لاہور ہائیکورٹ کے دو رکنی بینچ نے بیوی اور چچی کو آگ لگانے والے قتل کے مجرم اعجاز حسین کی سزائے موت کے خلاف دائر اپیل خارج کر دی ہے۔ عدالت کے اس فیصلے کے نتیجے میں مجرم کی سزائے موت برقرار رکھی گئی ہے۔
اس اپیل پر سماعت کرنے والے دو رکنی بینچ میں جسٹس شہرام سرور چوہدری اور جسٹس سردار اکبر علی ڈوگر شامل تھے۔ عدالت نے فریقین کے دلائل اور کیس کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لینے کے بعد یہ فیصلہ سنایا۔
مقدمے کی تفصیلات کے مطابق مجرم اعجاز حسین کی بیوی نورین اختر کے میکے جانے پر تلخ صورتحال پیدا ہوئی تھی۔ ملزم نے طیش میں آ کر اپنی بیوی نورین اختر اور چچی پروین اختر پر آگ لگا دی تھی۔
اس ہولناک واقعے کے نتیجے میں پروین اختر شدید جھلس کر جاں بحق ہو گئی تھیں جبکہ نورین اختر زخمی ہونے میں کامیاب رہی تھیں لیکن وہ شدید متاثر ہوئیں۔ پولیس نے اس واقعے کا مقدمہ خوشاب کے تھانہ جوہر آباد میں درج کیا تھا۔
تھانہ جوہر آباد میں یہ مقدمہ 14 مئی 2020ء کو قتل اور اقدامِ قتل کی دفعات کے تحت درج کیا گیا تھا۔ پولیس نے اس سنگین معاملے کی تفتیش مکمل کر کے متعلقہ عدالت میں چالان پیش کیا تھا جس پر کارروائی عمل میں لائی گئی۔
عدالتی کارروائی اور سماعت کے دوران زخمی ہونے والی بیوی نورین اختر کی گواہی مجرم کے خلاف انتہائی اہم ثابت ہوئی۔ اس کے علاوہ کیس کے دیگر چشم دید گواہوں کے بیانات بھی مجرم کے خلاف مضبوط ثبوت کے طور پر سامنے آئے۔
عدالت نے تمام شواہد، گواہوں کے بیانات اور ریکارڈ کا باریک بینی سے جائزہ لینے کے بعد مجرم کی اپیل کو مسترد کر دیا۔ عدالت نے واضح کیا کہ فراہم کردہ شواہد کی روشنی میں مجرم پر جرم ثابت ہوتا ہے۔
اس طرح عدالتِ عالیہ نے ماتحت عدالت کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے مجرم اعجاز حسین کی سزائے موت کے خلاف دائر کردہ اپیل کو باضابطہ طور پر خارج کر دیا۔

اپنی رائے دیں