حکومتِ پاکستان نے شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبال کی 150ویں سالگرہ کو شایانِ شان طریقے سے منانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں تقریبات کا آغاز 9 نومبر 2026 سے ہو رہا ہے جو 9 نومبر 2027 تک ایک سال کے عرصے تک جاری رہیں گی۔
وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کھچی نے اپنے ایک پیغام میں کہا کہ ان تقریبات کا بنیادی مقصد علامہ اقبال کی علمی، فکری، ادبی اور تہذیبی میراث کو محفوظ بنانا اور ان کے آفاقی پیغام کو نئی نسل تک پہنچانا ہے۔
وفاقی وزیر کے مطابق، تقریبات کے انعقاد کے لیے ایک اعلیٰ سطحی قومی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ یہ پروگرام وفاقی وزارتوں، صوبائی حکومتوں، جامعات، علمی و ادبی اداروں اور بیرونِ ملک پاکستانی سفارتی مشنز کے اشتراک سے ترتیب دیا گیا ہے۔
اس ایک سالہ دورانیے میں بین الاقوامی اقبال کانفرنسیں، قومی سیمینارز، علمی مذاکرے، اقبالیاتی نمائشیں، تحقیقی و اشاعتی منصوبے اور نوجوانوں کے لیے خصوصی تعلیمی سرگرمیاں منعقد کی جائیں گی۔
اورنگزیب خان کھچی نے کہا کہ علامہ اقبال کا کلام محض ادبی سرمایہ نہیں بلکہ پاکستان کی قومی شناخت اور اجتماعی شعور کا زندہ حوالہ ہے۔ ان کی فکر میں تصورِ خودی، عشقِ رسول ﷺ، حریتِ فکر اور انسانی اخوت کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جدید تحقیقی اور ابلاغی ذرائع کے ذریعے اقبال کے پیغام کو عالمی سطح پر متعارف کرایا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے خصوصی دستاویزی فلمیں، ڈیجیٹل کتب خانے اور مختلف زبانوں میں تراجم کا اہتمام کیا جائے گا۔
وفاقی وزیر نے اقبال اکادمی پاکستان کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ ادارہ ان تقریبات کو اقبالیاتی مطالعات کے فروغ کا موثر ذریعہ بنانے میں کامیاب ہوگا۔
نوجوان نسل کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نوجوان ہمارے قومی ورثے کے حقیقی وارث ہیں، انہیں اپنی تاریخ اور عظیم فکری شخصیات سے روشناس کرانا ضروری ہے تاکہ وہ جدید دنیا کے چیلنجز کا مقابلہ کر سکیں۔
وزارتِ قومی ورثہ و ثقافت نے اہل علم، دانشوروں، اساتذہ، ادیبوں اور ذرائع ابلاغ سے اپیل کی ہے کہ وہ ان تقریبات میں بھرپور شرکت کریں اور فکرِ اقبال کے فروغ میں اپنا کردار ادا کریں۔
ان تقریبات کے ذریعے امن، رواداری، انسانی اخوت اور بین الاقوامی مفاہمت کے پیغام کو بھی اجاگر کیا جائے گا۔
وفاقی وزیر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ قوم کو علامہ اقبال کی فکر کی روشنی میں ایک تعلیم یافتہ، پرامن اور خوشحال پاکستان کی تعمیر کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھنی چاہئیں۔





اپنی رائے دیں