کے فنڈز بغیر کسی تاخیر کے جاری کیے جائیں۔ یہ تمام اقدامات صوبے میں دیرپا امن کے قیام کے لیے ناگزیر قرار دیے گئے ہیں۔
محکمہ پولیس کی جانب سے بھیجی گئی اس سمری سے صوبے میں سکیورٹی کے امور مزید مستحکم ہونے کی توقع کی جا رہی ہے اور گورنر کی جانب سے منظوری کے بعد اس پر باضابطہ عمل درآمد کا آغاز کر دیا جائے گا۔ عوامی حلقوں اور سکیورٹی ماہرین نے اس اقدام کو سراہتے ہوئے فورس کے لیے فنڈز کی بروقت فراہمی کو وقت کی اہم ترین ضرورت قرار دیا ہے۔





اپنی رائے دیں