مواد پر جائیں
پیر، 19 اکتوبر 2026 8 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: صبح 7:17
بریکنگ
روس یوکرین جنگ کے خاتمے کیلئے مذاکرات کر رہا ہوں، ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰبلوچستان: سیکیورٹی فورسز کے انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز میں 8 دہشت گرد ہلاکیمن میں حوثی باغیوں کے خلاف آپریشن ڈان آف یمن جاری، 1326 حملےبالی ووڈ اداکار ٹائیگر شیروف پر حملہ، گاڑی پر فائرنگ سے مداح تشویش میں مبتلاآزاد کشمیر میں بدامنی کیلئے بھارتی سازش اور کالعدم تنظیم کا گٹھ جوڑ بے نقابخیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کا نفاذ: قومی سلامتی اور سیاسی استحکام کا تقاضادانش اسکول کا دائرہ کار پورے پاکستان تک وسیع کرنے کا اعلانایران کی امریکا کو سات روزہ تجویز، شرائط ماننے پر آبنائے ہرمز کھولنے کا عندیہبالی وڈ اداکار ٹائیگر شروف فائرنگ کے واقعے میں محفوظ رہےکراچی میں غیر ملکیوں کو لوٹنے والا بڑا سائبر فراڈ نیٹ ورک بے نقاببولان: مزدا اور کار میں تصادم، خواتین اور بچوں سمیت 4 افراد جاں بحقممبئی میں بالی ووڈ اداکار ٹائیگر شیروف کی گاڑی پر فائرنگ، اداکار محفوظراولپنڈی: ون ویلنگ سے روکنے پر فائرنگ، خاتون سمیت 3 افراد زخمیبھارتی اداکار ٹائیگر شروف پر قاتلانہ حملہ، ڈرائیور سمیت تین افراد زخمیروس پر امریکی پابندیوں میں نرمی کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل سستا ہو گیایمن: سرکاری افواج کی تعز میں پیش قدمی، حوثی ٹھکانوں پر فضائی حملےبینک آف پنجاب کی جانب سے نووا کیئر ہسپتال اسلام آباد کیلئے 17 ارب روپے کی فنانسنگاسحاق ڈار اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا ٹیلی فونک رابطہ، خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیالفرانسیسی صدر کا پرامن احتجاج اور تخریب کاری میں فرق کرنے پر زورخیبر پختونخوا میں گورنر راج کا نفاذ: بلاول بھٹو کا مشترکہ لائحہ عمل پر زور
پاکستان

اسحاق ڈار اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا ٹیلی فونک رابطہ، خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور ان کے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی نے دوطرفہ تعلقات اور علاقائی امن و امان پر گفتگو کی۔

اسحاق ڈار اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا ٹیلی فونک رابطہ، خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال

پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار اور ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے۔ اس اہم سفارتی گفتگو کے دوران دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ نے دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے اور خطے کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا ہے۔

وزارت خارجہ کے ذرائع کے مطابق اس گفتگو کا مرکزی مقصد برادر ہمسایہ ممالک کے درمیان سفارتی رابطوں کو تسلسل کے ساتھ برقرار رکھنا اور باہمی دلچسپی کے امور پر ہم آہنگی پیدا کرنا تھا۔ دونوں وزرائے خارجہ نے اس بات پر اتفاق کیا کہ خطے میں امن و استحکام کے لیے مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں۔

اسحاق ڈار نے گفتگو کے دوران پاکستان اور ایران کے مابین تاریخی، ثقافتی اور مذہبی رشتوں کی گہرائی کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایران کے ساتھ اپنے تعلقات کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور دونوں ممالک کے مابین اقتصادی و تجارتی تعاون کو فروغ دینے کا خواہاں ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی پاکستان کے ساتھ تعلقات کو مزید وسعت دینے کی خواہش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان قریبی روابط خطے کے مجموعی امن اور ترقی کے لیے انتہائی اہم ہیں اور ایران پاکستان کے ساتھ ہر سطح پر تعاون جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔

ملاقات میں خطے میں درپیش چیلنجز اور بدلتی ہوئی جیو پولیٹیکل صورتحال پر بھی بات چیت کی گئی۔ دونوں رہنماؤں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ خطے کے مسائل کا حل باہمی مشاورت اور سفارتی ذرائع سے ہی ممکن ہے، جس سے خطے میں پائیدار امن اور خوشحالی کا قیام یقینی بنایا جا سکے۔

اسحاق ڈار اور عباس عراقچی نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان اور ایران کو درپیش علاقائی چیلنجز کے تناظر میں مسلسل رابطے میں رہنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو بڑھانے کے لیے موجودہ میکانزم کو مزید فعال اور موثر بنانے پر بھی اتفاق کیا۔

پاکستان اور ایران کے درمیان یہ ٹیلی فونک رابطہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب خطے میں مختلف سکیورٹی اور سیاسی پیش رفت جاری ہیں۔ دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کا یہ اقدام دونوں ملکوں کے درمیان اعتماد سازی اور سفارتی تعلقات میں بہتری لانے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

یاد رہے کہ پاکستان اور ایران کے درمیان تجارتی اور سرحدی امور پر ماضی میں بھی اعلیٰ سطح کے رابطے ہوتے رہے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان بارڈر مارکیٹس کے قیام اور توانائی کے شعبے میں تعاون کے منصوبے بھی زیر غور رہتے ہیں جن پر پیش رفت کے لیے ایسے رابطے کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔

اسحاق ڈار نے اپنے ایرانی ہم منصب کو پاکستان کے دورے کی دعوت کا اعادہ کیا تاکہ دوطرفہ امور پر مزید تفصیلی اور بالمشافہ بات چیت کی جا سکے۔ ایرانی وزیر خارجہ نے اس دعوت کو سراہتے ہوئے مستقبل میں دورے کے امکانات پر مثبت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

دونوں رہنماؤں نے اس بات کا بھی اعادہ کیا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان کسی بھی قسم کی غلط فہمیوں کو دور کرنے کے لیے سفارتی چینلز کا استعمال سب سے موثر طریقہ ہے۔ انہوں نے دونوں ملکوں کے عوام کی فلاح و بہبود کے لیے مل کر کام کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔

سفارتی ماہرین کے مطابق اس طرح کے اعلیٰ سطحی رابطے پاکستان کی خارجہ پالیسی کا اہم حصہ ہیں جس کا مقصد ہمسایہ ممالک کے ساتھ دوستانہ اور باہمی احترام پر مبنی تعلقات کو فروغ دینا ہے۔ اس سے خطے میں پاکستان کا اثر و رسوخ بڑھنے کے ساتھ ساتھ امن کی کوششوں کو تقویت ملتی ہے۔

بات چیت کے اختتام پر دونوں وزرائے خارجہ نے اس بات پر اتفاق کیا کہ وہ مستقبل میں بھی علاقائی اور بین الاقوامی معاملات پر ایک دوسرے کے ساتھ مشاورت کا عمل جاری رکھیں گے۔ یہ رابطہ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات میں ایک مثبت پیش رفت اور باہمی اعتماد کا مظہر ہے۔

پاکستان اور ایران کے مابین یہ رابطہ دونوں ممالک کے درمیان طویل المدتی شراکت داری کو مزید مستحکم کرنے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔ دونوں وزرائے خارجہ نے اپنے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ وہ ان امور پر عمل درآمد کے لیے رابطے برقرار رکھیں تاکہ باہمی مفادات کے اہداف حاصل کیے جا سکیں۔

پاکستان کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں