مواد پر جائیں
بدھ، 21 اکتوبر 2026 10 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: دوپہر 2:37
بریکنگ
اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کا شیڈول جاری، پولنگ 20 دسمبر کو ہوگیٹھٹھہ: موبائل فون نہ ملنے پر 12 سالہ بیٹے کا والد پر تیز دھار آلے سے حملہصادق آباد: سفاک ماں کا 4 سالہ بیٹے پر تشدد، ویڈیو وائرل ہونے پر پولیس متحرکلاہور: نشتر کالونی میں مبینہ زہریلا دودھ پینے سے بچہ جاں بحق، دکاندار گرفتارجماعت اسلامی کا 23 اکتوبر سے اسلام آباد سپر لانگ مارچ کے تیسرے مرحلے کا اعلانسعودی اتحادی افواج کا مدینہ منورہ کی جانب آنے والے 4 ڈرونز تباہ کرنے کا دعویٰامریکی مڈٹرم انتخابات سے قبل صدر ٹرمپ کی مقبولیت نچلی ترین سطح پر پہنچ گئیلاہور: نشتر کالونی میں مضر صحت دودھ پینے سے دو سالہ بچہ جاں بحقپٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں معمولی اضافہ، نیا نوٹیفکیشن جاریراجن پور میں المناک حادثہ، مسافر بس الٹنے سے 8 افراد جاں بحقٹائیگر شروف پر حملے کے بعد سلمان خان کی سکیورٹی میں غیر معمولی اضافہحج و عمرہ زائرین ویکسین اسکینڈل: بارڈر ہیلتھ سروسز کے سربراہ سمیت 3 افسران گرفتارفیلڈ مارشل عاصم منیر کا دورہ ایران: اہم علاقائی امور پر تبادلہ خیالایم ڈی کیٹ نتائج اور سوالنامہ: پی ایم ڈی سی کا ہنگامی اجلاس طلبحکومت کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں معمولی اضافہبالی ووڈ فلم ’اڑتا تیر‘ نیپال میں نمائش سے محرومخیبر پختونخوا میں مائنز اینڈ منرلز وزارت میں اربوں روپے کی کرپشن بے نقابپاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کا سیف گیمز تیاریوں کیلئے بڑا قدم2045 تک خلا میں انسانوں کی بستیوں کا امکان، جیف بیزوس کی پیشگوئیاسلام آباد میں شیشہ کیفیز کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کرنے کا فیصلہ
پاکستان

پنجاب میں بچوں سے بھیک منگوانے پر 3 سال قید اور جرمانے کا آرڈیننس نافذ

گورنر پنجاب نے پنجاب ویگرنسی ترمیمی آرڈیننس 2026 کی منظوری دے دی ہے جس کے تحت بچوں سے گداگری کرانے والوں کو سخت سزائیں دی جائیں گی۔

پنجاب میں بچوں سے بھیک منگوانے پر 3 سال قید اور جرمانے کا آرڈیننس نافذ

پنجاب کے صوبے میں بچوں سے زبردستی بھیک منگوانے کے گھناؤنے فعل کی روک تھام کے لیے حکومت نے ایک انتہائی اہم اور سخت قانون نافذ کر دیا ہے۔ گورنر پنجاب نے پنجاب ویگرنسی ترمیمی آرڈیننس 2026 کی باضابطہ طور پر منظوری دے دی ہے جس کا گزٹ نوٹیفکیشن بھی جاری کیا جا چکا ہے۔

اس نئے قانون کا بنیادی مقصد معصوم بچوں کے استحصال کا خاتمہ کرنا اور انہیں اس بری عادت میں دھکیلنے والے عناصر کے خلاف آہنی ہاتھوں سے نمٹنا ہے۔ پولیس اور متعلقہ انتظامی حکام کے مطابق اس اقدام سے صوبے بھر میں گداگری کے اسباب کو جڑ سے اکھاڑنے میں مدد ملے گی۔

نئے آرڈیننس کے تحت قانونی طور پر بچے کی تعریف میں بھی اہم تبدیلی کی گئی ہے اور اب بچوں کی عمر کی حد کو چودہ سال سے بڑھا کر سولہ سال کر دیا گیا ہے۔ اس تبدیلی سے سولہ سال سے کم عمر کے تمام افراد کو قانون کے دائرہ کار میں مکمل تحفظ فراہم کیا جائے گا۔

قانون کی خلاف ورزی کرنے والے والدین اور سرپرستوں کے خلاف اب کسی بھی قسم کی نرمی نہیں برتی جائے گی اور بچوں سے گداگری کرانے پر تین سال تک کی قید کی سزا سنائی جا سکے گی۔ اس کے علاوہ عدالت کی جانب سے مجرموں پر بھاری مالی جرمانے بھی عائد کیے جائیں گے۔

ترمیم شدہ آرڈیننس کے مطابق بچوں سے بھیک منگوانے کے مرتکب افراد کو تین لاکھ روپے تک کا جرمانہ ادا کرنا ہوگا جو کہ اس قبیح فعل کی حوصلہ شکنی کے لیے ایک بڑا قدم ہے۔ یہ مالی سزا بچوں کے حقوق کے تحفظ اور ان کے بہتر مستقبل کے لیے ناگزیر قرار دی جا رہی ہے۔

گدائی کی اس لعنت کو سختی سے کچلنے کے لیے صوبائی انتظامی ڈھانچے میں بھی اہم تبدیلیاں کی گئی ہیں تاکہ اس پر مؤثر طریقے سے عمل درآمد کیا جا سکے۔ ڈائریکٹر جنرل سوشل ویلفیئر اینڈ بیت المال کو اس نئے نظام کے تحت کنٹرولر آف ویگرنسی مقرر کر دیا گیا ہے۔

اس انتظامی تبدیلی سے محکمہ سوشل ویلفیئر کے اختیارات میں اضافہ ہو گیا ہے اور وہ بچوں کو گداگری میں دھکیلنے والے مافیا اور افراد کے خلاف براہ راست قانونی کارروائی کرنے کے مجاز ہوں گے۔ اس سے کارروائی کا دائرہ کار مزید وسیع اور شفاف ہوگا۔

معاشرے میں یہ عام دیکھا گیا تھا کہ مختلف مافیا کم عمر بچوں کو استعمال کر کے یومیہ لاکھوں روپے کماتے تھے اور بچوں کے بنیادی حقوق کو پامال کیا جاتا تھا۔ اب اس نئے قانون کے نفاذ کے بعد ایسے تمام عناصر قانون کی گرفت میں ہوں گے اور بچنا ناممکن ہو جائے گا۔

سماجی حلقوں اور فلاحی تنظیموں نے حکومت کے اس اقدام کو سراہا ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ اس سے بچوں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنے گا۔ بچوں کو اسکولوں اور کھیل کے میدانوں میں ہونا چاہیے نہ کہ سڑکوں پر بھیک مانگتے ہوئے پایا جائے۔

پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اس ترمیمی آرڈیننس پر فوری اور سختی سے عمل درآمد شروع کریں۔ شہروں کے مختلف چوکوں اور شاہراہوں پر گداگری میں ملوث بچوں اور ان کے سرپرستوں کے خلاف خصوصی آپریشنز متوقع ہیں۔

حکومت پنجاب کا یہ قدم بچوں کے تحفظ اور معاشرتی اصلاحات کی جانب ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے جس سے آنے والے دنوں میں مثبت تبدیلیوں کی توقع کی جا رہی ہے۔ عوام سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ اس قانون کی کامیابی میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔

صوبائی سطح پر اس نئے قانون کے نفاذ کے بعد تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت جاری کی گئی ہے کہ وہ گداگری کے خلاف بلا امتیاز کارروائیاں عمل میں لائیں۔ بچوں کے حقوق کی تنظیمیں بھی اس پیشرفت کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کر رہی ہیں کہ اس سے معاشرے میں ایک مثبت تبدیلی آئے گی۔

اس پورے معاملے پر پولیس حکام کا کہنا ہے کہ نئے آرڈیننس کے نفاذ سے بچوں کے استحصال کی روک تھام میں خاطر خواہ مدد ملے گی۔ بچوں کو اس غیر قانونی دھندے سے نکالنے کے لیے قانون نافذ کرنے والے ادارے اور سوشل ویلفیئر کا محکمہ باہمی تعاون سے اقدامات کو مزید تیز کریں گے۔

پاکستان کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں