مواد پر جائیں
منگل، 27 اکتوبر 2026 16 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: دوپہر 1:57
تازہ
کراچی کے ساحلی پانیوں میں 500 سے زائد ڈولفنز کا غیر معمولی اجتماعٹرائی سیریز: سری لنکا کا پاکستان کیخلاف ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہخیبرپختونخوا کی وزارتِ اعلیٰ: پی ٹی آئی میں سیاسی سرگرمیاں تیزنائیجیریا نے یوگنڈا کو شکست دے کر سب ریجنل ٹائٹل جیت لیاصائم ایوب سہ فریقی سیریز سے ریلیز، صاحبزادہ فرحان شاملامریکا میں تین سالہ فٹبالر کی مہارت پر تنازع، پولیس طلبآئی سی سی ویمنز ایمرجنگ نیشنز ٹرافی، قومی اسکواڈ کا اعلانبلاول بھٹو کا یومِ سیاہ کشمیر پر کشمیریوں کو حقِ خودارادیت دینے کا مطالبہمشرقِ وسطیٰ کا کوئی ملک دوسرے کی قیمت پر سلامتی حاصل نہیں کر سکتا: انتونیو گوتیرسپنجاب کے سرکاری سکولوں کا ایس آئی ایس ڈیٹا 24 گھنٹے میں درست کرنے کی ہدایتجھنگ تھل جیپ ریلی میں سرکاری گاڑی کا استعمال، ڈپٹی کمشنر ہٹا دیے گئےلاہور ہائی کورٹ: جعلی رجسٹریوں کے مقدمے میں ضمانتیں مستردتہران اجلاس کا مرکزی موضوع سعودی عرب کی صورتحال تھا، خواجہ آصفکراچی: مختلف علاقوں میں پولیس مقابلے، 6 زخمیوں سمیت 8 ملزمان گرفتارخواتین کو بلیک میل کرنے والے 3 ملزمان گرفتار، این سی سی آئی اے کی کارروائییومِ سیاہ کشمیر: پاکستان کا کشمیریوں کی جدوجہد کی حمایت کا اعادہامریکی دھمکیاں بے اثر، خطے میں تعاون ہی امن کی ضمانت ہے: محسن رضائیگورنر خیبر پختونخوا کی پشاور ماسٹر پلان کے اہداف پر عملدرآمد تیز کرنے کی ہدایتترک سفیر کی وزیر دفاع خواجہ آصف سے ملاقات، دفاعی تعاون بڑھانے پر اتفاقراولپنڈی: سسرالیوں کا خاتون پر مبینہ تشدد، بال کاٹنے اور زیورات چھیننے کا الزام
پاکستان

لاہور ہائی کورٹ: جعلی رجسٹریوں کے مقدمے میں ضمانتیں مسترد

لاہور ہائی کورٹ کی چیف جسٹس نے جعلی رجسٹریوں کے مقدمے میں ملزمان کی عبوری ضمانتیں مسترد کرتے ہوئے سخت ریمارکس دیے ہیں۔

لاہور ہائی کورٹ: جعلی رجسٹریوں کے مقدمے میں ضمانتیں مسترد

لاہور ہائی کورٹ میں جعلی رجسٹریوں کے سنگین مقدمے کی سماعت ہوئی جس دوران عدالت عالیہ نے اہم نوعیت کے فیصلے صادر کیے ہیں۔ اس عدالتی کارروائی کے دوران رجسٹری محرر اور رجسٹرار کی جانب سے دائر کی جانے والی عبوری ضمانتوں کی درخواستوں پر طویل بحث کی گئی۔

معزز چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ عالیہ نیلم نے اس کیس کی سماعت کی اور فریقین کے دلائل سننے کے بعد تمام متعلقہ قانونی پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ عدالت نے کیس کی کارروائی کے دوران سرکاری و نجی نوعیت کے ریکارڈ کا بھی باریک بینی سے مشاہدہ کیا تاکہ اصل حقائق تک رسائی حاصل کی جا سکے۔

دوران سماعت معزز چیف جسٹس نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ جائیداد کے معاملات میں کی جانے والی جعلسازی بالکل واضح نظر آ رہی ہے اور یہ سب کچھ کسی تنہا شخص کا کام نہیں ہو سکتا۔ عدالت نے واضح کیا کہ اس طرح کی تمام گھناؤنی کارروائیاں باہمی ملی بھگت اور گٹ جوڑ کے بغیر انجام دینا ہرگز ممکن نہیں ہوتا۔

عدالت عالیہ نے اس امر پر شدید تشویش کا اظہار کیا کہ جعلی رجسٹریوں کے تیار کیے جانے سے جائیداد کی اصل مالیت پر انتہائی منفی اور گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ جعلی دستاویزات کی وجہ سے نہ صرف اصل مالکان کو نقصان اٹھانا پڑتا ہے بلکہ ریاست کے مالیاتی اور انتظامی امور بھی بری طرح متاثر ہوتے ہیں۔

چیف جسٹس عالیہ نیلم نے مزید ریمارکس دیے کہ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ دفاتر میں جعلی اور متنازع رجسٹریوں کے انبار لگے ہوئے ہیں جن کی وجہ سے عام شہریوں کو شدید خواری اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ عام لوگ اپنے ہی جائز حقوق کے حصول کے لیے دفاتر کے چکر کاٹنے پر مجبور ہیں۔

عدالت کے سخت احکام کی تعمیل میں ڈائریکٹر جنرل اینٹی کرپشن سہیل ظفر چٹھہ ذاتی حیثیت میں لاہور ہائی کورٹ میں پیش ہوئے۔ انہوں نے عدالت کو محکمے کی کارکردگی اور اس مقدمے سے متعلق اب تک کی جانے والی تفتیش کے بارے میں تفصیل سے آگاہ کیا۔

ڈی جی اینٹی کرپشن نے عدالت کو بریفنگ کے دوران بتایا کہ اینٹی کرپشن کے نئے مجوزہ قواعد و ضوابط حتمی منظوری کے لیے چیف سیکرٹری کو بھجوائے جا چکے ہیں۔ ان نئے قواعد کے نافذ العمل ہونے سے محکمے کے اندرونی نظام کو شفاف بنانے میں بڑی مدد ملے گی۔

پیش کی گئی رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ نئے قواعد کی منظوری کے بعد کسی بھی پرانی یا بند کی جانے والی انکوائری کے عمل کو چار ماہ کے اندر دوبارہ کھولنے کی مکمل مجاز اتھارٹی حاصل ہو جائے گی۔ اس اقدام سے ماضی کے کرپشن کیسز کو منطقی انجام تک پہنچانے میں آسانی ہوگی۔

سماعت کے دوران ڈی جی اینٹی کرپشن نے عدالت کو ایک اور اہم تجاویز سے بھی آگاہ کیا جس کا مقصد محکمے کے قانونی بازو کو مضبوط بنانا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ فوجداری نوعیت کے پیچیدہ مقدمات کی بہتر انداز میں پیروی کرنے کے لیے خصوصی پراسیکیوٹرز کی خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

اس سلسلے میں ڈی جی اینٹی کرپشن نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ محکمے میں پراسیکیوشن کے نظام کو مؤثر اور فعال بنانے کے لیے عارضی بنیادوں پر بھرتیاں بھی کی جائیں گی۔ ان خصوصی بھرتیوں سے قانونی چارہ جوئی کے عمل میں حائل رکاوٹوں کو فوری طور پر دور کیا جا سکے گا۔

ڈی جی اینٹی کرپشن کی اس بریفنگ پر اپنے ریمارکس دیتے ہوئے چیف جسٹس عالیہ نیلم نے اس بات پر زور دیا کہ محکموں سے ڈیپوٹیشن کلچر کا خاتمے کے بغیر اصلاحات ناممکن ہیں۔ عدالت کا کہنا تھا کہ جب تک اداروں سے ڈیپوٹیشن کا یہ کلچر ختم نہیں کیا جاتا، اس وقت تک اینٹی کرپشن کا پورا نظام بہتر کارکردگی نہیں دکھا سکتا۔

لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے جاری کردہ ان سخت ہدایات کے بعد توقع کی جا رہی ہے کہ زمینوں کے ریکارڈ اور رجسٹری کے نظام میں نمایاں بہتری آئے گی۔ اس سے نہ صرف جعل سازوں کا راستہ روکا جا سکے گا بلکہ عام شہریوں کے مالی اور جائیداد کے حقوق کا بھی بھرپور تحفظ یقینی بنایا جاسکے گا۔

عدالت عالیہ نے اس کیس میں مزید قانونی کارروائی کا عندیہ دیتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ وہ جعلسازی کے اس مکروہ دھندے میں ملوث تمام چھوٹے بڑے عناصر کے خلاف بلا امتیاز سخت ترین کارروائی عمل میں لائیں تاکہ اس ناسور کو جڑ سے اکھاڑا جا سکے۔

پاکستان کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں