مواد پر جائیں
منگل، 27 اکتوبر 2026 16 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: صبح 5:17
بریکنگ
سرکاری اور مالیاتی اداروں کے ڈیجیٹل نظاموں پر سائبر حملوں کا خدشہکراچی: مختلف علاقوں میں پولیس مقابلے، 6 زخمیوں سمیت 8 ملزمان گرفتارخواتین کو بلیک میل کرنے والے 3 ملزمان گرفتار، این سی سی آئی اے کی کارروائییومِ سیاہ کشمیر: پاکستان کا کشمیریوں کی جدوجہد کی حمایت کا اعادہامریکی دھمکیاں بے اثر، خطے میں تعاون ہی امن کی ضمانت ہے: محسن رضائیانقرہ یونیورسٹی کے شعبۂ اردو کی سربراہی پروفیسر ڈاکٹر آئیکُت کشمیر کے سپردگورنر خیبر پختونخوا کی پشاور ماسٹر پلان کے اہداف پر عملدرآمد تیز کرنے کی ہدایتترک سفیر کی وزیر دفاع خواجہ آصف سے ملاقات، دفاعی تعاون بڑھانے پر اتفاقراولپنڈی: سسرالیوں کا خاتون پر مبینہ تشدد، بال کاٹنے اور زیورات چھیننے کا الزامبھارت: پسند کی شادی کیلئے لڑکی 100 فٹ بلند موبائل ٹاور پر چڑھ گئیدفتر خارجہ میں اہم سفارتی تقرریوں اور تبادلوں کی تیاریاںلاہور فیشن ویک: تیسرے روز مشرقی و مغربی ملبوسات کا حسین امتزاجبرطانوی بینک بارکلیز کی ہزاروں ملازمین کی چھانٹی کی تیاریایف پی ایس سی کے ملتوی ٹیسٹوں کی نئی تاریخوں کا اعلان کر دیا گیاکویت میں ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی کیلئے جدید نظام متعارفروزگار کیلئے مقامی انڈسٹری کا فروغ انتہائی ضروری ہے، مریم نوازرواں سال جولائی سے ستمبر تک کا توشہ خانہ ریکارڈ جاریاہلیہ سنیتا آہوجا کے الزامات پر بالی ووڈ اداکار گووندا کی خاموشی ختمایف بی آر کا ٹیکسٹائل اسپننگ یونٹس میں ویڈیو کیمرے لگانے کا حکمبس ڈرائیور کے بیٹے سے ’راکنگ سٹار یش‘ بننے کا دلچسپ سفر
دنیا

امریکی دھمکیاں بے اثر، خطے میں تعاون ہی امن کی ضمانت ہے: محسن رضائی

ایرانی جنرل محسن رضائی نے کہا کہ پاکستان، ترکیہ اور سعودی وفود کے دوروں نے ثابت کر دیا کہ علاقائی مسائل کا حل باہمی تعاون میں ہی مضمر ہے۔

امریکی دھمکیاں بے اثر، خطے میں تعاون ہی امن کی ضمانت ہے: محسن رضائی

تہران میں منعقدہ ایک اہم چار فریقی اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی جنرل محسن رضائی نے خطے کی موجودہ صورتحال پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے اعلیٰ سطحی وفود کے حالیہ دورہ ایران نے یہ واضح کر دیا ہے کہ امریکی دھمکیوں کی خطے میں کوئی اہمیت نہیں ہے۔

جنرل محسن رضائی کے مطابق، ایرانی قوم کی ثابت قدمی اور مسلح افواج کی طاقت نے خطے میں ایک مثبت فضا کو جنم دیا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ مغربی ایشیا میں قیامِ امن اور سلامتی کا انحصار مکمل طور پر علاقائی ممالک کے باہمی تعاون پر ہونا چاہیے، نہ کہ بیرونی مداخلت پر۔

ایرانی عہدیدار نے مزید کہا کہ خطے کے دیرینہ مسائل کا حل صرف اور صرف چاروں ممالک کے درمیان قریبی اشتراک عمل میں پوشیدہ ہے۔ انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ علاقائی تعاون کا آغاز بہت پہلے ہو جانا چاہیے تھا تاکہ خطے کو موجودہ چیلنجز سے محفوظ رکھا جا سکتا۔

محسن رضائی نے بیرونی مداخلت کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ خطے کے معاملات میں کسی بھی قسم کی غیر ملکی مداخلت کو ہر صورت روکا جانا چاہیے۔ انہوں نے صیہونی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ اسے جنوبی لبنان، جنوبی شام اور غزہ کے علاقوں سے فوری طور پر انخلا کرنا ہوگا۔

اس موقع پر ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایران خطے میں موجود باہمی اختلافات کو ختم کرنے اور تعاون کے نئے دور کا آغاز کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ انہوں نے اسلامی ممالک کے اتحاد پر زور دیا۔

صدر پزشکیان نے کہا کہ ایران اسلامی دنیا کے اتحاد، سلامتی اور پائیدار ترقی کے لیے ہر طرح کے معاہدے کی حمایت کرتا ہے۔ انہوں نے مسلم امہ سے اپیل کی کہ وہ اپنے چھوٹے اختلافات کو پس پشت ڈال کر مشترکہ مفادات اور خطے میں امن کے لیے متحد ہو جائیں۔

غزہ اور لبنان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے ایرانی صدر نے اسرائیلی حملوں کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی ممالک کو مل کر ان حملوں اور خطے میں پیدا ہونے والے عدم تحفظ کا مقابلہ کرنا ہوگا تاکہ مظلوم عوام کو ریلیف مل سکے۔

اپنے جوہری پروگرام کے حوالے سے صدر مسعود پزشکیان نے ایک بار پھر واضح کیا کہ ایران کسی بھی قسم کے جوہری ہتھیار بنانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔ انہوں نے کہا کہ ایران بین الاقوامی قوانین کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے اپنے پرامن جوہری سرگرمیاں جاری رکھنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

ایرانی قیادت کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی کے بادل منڈلا رہے ہیں۔ پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب جیسے اہم ممالک کا تہران کے ساتھ رابطہ خطے میں ایک نئی سفارتی صف بندی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق، ایران کا یہ موقف کہ خطے کی سلامتی خطے کے اندر سے ہی آنی چاہیے، ایک اہم پیش رفت ہے۔ یہ بات چیت ثابت کرتی ہے کہ خطے کے ممالک اب بیرونی دباؤ کے بجائے باہمی مذاکرات کو ترجیح دے رہے ہیں۔

مکہ معاہدے کے رکن ممالک کے نمائندوں کی ایرانی قیادت سے ملاقات کو خطے میں امن کی بحالی کی جانب ایک مثبت قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ اس ملاقات میں ہونے والے فیصلوں سے امید کی جا رہی ہے کہ خطے میں جاری کشیدگی میں کمی آئے گی۔

پاکستان نے ہمیشہ خطے میں امن اور استحکام کے لیے کردار ادا کیا ہے۔ ایران کی جانب سے پاکستان کے وفد کے دورے کو سراہنا دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ برادرانہ تعلقات اور باہمی اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔

مستقبل میں اس چار فریقی تعاون کے کیا اثرات ہوں گے، یہ دیکھنا باقی ہے۔ تاہم، ابتدائی اشارے بتاتے ہیں کہ خطے کے ممالک اب اپنے مسائل خود حل کرنے کے لیے ایک پلیٹ فارم پر اکٹھے ہونے کے لیے تیار ہیں۔

دنیا کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں