سعودی عرب کے نیشنل سینٹر فار میٹرولوجی نے ایک اہم موسمیاتی رپورٹ جاری کی ہے جس کے مطابق نومبر 2026 سے جنوری 2027 کے دوران مملکت کے بیشتر علاقوں میں معمول سے زیادہ بارشیں متوقع ہیں۔ یہ پیش گوئی تین ماہ کے طویل دورانیے کے لیے کی گئی ہے جس میں موسمی تغیرات کو مدنظر رکھا گیا ہے۔
ادارے کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق نومبر کے مہینے میں حدود الشمالیہ، قصیم، ریاض، الشرقیہ اور مکہ مکرمہ ریجن کے کچھ حصوں میں شدید بارشوں کا قوی امکان ہے۔ ان علاقوں میں موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث معمول سے ہٹ کر بارشیں ریکارڈ کی جا سکتی ہیں۔
مزید برآں، تبوک، الجوف، حائل، باحہ، عسیر اور جازان کے بعض علاقوں میں درمیانے درجے سے لے کر موسلا دھار بارشوں کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ ان علاقوں کے رہائشیوں کو موسمی صورتحال کے پیش نظر محتاط رہنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔
نیشنل سینٹر فار میٹرولوجی کے ترجمان حسین القحطانی نے اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تجزیاتی رپورٹ میں اس بات کے واضح اشارے ملے ہیں کہ مملکت کے بیشتر حصوں میں بارشوں کی شدت اور تعدد میں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ موسمی رجحان آنے والے تین ماہ تک جاری رہ سکتا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ بارشوں کے ساتھ ساتھ ان تین مہینوں کے دوران اوسط درجہ حرارت بھی معمول سے زیادہ رہنے کا امکان ہے۔ موسم کا یہ بدلتا ہوا مزاج خطے کے مجموعی درجہ حرارت پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔
موجودہ مہینہ یعنی نومبر موسمِ خزاں کا آخری مہینہ شمار ہوتا ہے اور اس دوران موسمیاتی تبدیلیاں معمول کا حصہ ہیں۔ رپورٹ کے مطابق کہیں ہلکی بوندا باندی تو کہیں موسلا دھار بارشوں کا سلسلہ جاری رہ سکتا ہے۔
موسمیاتی ادارے نے عوام پر زور دیا ہے کہ وہ موسمی صورتحال سے باخبر رہنے کے لیے روزانہ جاری ہونے والے بلیٹنز کا مطالعہ کریں۔ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں متعلقہ حکام کی جانب سے جاری کردہ ہدایات پر عمل کرنا ضروری ہوگا۔
اگرچہ بارشیں زرعی شعبے کے لیے مفید ثابت ہو سکتی ہیں، تاہم حکام نے ممکنہ مقامی سیلابی صورتحال کے پیش نظر احتیاطی تدابیر اپنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہونے کے خدشات کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا کہا گیا ہے۔
یہ پیش گوئی خطے کے وسیع تر موسمی رجحانات کے ساتھ مطابقت رکھتی ہے جس میں اس سال کے موسمِ سرما کے دوران بارشوں کا تناسب ماضی کی نسبت زیادہ رہنے کی توقع کی جا رہی ہے۔
نیشنل سینٹر فار میٹرولوجی نے واضح کیا ہے کہ وہ صورتحال کی مسلسل نگرانی کر رہا ہے اور جیسے جیسے موسم آگے بڑھے گا، مزید اپ ڈیٹس جاری کی جائیں گی۔ عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ غیر تصدیق شدہ اطلاعات پر کان نہ دھریں اور صرف سرکاری ذرائع پر انحصار کریں۔
سعودی عرب میں موسم کی یہ پیش گوئی مملکت کے وسیع جغرافیائی رقبے کو محیط ہے، جس میں شمالی علاقوں سے لے کر جنوبی پہاڑی سلسلوں تک کے تمام ریجنز شامل ہیں۔
موسمیاتی ماہرین کے مطابق اس طرح کی پیش گوئیاں جدید ٹیکنالوجی اور سیٹلائٹ ڈیٹا کی مدد سے کی جاتی ہیں تاکہ شہریوں کو بروقت آگاہ کیا جا سکے۔ یہ ڈیٹا موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کو سمجھنے میں بھی مددگار ثابت ہوتا ہے۔

اپنی رائے دیں