مواد پر جائیں
منگل، 3 نومبر 2026 23 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ:
بریکنگ
وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت خیبرپختونخوا کی صورتحال پر اہم جائزہ اجلاسامریکہ کا آبنائے ہرمز میں ایران کے جزیرے پر فضائی حملہاے سی سی رائزنگ اسٹارز ایشیا کپ: پاکستان شاہینز کے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلانفوجی فاؤنڈیشن نے پرل کانٹی نینٹل ہوٹلز کی مالک کمپنی کے 19.70 فیصد حصص خرید لیےسعودی عرب میں نومبر سے جنوری تک معمول سے زائد بارشوں کی پیش گوئیسپریم کورٹ نے بیوی پر تشدد کے ملزم آئی بی ملازم کی اپیل خارج کر دیسمندری طوفان مرسو انڈیا کے مشرقی ساحل سے ٹکرا گیابیلجیم میں سیاسی بحران، وفاقی بجٹ پر مذاکرات ناکام ہونے پر وزیراعظم نے استعفیٰ دے دیاامریکی سپریم کورٹ نے کیلیفورنیا میں بیلٹس روکنے کی ٹرمپ انتظامیہ کی درخواست مسترد کر دیپاک چین تعلقات کے استحکام کا اعادہ، چینی وزیر کا دورہ اسلام آبادمالی سال کی پہلی سہ ماہی میں معیشت مستحکم، زرِمبادلہ کے ذخائر میں نمایاں اضافہشمالی کوریا نے بائنس ہیکنگ میں ملوث ہونے کا امریکی الزام مسترد کر دیاایڈرین ہیملٹن مانس نے پی آئی اے کے نئے چیف ایگزیکٹو کی حیثیت سے ذمہ داریاں سنبھال لیںساؤتھ ایشین فٹ بال چیمپئن شپ: پاکستانی کوچ نے سیمی فائنل تک رسائی کا ہدف مقرر کر لیاامریکہ نے روانڈا اور ساؤتھ افریقہ کو ایگوآ سے نکالنے کا اعلان کیاایپل اور گوگل ایپ اسٹورز پر جنسی و پُرتشدد ڈیپ فیک اے آئی ایپس کا انکشافمظفرگڑھ: وراثتی زمین کے تنازع پر بھائی نے حاملہ بہن کو قتل کردیاپاکستان براڈکاسٹرز ایسوسی ایشن کے سالانہ اجلاس میں نئے عہدے داروں کا انتخابلاہور ہائیکورٹ کا نورین نیازی کی بیٹیوں سے ملاقات کروانے کا حکمفِیفا نے زوریخ میں کونسل اراکین کو ورلڈ کپ سیل‑آف دستاویزات تک محدود رسائی دی
دنیا

سعودی عرب میں نومبر سے جنوری تک معمول سے زائد بارشوں کی پیش گوئی

نیشنل سینٹر فار میٹرولوجی نے مملکت کے بیشتر علاقوں میں بارشوں کا سلسلہ تیز ہونے اور درجہ حرارت معمول سے زیادہ رہنے کا امکان ظاہر کیا ہے۔

سعودی عرب کے نیشنل سینٹر فار میٹرولوجی نے ایک اہم موسمیاتی رپورٹ جاری کی ہے جس کے مطابق نومبر 2026 سے جنوری 2027 کے دوران مملکت کے بیشتر علاقوں میں معمول سے زیادہ بارشیں متوقع ہیں۔ یہ پیش گوئی تین ماہ کے طویل دورانیے کے لیے کی گئی ہے جس میں موسمی تغیرات کو مدنظر رکھا گیا ہے۔

ادارے کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق نومبر کے مہینے میں حدود الشمالیہ، قصیم، ریاض، الشرقیہ اور مکہ مکرمہ ریجن کے کچھ حصوں میں شدید بارشوں کا قوی امکان ہے۔ ان علاقوں میں موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث معمول سے ہٹ کر بارشیں ریکارڈ کی جا سکتی ہیں۔

مزید برآں، تبوک، الجوف، حائل، باحہ، عسیر اور جازان کے بعض علاقوں میں درمیانے درجے سے لے کر موسلا دھار بارشوں کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ ان علاقوں کے رہائشیوں کو موسمی صورتحال کے پیش نظر محتاط رہنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔

نیشنل سینٹر فار میٹرولوجی کے ترجمان حسین القحطانی نے اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تجزیاتی رپورٹ میں اس بات کے واضح اشارے ملے ہیں کہ مملکت کے بیشتر حصوں میں بارشوں کی شدت اور تعدد میں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ موسمی رجحان آنے والے تین ماہ تک جاری رہ سکتا ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ بارشوں کے ساتھ ساتھ ان تین مہینوں کے دوران اوسط درجہ حرارت بھی معمول سے زیادہ رہنے کا امکان ہے۔ موسم کا یہ بدلتا ہوا مزاج خطے کے مجموعی درجہ حرارت پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔

موجودہ مہینہ یعنی نومبر موسمِ خزاں کا آخری مہینہ شمار ہوتا ہے اور اس دوران موسمیاتی تبدیلیاں معمول کا حصہ ہیں۔ رپورٹ کے مطابق کہیں ہلکی بوندا باندی تو کہیں موسلا دھار بارشوں کا سلسلہ جاری رہ سکتا ہے۔

موسمیاتی ادارے نے عوام پر زور دیا ہے کہ وہ موسمی صورتحال سے باخبر رہنے کے لیے روزانہ جاری ہونے والے بلیٹنز کا مطالعہ کریں۔ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں متعلقہ حکام کی جانب سے جاری کردہ ہدایات پر عمل کرنا ضروری ہوگا۔

اگرچہ بارشیں زرعی شعبے کے لیے مفید ثابت ہو سکتی ہیں، تاہم حکام نے ممکنہ مقامی سیلابی صورتحال کے پیش نظر احتیاطی تدابیر اپنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہونے کے خدشات کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا کہا گیا ہے۔

یہ پیش گوئی خطے کے وسیع تر موسمی رجحانات کے ساتھ مطابقت رکھتی ہے جس میں اس سال کے موسمِ سرما کے دوران بارشوں کا تناسب ماضی کی نسبت زیادہ رہنے کی توقع کی جا رہی ہے۔

نیشنل سینٹر فار میٹرولوجی نے واضح کیا ہے کہ وہ صورتحال کی مسلسل نگرانی کر رہا ہے اور جیسے جیسے موسم آگے بڑھے گا، مزید اپ ڈیٹس جاری کی جائیں گی۔ عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ غیر تصدیق شدہ اطلاعات پر کان نہ دھریں اور صرف سرکاری ذرائع پر انحصار کریں۔

سعودی عرب میں موسم کی یہ پیش گوئی مملکت کے وسیع جغرافیائی رقبے کو محیط ہے، جس میں شمالی علاقوں سے لے کر جنوبی پہاڑی سلسلوں تک کے تمام ریجنز شامل ہیں۔

موسمیاتی ماہرین کے مطابق اس طرح کی پیش گوئیاں جدید ٹیکنالوجی اور سیٹلائٹ ڈیٹا کی مدد سے کی جاتی ہیں تاکہ شہریوں کو بروقت آگاہ کیا جا سکے۔ یہ ڈیٹا موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کو سمجھنے میں بھی مددگار ثابت ہوتا ہے۔

اس موضوع پر مزید خبریں

دنیا کی تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
چیف ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر صحافی جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی ادارتی پالیسی، خبروں کی تصدیق اور معیار ان کی نگرانی میں ہے۔

  • نیوز ڈیسک — قومی، بین الاقوامی، عدالت اور جرم و سزا کی خبریں

ہمیں فالو کریں