مواد پر جائیں
منگل، 27 اکتوبر 2026 16 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: رات 2:36
بریکنگ
سرکاری اور مالیاتی اداروں کے ڈیجیٹل نظاموں پر سائبر حملوں کا خدشہترک سفیر کی وزیر دفاع خواجہ آصف سے ملاقات، دفاعی تعاون بڑھانے پر اتفاقراولپنڈی: سسرالیوں کا خاتون پر مبینہ تشدد، بال کاٹنے اور زیورات چھیننے کا الزامبھارت: پسند کی شادی کیلئے لڑکی 100 فٹ بلند موبائل ٹاور پر چڑھ گئیدفتر خارجہ میں اہم سفارتی تقرریوں اور تبادلوں کی تیاریاںلاہور فیشن ویک: تیسرے روز مشرقی و مغربی ملبوسات کا حسین امتزاجبرطانوی بینک بارکلیز کی ہزاروں ملازمین کی چھانٹی کی تیاریایف پی ایس سی کے ملتوی ٹیسٹوں کی نئی تاریخوں کا اعلان کر دیا گیاکویت میں ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی کیلئے جدید نظام متعارفروزگار کیلئے مقامی انڈسٹری کا فروغ انتہائی ضروری ہے، مریم نوازرواں سال جولائی سے ستمبر تک کا توشہ خانہ ریکارڈ جاریاہلیہ سنیتا آہوجا کے الزامات پر بالی ووڈ اداکار گووندا کی خاموشی ختمایف بی آر کا ٹیکسٹائل اسپننگ یونٹس میں ویڈیو کیمرے لگانے کا حکمبس ڈرائیور کے بیٹے سے ’راکنگ سٹار یش‘ بننے کا دلچسپ سفربلوچستان کے شمالی علاقوں میں سردی کی شدت میں اضافہ، قلات کا درجہ حرارت ایک ڈگری ریکارڈجنوبی افریقا کے خلاف فیصلہ کن ٹیسٹ سے قبل اسٹیو اسمتھ کی فٹنس مشکوکلاہور میں سگریٹ کے ڈبوں میں ریت بھر کر فروخت کرنے والا نوسرباز گرفتاروزیراعلیٰ چلڈرن ہارٹ سرجری پروگرام، 16,173 بچوں کے مفت آپریشن مکململک بھر میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں اضافے کا رجحانایمان مزاری اور ہادی علی کی اسلام آباد ہائیکورٹ حکمنامے کیخلاف اپیل
جرم و سزا

راولپنڈی: سسرالیوں کا خاتون پر مبینہ تشدد، بال کاٹنے اور زیورات چھیننے کا الزام

تھانہ چکلالہ کی حدود میں پیش آنے والے واقعے کے بعد پولیس نے متاثرہ خاتون کو اپنی تحویل میں لے کر تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

راولپنڈی: سسرالیوں کا خاتون پر مبینہ تشدد، بال کاٹنے اور زیورات چھیننے کا الزام

راولپنڈی کے علاقے شاہ خالد کالونی فضل آباد میں ایک شادی شدہ خاتون پر سسرالیوں کی جانب سے مبینہ طور پر شدید تشدد کا نشانہ بنانے کا واقعہ سامنے آیا ہے۔ متاثرہ خاتون نے الزام عائد کیا ہے کہ سسرال والوں نے نہ صرف ان پر جسمانی تشدد کیا بلکہ ان کے بال بھی کاٹ دیے اور ان کے زیورات سمیت نقدی بھی چھین لی۔

متاثرہ خاتون، جن کی شناخت جنت بی بی کے نام سے ہوئی ہے، نے اپنی پریشانی کے عالم میں ایک ویڈیو پیغام بھی جاری کیا ہے۔ اس ویڈیو میں وہ اپنے چچا سے مدد کی اپیل کرتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں اور سسرالیوں پر سنگین الزامات عائد کر رہی ہیں۔

خاتون کا کہنا ہے کہ ان کے والدین کی جانب سے دیے گئے دو لاکھ روپے بھی سسرالیوں نے زبردستی لے لیے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ سسرال والوں نے ان کی تذلیل کی اور ان کا جینا حرام کر رکھا ہے، جس کے بعد وہ اپنی جان بچا کر پڑوسیوں کے گھر پناہ لینے پر مجبور ہوئیں۔

واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس حکام نے فوری کارروائی کرتے ہوئے متاثرہ خاتون کو اپنی حفاظتی تحویل میں لے لیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی طور پر انہیں اس معاملے کی کوئی باقاعدہ شکایت موصول نہیں ہوئی تھی، تاہم ویڈیو اور خبر سامنے آنے کے بعد معاملے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔

تھانہ چکلالہ کے حکام کے مطابق پولیس کی ٹیمیں واقعے کے تمام پہلوؤں کا بغور جائزہ لے رہی ہیں۔ پولیس کا عزم ہے کہ اگر تحقیقات کے دوران سسرالیوں پر تشدد یا قانون شکنی کا کوئی بھی ثبوت ملا تو ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

خاتون کی جانب سے لگائے گئے الزامات کے بعد علاقے میں تشویش پائی جا رہی ہے۔ پولیس نے یقین دہانی کرائی ہے کہ متاثرہ خاتون کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے گا اور انصاف کے تقاضوں کو ہر صورت پورا کیا جائے گا۔

خواتین پر گھریلو تشدد کے واقعات معاشرے کے لیے ایک لمحہ فکریہ ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات میں ملوث افراد کے خلاف قانون کے مطابق فوری کارروائی ہونی چاہیے تاکہ متاثرین کو تحفظ کا احساس دلایا جا سکے اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہو۔

پولیس حکام نے مزید بتایا کہ واقعے کے حوالے سے مزید شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں اور جلد ہی حقائق سامنے لائے جائیں گے۔ متاثرہ خاتون کے بیان کو ریکارڈ کا حصہ بنایا جا رہا ہے تاکہ قانونی کارروائی کو آگے بڑھایا جا سکے۔

اس واقعے کے بعد مقامی سطح پر بھی سماجی حلقوں نے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ شہریوں کا مطالبہ ہے کہ گھریلو تشدد کے اس مبینہ واقعے کی شفاف تحقیقات کی جائیں اور ذمہ داران کو قرار واقعی سزا دی جائے۔

قانون نافذ کرنے والے ادارے اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کوشاں ہیں کہ متاثرہ خاتون کو انصاف مل سکے۔ پولیس کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق، کسی بھی شخص کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے اداروں نے بھی اس واقعے کا نوٹس لیا ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ گھریلو تشدد کے شکار افراد کو فوری طبی اور قانونی مدد فراہم کی جانی چاہیے تاکہ ان کی زندگیوں کو محفوظ بنایا جا سکے۔

راولپنڈی پولیس کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اپ ڈیٹ کے مطابق، تفتیش کا عمل جاری ہے اور جلد ہی مزید تفصیلات میڈیا کے ساتھ شیئر کی جائیں گی۔ پولیس حکام نے عوام سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ کسی بھی غیر قانونی سرگرمی کی اطلاع فوری طور پر متعلقہ تھانے کو دیں۔

یہ واقعہ ایک بار پھر گھریلو تشدد کے خاتمے کے لیے معاشرتی بیداری کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے۔ قانون کی بالادستی اور متاثرین کی بروقت داد رسی ہی ایسے واقعات کو کم کرنے کا واحد راستہ ہے۔

جرم و سزا کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں