مواد پر جائیں
ہفتہ 26، جمادی الاول 1448ھ 7، نومبر 2026ء آخری اپ ڈیٹ:
بریکنگ
انڈر 19 ایشیا کپ: عثمان خان کی شاندار سنچری، پاکستان کی متحدہ عرب امارات کے خلاف فتحترک پارلیمنٹ نے پاکستان اور سعودی عرب کے ساتھ مکہ دفاعی معاہدے کی توثیق کر دیاپ ڈیٹ: سمندر میں تیل و گیس کی تلاش: ترک سیسمک جہاز کی کراچی آمد کے انتظامات مکملامریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے مذاکرات میں پیشرفتکراچی: طارق روڈ پر جیولر کے ملازمین سے 82 تولے سونا اور 4 کلو چاندی لوٹ لی گئیامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا سٹی فن ملر کو وائٹ ہاؤس کا نیا چیف آف سٹاف مقرر کرنے کا اعلانپاکستان اور سوڈان کا سیکیورٹی اور انسدادِ دہشت گردی میں تعاون بڑھانے پر اتفاقاین ایف ایل: شیڈور سینڈرز اتوار کو کلیولینڈ براؤنز کی قیادت کریں گےقائداعظم ٹرافی گولڈ: پشاور بلیوز، فاٹا اور ملتان کی شاندار فتوحاتپاکستان کا بیرونی قرض 10 برس میں دگنا ہو کر 135 ارب ڈالر تک پہنچ گیاکراچی میں 350 مشتبہ کال سینٹرز جعل سازی میں ملوث، سائبر کرائم ایجنسی کا انکشافاسلام آباد میں تین روزہ پاکستان ٹورازم، سپورٹس اینڈ فیملی فیسٹیول کا آغازامریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کا عہدے پر برقرار رہنے کا عزم، ایران جنگ کا دفاعوزیراعظم مولانا فضل الرحمان کی عزت کرتے ہیں، سیاسی مخالفت نہیں چاہتے: رانا ثنا اللہامریکی وسط مدتی انتخابات کے نتائج: 2028 کے صدارتی مقابلے کی ہلچل شروعمیگھن مارکل کے والد تھامس مارکل بچوں کی نازیبا ویڈیوز رکھنے کے الزام میں گرفتارنیو انگلینڈ پیٹریٹس کے رننگ بیک ٹریویون ہینڈرسن نیورولوجیکل مسائل کے باعث ٹیم سے باہرچین کی ترقی پذیر ممالک میں کلین ٹیکنالوجی کے لیے 132 ارب ڈالر کی سرمایہ کاریامریکہ میں اکتوبر کے دوران ملازمتوں میں توقع سے زیادہ اضافہٹیسلا کا سائبر ٹرک کی پیداوار بند کرنے کا اعلان، توجہ سائبر کیب پر مرکوز
دنیا

ایران نے اپنے دفاعی نظام کو جدید ہتھیاروں سے لیس کر لیا، پاسدارانِ انقلاب

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ کسی بھی ممکنہ جارحیت کا جواب دینے کے لیے افواج مکمل طور پر تیار ہیں۔

ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ چالیس روز کے دوران جاری کشیدگی کے بعد ملک کے دفاعی نظام اور اسلحہ خانے کو جدید ترین ہتھیاروں سے مزید مضبوط بنا دیا گیا ہے۔ یہ پیش رفت خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں سامنے آئی ہے۔

ایرانی حکام کے مطابق حالیہ عرصے میں ہونے والی فوجی کارروائیوں کے دوران ایران نے اپنے پرانے دفاعی آلات کا استعمال کیا تھا، تاہم اب ملکی دفاع کو مزید مستحکم کرنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی اور ہتھیاروں کو شامل کر لیا گیا ہے تاکہ کسی بھی خطرے سے نمٹا جا سکے۔

پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان حسین محیبی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اگر ایران پر دوبارہ کسی قسم کا حملہ کیا گیا تو جارح قوتوں کو پہلے سے کہیں زیادہ سخت اور فیصلہ کن نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا، جس کے لیے ایرانی افواج پوری طرح تیار ہیں۔

ترجمان نے مزید کہا کہ ایران کے خلاف کسی بھی نئی امریکی فوجی کارروائی کے امکان کو مکمل طور پر رد نہیں کیا جا سکتا، تاہم ایسی کسی بھی مہم جوئی کو غیر دانشمندانہ اقدام قرار دیا گیا ہے جو خطے کے امن کے لیے انتہائی نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔

حسین محیبی نے اپنے تجزیے میں یہ بھی کہا کہ امریکی انتظامیہ کو اپنے سیاسی اہداف کے حصول اور وسط مدتی انتخابات سے قبل عوامی سطح پر کامیابی دکھانے کی ضرورت پیش آ سکتی ہے، جس کے پیش نظر وہ جارحانہ پالیسیوں کا سہارا لے سکتے ہیں۔

ایرانی عسکری حکام کا کہنا ہے کہ ان کا ملک کسی بھی جنگ کا خواہشمند نہیں ہے لیکن اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ دفاعی تیاریوں کو اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔

گزشتہ کچھ عرصے سے مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث ایران نے اپنی عسکری حکمت عملی میں تبدیلیاں کی ہیں۔ تہران کا موقف ہے کہ خطے میں غیر ملکی مداخلت کے خاتمے تک امن کا قیام ممکن نہیں ہے اور وہ اپنے دفاع کو ہر قیمت پر یقینی بنائیں گے۔

بین الاقوامی مبصرین کے مطابق ایران کی جانب سے ہتھیاروں کی اپ گریڈیشن کا اعلان خطے میں طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے کی ایک کوشش ہے۔ ایران کا یہ بھی ماننا ہے کہ اس کی دفاعی صلاحیتوں میں اضافہ دراصل خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے۔

ایران کی جانب سے جاری کردہ اس بیان کے بعد عالمی سطح پر سفارتی حلقوں میں بھی تشویش پائی جاتی ہے۔ مختلف ممالک کی جانب سے فریقین پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ کشیدگی کم کرنے کے لیے بات چیت کا راستہ اختیار کریں تاکہ بڑے تصادم سے بچا جا سکے۔

ایرانی قیادت کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ اپنے میزائل پروگرام اور دفاعی صلاحیتوں پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ ان کے نزدیک یہ ہتھیار ملکی بقا کے لیے ناگزیر ہیں اور ان کا مقصد صرف اور صرف جارحیت کا سدِ باب کرنا ہے۔

مستقبل کے حوالے سے ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ وہ صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ کسی بھی قسم کی اشتعال انگیزی کا جواب دینے کے لیے ایرانی مسلح افواج کے تمام شعبے ہائی الرٹ پر ہیں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔

عالمی برادری اب اس صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے کہ آیا یہ بیان بازی کشیدگی میں مزید اضافے کا باعث بنے گی یا پھر فریقین کسی سفارتی حل کی جانب پیش رفت کریں گے۔ تہران کا اصرار ہے کہ ان کی دفاعی پالیسی خالصتاً دفاعی نوعیت کی ہے۔

اس موضوع پر مزید خبریں

دنیا کی تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
چیف ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر صحافی جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی ادارتی پالیسی، خبروں کی تصدیق اور معیار ان کی نگرانی میں ہے۔

  • نیوز ڈیسک — قومی، بین الاقوامی، عدالت اور جرم و سزا کی خبریں

ہمیں فالو کریں