کراچی کے مختلف علاقوں میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کریک ڈاؤن کرتے ہوئے مبینہ مقابلوں کے بعد چھ زخمیوں سمیت آٹھ ملزمان کو حراست میں لے لیا ہے۔ ان کارروائیوں کا مقصد شہر میں بڑھتے ہوئے اسٹریٹ کرائمز کی روک تھام ہے۔
پولیس حکام کے مطابق ان کارروائیوں کے دوران ملزمان کے قبضے سے ناجائز اسلحہ، موٹر سائیکلیں، موبائل فونز، نقدی اور دیگر قیمتی سامان برآمد کیا گیا ہے۔ تمام زخمی ملزمان کو طبی امداد کے لیے شہر کے مختلف سرکاری ہسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔
شرافی گوٹھ کے علاقے میں شاہ فیصل ندی کے قریب پولیس کا ایک مبینہ مقابلے کے دوران ڈاکوؤں سے سامنا ہوا جس کے نتیجے میں ایک ملزم زخمی حالت میں پکڑا گیا۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزم کی شناخت نادر کے نام سے ہوئی ہے۔
مذکورہ کارروائی کے بعد زخمی ملزم کو فوری طور پر جناح ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں اسے طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ ملزم کے قبضے سے غیر قانونی اسلحہ اور دیگر متفرق سامان بھی قبضے میں لے لیا گیا ہے جس کی تفتیش جاری ہے۔
دوسری جانب جمشید کوارٹر پولیس نے ایم اے جناح روڈ پر واقع اسلامیہ کالج کے قریب ایک اور کارروائی انجام دی۔ اس مبینہ مقابلے کے نتیجے میں دو ملزمان کو حراست میں لیا گیا جن میں سے ایک گولی لگنے سے زخمی ہو گیا تھا۔
پولیس نے بتایا کہ زخمی ملزم کی شناخت منظور کے نام سے ہوئی ہے جسے سول ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ اس کارروائی میں پکڑے جانے والے دوسرے ملزم کا نام سمیر ہے جسے تفتیش کے لیے متعلقہ تھانے منتقل کر کے مزید پوچھ گچھ شروع کر دی گئی ہے۔
گلشن معمار کے علاقے میں تیسر ٹاؤن سیکٹر 85 میں بھی پولیس اور ملزمان کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ اس مبینہ مقابلے کے بعد ایک ملزم کو زخمی حالت میں دبوچ لیا گیا جس کی شناخت سنگل خان کے طور پر ہوئی ہے۔
پولیس حکام کے مطابق زخمی ملزم کو علاج کی غرض سے فوری طور پر قریبی ہسپتال پہنچایا گیا ہے۔ ملزم کے قبضے سے پولیس نے ایک عدد موٹر سائیکل اور اسلحہ بھی برآمد کر لیا ہے جو مبینہ طور پر مختلف وارداتوں میں استعمال کیا گیا تھا۔
ادھر تیموریہ پولیس نے نارتھ ناظم آباد کے علاقے میں ڈینٹل کالج کے قریب کارروائی کرتے ہوئے تین ملزمان کو دبوچ لیا جن میں سے دو زخمی حالت میں تھے۔ ان زخمی ملزمان کی شناخت فراز احمد اور ساگر کے ناموں سے ہوئی جنہیں عباسی شہید ہسپتال منتقل کیا گیا۔
تیسرے گرفتار ہونے والے ملزم کی شناخت محمد عمران کے طور پر کی گئی ہے جسے پولیس اسٹیشن منتقل کر کے قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق ان ملزمان کے قبضے سے تین پستول، موبائل فونز، نقدی، پرس اور ایک رکشا برآمد ہوا ہے۔
ایک اور کارروائی کے دوران ابراہیم حیدری پولیس نے روشن کانٹا کے قریب مبینہ مقابلے کے بعد عثمان نامی ملزم کو زخمی حالت میں گرفتار کر لیا۔ اس ملزم کو بھی جناح ہسپتال منتقل کیا گیا جبکہ اس کے قبضے سے اسلحہ اور موٹر سائیکل برآمد کی گئی۔
شہر میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے پولیس کی جانب سے انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائیوں میں تیزی لائی گئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ جرائم پیشہ عناصر کے خلاف یہ کارروائیاں بلا تفریق جاری رہیں گی تاکہ شہریوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
پولیس ترجمان کے مطابق گرفتار ملزمان سے برآمد ہونے والا سامان ان کے سابقہ جرائم کے ریکارڈ سے ملایا جا رہا ہے۔ تفتیشی ٹیمیں اب ان ملزمان کے نیٹ ورک کے دیگر ارکان کی گرفتاری کے لیے بھی چھاپے مار رہی ہیں تاکہ گروہ کا مکمل خاتمہ کیا جا سکے۔




اپنی رائے دیں