پنجاب حکومت نے معاشرے میں بڑھتے ہوئے منفی رجحانات کی روک تھام اور شہریوں کی نجی زندگی کے تقدس کو پامال ہونے سے بچانے کے لیے ایک اہم فیصلہ کرتے ہوئے جاسوسی کے آلات کی خریدوفروخت پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد ایسے تمام آلات کا خاتمہ ہے جو افراد کی اجازت کے بغیر ان کی ریکاڈنگ کرنے اور پرائیویسی متاثر کرنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔
صوبائی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے اس حوالے سے تفصیلی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی کہ وزیر اعلیٰ پنجاب نے یہ سخت فیصلہ کیا ہے جس کے تحت مختلف جاسوسی آلات کی کھلے عام مارکیٹ اور انٹرنیٹ پر دستیابی پر مکمل قدغن لگائی جائے گی۔ حکومت کی جانب سے اس مقصد کے لیے دفعہ چودہ دفعہ ایک سو چوالیس نافذ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
حکومتی فیصلے کے دائرہ کار میں آنے والی اشیاء کی نشاندہی کرتے ہوئے صوبائی وزیر نے بتایا کہ ان میں خاص طور پر جاسوسی والے گلاسز، کیمرے والے پین، کی چین اور بٹن نما پوشیدہ آلات شامل ہیں۔ یہ تمام اشیاء مارکیٹ اور مختلف آن لائن پلیٹ فارمز پر باآسانی دستیاب تھیں جنہیں غلط مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔
عظمیٰ بخاری نے معاشرتی رویوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ سوسائٹی کا عام رواج بن چکا ہے جہاں ہر شخص اپنی مرضی سے کسی بھی نجی ایونٹ یا معاملے کو جتنا چاہے طویل کرے اور بنا اجازت کے فوٹیج بنائے۔ انہوں نے اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کیا کہ صرف سوشل میڈیا پر ویوز حاصل کرنے کے لیے اس طرح کی ویڈیوز اپ لوڈ کی جاتی ہیں۔
پریس کانفرنس کے دوران صوبائی وزیر اطلاعات کا مزید کہنا تھا کہ آج کے دور میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر آپ کون ہیں جو بغیر اجازت کسی کی ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر وائرل کر دیتے ہیں۔ اس قسم کے غیر ذمہ دارانہ رویے معاشرتی بگاڑ کا باعث بن رہے ہیں جن پر قابو پانا انتہائی ضروری ہو چکا تھا۔
اس فیصلے پر عمل درآمد کے حوالے سے حکومت نے محکمہ داخلہ کو فوری اور سخت ہدایات جاری کر دی ہیں۔ ہوم ڈیپارٹمنٹ کو واضح حکم دیا گیا ہے کہ وہ اس معاملے پر بھرپور کریک ڈاؤن کرے تاکہ نہ صرف فیزیکل مارکیٹوں بلکہ آن لائن ذرائع سے بھی ان آلات کی خریدوفروخت کا سلسلہ مکمل طور پر روکا جا سکے۔
حکومتی ترجمان نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ اس پابندی کے بعد قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف فوری اور سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ انتظامیہ کی طرف سے بازاروں اور دکانوں کی کڑی نگرانی کی جائے گی تاکہ کوئی بھی شخص اس قانون کی خلاف ورزی کا مرتکب نہ ہو سکے۔
عظمیٰ بخاری نے پریس کانفرنس کے دوران دیگر سیاسی امور پر بھی گفتگو کی اور خیبر پختونخوا میں معدنیات کے لائسنسز کے حوالے سے اہم انکشافات کیے۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ چوبیس سال سے مختلف جماعتیں کے پی کے میں برسر اقتدار رہی ہیں اور معدنیات کا تمام تر قبضہ ان کے پاس رہا ہے۔
صوبائی وزیر نے خیبر پختونخوا کے حوالے سے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے بتایا کہ وہاں تیرہ سے چھبیس ہزار چار سو بیس لائسنس جاری کیے گئے۔ انہوں نے موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ قیام پاکستان سے لے کر سن دو ہزار دس تک معدنیات کے صرف چار سو بائیس لائسنس دیے گئے تھے۔
معدنیات کے ان ہزاروں لائسنسز کے اجرا پر بات کرتے ہوئے عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ اتنی بڑی تعداد میں لائسنس صرف دو وزرائے اعلیٰ سہیل آفریدی اور علی امین گنڈاپور کے دور میں جاری کیے گئے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ اس عمل کے پیچھے غیر سیاسی لوگوں کے نام سامنے آ رہے ہیں جو کہ ایک سنجیدہ معاملہ ہے۔
حکومتی کارروائیوں کا ذکر کرتے ہوئے صوبائی وزیر نے بتایا کہ پنجاب اور خیبر پختونخوا کے بارڈر پر وزیر اعلیٰ پنجاب نے بہت سختی کی ہے جس کے نتیجے میں غیر قانونی طور پر جاری ہونے والے تمام لائسنس کینسل کر دیے گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس لوٹ مار کے پروگرام کا تمام تر ریکارڈ حکومت کے پاس موجود ہے۔
عظمیٰ بخاری نے مزید کہا کہ اس سارے نظام کے پیچھے فیملی لمیٹڈ کمپنیاں بن رہی اور چل رہی تھیں، جبکہ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ فتنے خان کے کزن امریکہ سے بیٹھ کر صحت کا نظام چلا رہے تھے۔ انہوں نے کے پی کے کی سیاسی صورتحال پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہاں کے وسائل کو مخصوص افراد کے فائدے کے لیے استعمال کیا گیا۔
پنجاب حکومت کے ان تمام اقدامات کا مقصد صوبے میں امن عامہ، قانون کی حکمرانی اور شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ جاسوسی کے آلات پر پابندی اور دیگر انتظامی امور پر زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت عمل درآمد جاری رہے گا تاکہ معاشرے میں بہتری لائی جا سکے۔





اپنی رائے دیں