اسلام آباد میں وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان سے ایتھوپیا کے سفیر عمر حسین اوبا نے ایک اہم ملاقات کی جس میں دونوں برادر ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات اور تجارتی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات کے دوران اس بات کا خصوصی طور پر جائزہ لیا گیا کہ سفارتی اور سرکاری پاسپورٹ رکھنے والے پاکستانی شہریوں کے لیے ویزا استثنیٰ کے معاہدے کو جلد از جلد حتمی شکل دی جائے تاکہ سفارتی اور سرکاری دورے آسان ہو سکیں۔
اس موقع پر حکومت پاکستان کے اعلیٰ حکام بھی موجود تھے جن میں رانا احسان افضل اور سیکرٹری تجارت جواد پال بھی شامل تھے جنہوں نے افریقی خطے کے ساتھ تجارتی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔
وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے ملاقات کے دوران اس امر پر بھرپور زور دیا کہ پاکستانی ادویہ ساز کمپنیوں کو ایتھوپیا کی بڑی منڈی تک رسائی دی جانی چاہیے تاکہ ادویات کی برآمدات کو وسعت دی جا سکے۔
انہوں نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ ادویات کی رجسٹریشن کے عمل میں حائل تمام رکاوٹوں کو فوری طور پر دور کیا جائے تاکہ پاکستان کی فارماسیوٹیکل صنعت افریقی منڈیوں میں اپنی برآمدات کو نمایاں طور پر بڑھا سکے۔
وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ پاکستان کی فارماسیوٹیکل صنعت عالمی معیار کے مطابق ادویات تیار کرتی ہے اور افریقی منڈیوں میں برآمدات کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے جس سے دونوں ممالک مستفید ہو سکتے ہیں۔
ایتھوپیا کے سفیر عمر حسین اوبا نے وفاقی وزیر تجارت کو یقین دلایا کہ انہوں نے ادویات کی رجسٹریشن کے زیر التوا تمام معاملات کو متعلقہ ملکی حکام کے سامنے موثر انداز میں اٹھایا ہے۔
سفیر نے شرکاء کو مزید بتایا کہ ایتھوپین حکام نے ان تمام تکنیکی مسائل کو جلد از جلد حل کرنے کی مکمل یقین دہانی کرائی ہے تاکہ دونوں ممالک کے مابین ادویات کی تجارت بلا تعطل شروع ہو سکے۔
سیکرٹری تجارت جواد پال نے ملاقات میں اس اشد ضرورت پر زور دیا کہ ایتھوپیا کی تکنیکی ٹیم کا دورہ پاکستان جلد از جلد یقینی بنایا جائے تاکہ ادویات کے معیار کو یقینی بنایا جا سکے۔
یہ تکنیکی ٹیم پاکستان میں موجود مختلف ادویہ ساز کمپنیوں کا ذاتی طور پر دورہ کر کے جائزہ لے گی اور ان کے پیدائشی اور حفاظتی معیار کی باریک بینی سے جانچ پڑتال کرے گی۔
ملاقات کے دوران دونوں ممالک کے درمیان تمام تر تجارتی رکاوٹوں کو مرحلہوار دور کرنے اور باہمی اقتصادی روابط کو مزید مستحکم کرنے پر مکمل اتفاق رائے پایا گیا۔
اس کے علاوہ دونوں رہنماؤں نے متعلقہ ملکی اداروں کے درمیان قریبی اور مؤثر رابطے قائم رکھنے کے عزم کا اظہار کیا تاکہ بالآخر طے پانے والے فیصلوں پر فوری عمل درآمد ہو سکے۔
گفتگو کے دوران عالمی تجارتی تنظیم یعنی ڈبلیو ٹی او میں ایتھوپیا کی شمولیت کے جاری عمل پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا جس کے اقدامات کو دونوں جانب سے سراہا گیا۔
پاکستان اور ایتھوپیا کے درمیان اس نوعیت کے اعلیٰ سطح کے رابطے دونوں ممالک کے دوطرفہ اقتصادی تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانے میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتے ہیں۔
متعلقہ سرکاری حکام کا ماننا ہے کہ اس قسم کے باہمی معاہدوں سے مستقبل قریب میں دونوں ممالک کے درمیان تجارتی حجم میں خاطر خواہ اور مثبت اضافہ دیکھنے میں آئے گا۔





اپنی رائے دیں