یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی مسلح افواج نے ملک کے اسٹریٹجک صوبے تعز کے مختلف محاذوں پر حوثی جنگجوؤں کے خلاف کارروائیوں میں نمایاں پیش رفت کا دعویٰ کیا ہے۔ اس کارروائی کے نتیجے میں عسکری توازن پر گہرے اثرات مرتب ہونے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔
فوج کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ بیان میں بتایا گیا ہے کہ سیکیورٹی دستوں نے جنوبی تعز کے علاقوں سناماہ اور سراری کے محاذوں پر بھرپور کارروائی کی ہے۔ اس دوران باغیوں کے زیر قبضہ متعدد پوزیشنوں پر دباؤ بڑھایا گیا اور دفاعی مورچوں کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا۔
عسکری حکام کے مطابق حوثی باغیوں کے ٹھکانوں پر ایک جامع جارحانہ کارروائی شروع کی گئی تھی جس کے دوران مخالف گروپ کے ٹھکانوں اور ساز و سامان کو بھاری نقصان پہنچایا گیا ہے۔ ان محاذوں پر دونوں اطراف سے شدید جھڑپیں بھی ہوئیں۔
بیان میں مزید واضح کیا گیا کہ زمینی پیش قدمی کو یقینی بنانے اور باغیوں کی سپلائی لائن کو مفلوج کرنے کے لیے تعز کے شمال مغربی حصے میں حوثی جنگجوؤں کے ٹھکانوں پر تین فضائی حملے بھی کیے گئے۔ ان فضائی ضربوں نے مخالفین کی نقل و حرکت کو شدید متاثر کیا۔
صوبہ تعز یمن کی طویل خانہ جنگی کے دوران ایک انتہائی اہم اور حساس میدان جنگ رہا ہے۔ یہ علاقہ ملک کے شمالی پہاڑی علاقوں اور جنوبی ساحلی پٹی کے درمیان بنیادی زمینی گزرگاہ کی حیثیت رکھتا ہے، جس کی وجہ سے فریقین اس پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے کوشاں رہتے ہیں۔
یمن میں تعز شہر گزشتہ کئی برسوں سے مسلسل کشیدگی اور محاصرے کی کیفیت میں گھرا ہوا ہے۔ حوثی فورسز نے شہر کے اہم داخلی راستوں پر ناکہ بندی کر رکھی ہے، جس سے مقامی آبادی کو سنگین مشکلات اور نقل و حمل کے شدید بحران کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ملک میں بحران کا باقاعدہ آغاز سال 2014 کے اواخر میں ہوا تھا جب حوثی تحریک نے دارالحکومت صنعاء پر قبضہ کر کے حکومتی اداروں کا کنٹرول سنبھال لیا تھا۔ اس پیش رفت کے بعد قانونی حکومت کو عارضی طور پر جنوبی شہر عدن منتقل ہونا پڑا تھا جہاں سے ریاستی امور چلائے جا رہے ہیں۔
بعد ازاں یمنی تنازع ایک وسیع علاقائی بحران کی شکل اختیار کر گیا، جس کے نتیجے میں ملک کے مختلف حصوں میں عسکری جھڑپوں نے طول پکڑا۔ حالیہ برسوں میں حکومت کی صدارتی قیادت کونسل نے مختلف دھڑوں کو متحد کر کے حوثی پیش قدمی روکنے کی حکمت عملی اپنائی ہے۔
تعز کے جنوبی اور مغربی اضلاع میں گزشتہ چند ماہ سے وقفے وقفے سے جھڑپوں کی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں۔ اگرچہ اقوام متحدہ کی سرپرستی میں جنگ بندی کی کوششیں کی گئیں، تاہم زمینی سطح پر بعض علاقوں میں عسکری کشیدگی بدستور برقرار رہی ہے۔
بین الاقوامی امدادی اداروں کے مطابق تعز میں جاری جھڑپوں کے نتیجے میں عام شہریوں کی زندگی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ ہسپتالوں تک رسائی، خوراک کی ترسیل اور روزمرہ کی بنیادی ضروریات کی فراہمی میں طویل راستوں کے استعمال کی وجہ سے لاگت میں کئی گنا اضافہ ہو چکا ہے۔
یمنی فوج کے ذرائع کا کہنا ہے کہ تازہ فوجی پیش رفت کا مقصد تعز کے اطراف قائم محاصرے کے دباؤ کو کم کرنا اور شہری آبادی کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔ حکومتی فورسز نے مختلف قبائلی اور مقامی دھڑوں کے تعاون سے اپنے قدم مضبوط کیے ہیں۔
سفارتی محاذ پر اقوام متحدہ اور عالمی برادری کی جانب سے یمن میں جامع اور پائیدار امن کے قیام کے لیے کوششیں بدستور جاری ہیں۔ مختلف سفارتی چینلز کے ذریعے فریقین پر زور دیا جاتا رہا ہے کہ وہ سیاسی عمل کی بحالی کی جانب پیش رفت کریں تاکہ مستقل فائر بندی ممکن ہو سکے۔
عسکری تجزیہ کاروں کے مطابق سناماہ اور سراری کے محاذوں پر حالیہ تصادم اس بات کا مظہر ہے کہ یمن کے تنازع میں پائیدار سیاسی معاہدے کے بغیر مستقل امن کا قیام مشکل دکھائی دیتا ہے۔ تعز میں حالیہ پیش رفت آنے والے دنوں میں جنگ بندی مذاکرات پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے۔




اپنی رائے دیں