امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کے اوول آفس کو قومی یادگار قرار دینے والے ایک انتظامی حکم نامے پر دستخط کر دیے ہیں جس کا مقصد مستقبل کے صدور کو اس کے ڈھانچے میں اہم تبدیلیاں کرنے سے روکنا ہے۔
جمعرات کے روز میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے بتایا کہ اس تاریخی مقام کو کسی کو بھی چھونے یا تباہ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی تاکہ کوئی دوسرا شخص اسے مسمار کر کے مختلف شکل میں دوبارہ تعمیر نہ کر سکے۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق اس حکم نامے کے بعد اوول آفس اور اس سے منسلک چند دیگر کمروں کی دیکھ بھال اب نیشنل پارک سروس کے ذمے ہوگی تاکہ اس کے تاریخی تشخص اور فن تعمیر کو محفوظ بنایا جا سکے۔
دستخط شدہ دستاویز میں واضح کیا گیا ہے کہ اس حکم نامے سے موجودہ یا مستقبل کے صدور کے پاس فرنیچر کے انتخاب، سجاوٹ کی تبدیلی اور معمولی نوعیت کے سیکیورٹی اقدامات کا اختیار متاثر نہیں ہوگا۔
امریکی صدر نے اپنے دوسرے دور حکومت کے دوران اوول آفس میں سنہری رنگ کے اضافے سمیت ظاہری سجاوٹ میں کئی نمایاں تبدیلیاں کی ہیں جنہیں انہوں نے ملک کی عظمت کی علامت قرار دیا۔
اس سے قبل وائٹ ہاؤس کی ایسٹ ونگ کو گرائے جانے کے منصوبے کو قانونی چیلنجز کا سامنا رہا ہے جبکہ اس منصوبے کی امریکی کانگریس سے باضابطہ منظوری بھی حاصل نہیں کی گئی تھی۔
تاریخی ورثے کے تحفظ کے امور سے وابستہ ماہرین اور قانون دانوں کی جانب سے اس حکم نامے پر ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے اور بعض حلقوں نے اسے تنقید کا نشانہ بھی بنایا ہے۔
سابق صدر باراک اوباما سمیت دیگر ڈیموکریٹ رہنماؤں نے انتخابی مہم کے دوران ٹرمپ کی جانب سے کی گئی تزئین و آرائش پر کھل کر تنقید کی تھی اور اس کی ظاہری شکل پر تبصرے کیے تھے۔
موجودہ اوول آفس کا قیام انیس سو تیس کی دہائی کے اوائل میں اس وقت کے صدر فرینکلن ڈی روزویلٹ کے دور میں عمل میں آیا تھا جو اب تک وائٹ ہاؤس کا مرکزی حصہ چلا آ رہا ہے۔
امریکی صدارتی دفتر کے مطابق یہ احکامات اس بات کو یقینی بنانے کے لیے جاری کیے گئے ہیں تاکہ اس تاریخی مقام کی اصل حالت اور صدارت کے ساتھ اس کا تعلق ہمیشہ قائم رہے۔



اپنی رائے دیں