لاہور کے علاقے گارڈن ٹاؤن کی برکت مارکیٹ میں دورانِ ڈیوٹی ایک شہری سے کھانے کے لیے پیسوں کا مطالبہ کرنے والے تین پولیس اہلکاروں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ملزمان نے ڈیوٹی کے دوران شہری کو روک کر ہراساں کیا اور رقم کا مطالبہ کیا تھا۔
پولیس حکام کے مطابق گرفتار کیے جانے والے اہلکاروں کی شناخت فیاض، فرحان اور احمد مصطفیٰ کے ناموں سے ہوئی ہے۔ ان تینوں اہلکاروں کے خلاف 'بھکاری ایکٹ' (Vagrancy Act) کے تحت باضابطہ مقدمہ درج کر کے تفتیش کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔
ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ شہریوں کی عزتِ نفس اور پولیس فورس کے وقار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ بدعنوانی میں ملوث کسی بھی اہلکار کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
ترجمان ڈی آئی جی آپریشنز کا مزید کہنا تھا کہ پولیس کی وردی کو ذاتی مفاد کے لیے استعمال کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی اور محکمے میں احتساب کا عمل بلا امتیاز جاری رہے گا۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی اعلیٰ حکام نے فوری نوٹس لیا جس کے بعد متعلقہ اہلکاروں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی گئی۔ پولیس کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے کے اہلکاروں کا کام شہریوں کی حفاظت کرنا ہے نہ کہ انہیں ہراساں کرنا۔
گرفتار کیے گئے تینوں اہلکار اس وقت پولیس کی حراست میں ہیں اور ان سے مزید تفتیش کی جا رہی ہے۔ تفتیش کے دوران یہ تعین کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ آیا یہ اہلکار اس طرح کی دیگر غیر قانونی سرگرمیوں میں بھی ملوث رہے ہیں۔
برکت مارکیٹ لاہور کا ایک مصروف کاروباری مرکز ہے جہاں شہریوں کی بڑی تعداد خریداری کے لیے آتی ہے۔ اس واقعے کے بعد مقامی شہریوں نے پولیس کے اس اقدام کو سراہا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ ایسے عناصر کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے۔
پولیس حکام کے مطابق اس کیس کو ایک مثال بنایا جائے گا تاکہ مستقبل میں کوئی بھی اہلکار وردی کا غلط استعمال نہ کر سکے۔ محکمہ پولیس میں احتساب کا عمل جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا ہے۔
ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے کہا کہ شہریوں کا پولیس پر اعتماد بحال رکھنا اولین ترجیح ہے۔ کسی بھی اہلکار کی جانب سے بدعنوانی یا اختیارات کے ناجائز استعمال کی صورت میں فوری قانونی کارروائی کی جائے گی۔
مقدمے کے اندراج کے بعد اب ملزمان کو عدالت میں پیش کیا جائے گا جہاں سے ان کا مزید جسمانی ریمانڈ حاصل کیا جا سکتا ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق بھکاری ایکٹ کے تحت مقدمہ درج ہونا اہلکاروں کے لیے سنگین قانونی نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔
پولیس کے ترجمان نے مزید بتایا کہ اس واقعے کی شفاف تحقیقات کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ کسی بھی قسم کی سفارش یا دباؤ کو خاطر میں لائے بغیر قانون کے مطابق کارروائی کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔
شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ اگر انہیں کسی بھی پولیس اہلکار کی جانب سے غیر قانونی مطالبے کا سامنا ہو تو وہ فوری طور پر اعلیٰ حکام کو رپورٹ کریں۔ پولیس فورس کے اندر کالی بھیڑوں کی نشاندہی کرنا عوام کا حق اور ذمہ داری ہے۔



اپنی رائے دیں