امریکی حکام نے ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کے سلسلے میں اپنی تیاریاں تیز کر دی ہیں، جس کے تحت جنگی بحری جہازوں پر گولہ بارود کی منتقلی اور لوڈنگ کا عمل جاری ہے۔ اس حوالے سے بین الاقوامی میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ واشنگٹن خطے میں اپنی عسکری صلاحیتوں کو مزید مستحکم کرنے میں مصروف ہے۔
امریکی بحریہ کا مشہور طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس جارج واشنگٹن اور اس کا جنگی گروپ اس وقت ان تیاریوں کا مرکز بنا ہوا ہے، جہاں بحری اہلکار دن رات جنگی جہازوں اور طیاروں کو ممکنہ مشن کے لیے تیار کرنے میں مصروف ہیں۔
ذرائع ابلاغ کے مطابق ان تیاریوں میں جنگی طیاروں کو جدید ہتھیاروں سے لیس کرنا اور بحری جہازوں پر گولہ بارود کے ذخائر کو مکمل کرنا شامل ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے موثر انداز میں نمٹا جا سکے۔
یہ پیشرفت ایسے نازک وقت پر سامنے آئی ہے جب امریکی انٹیلی جنس اداروں نے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ اور دیگر خطوں میں امریکی شہریوں اور اہلکاروں کو نشانہ بنانے کے لیے مبینہ ایرانی منصوبہ بندی عروج پر پہنچ چکی ہے۔
امریکی خبر رساں اداروں اور دیگر بین الاقوامی ذرائع کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی تہران کے خلاف ایک اور فوجی کارروائی کے امکان کا اعادہ کر چکے ہیں، جس سے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔
حالیہ انٹیلی جنس رپورٹ کے مطابق، جو وزیر خارجہ مارکو روبیو کو ارسال کی گئی تھی، اس میں کہا گیا ہے کہ ایران نے امریکی مفادات اور افراد پر حملوں کی تیاریوں میں نمایاں تیزی دکھائی ہے جو واشنگٹن کے لیے شدید تشویش کا باعث ہے۔
امریکی انٹیلی جنس کے ان جائزوں سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ تہران مبینہ طور پر روایتی فوجی کارروائیوں کے علاوہ دنیا کے مختلف حصوں میں موجود امریکی شہریوں کو بھی نقصان پہنچانے کے لیے اپنے نیٹ ورک کو فعال کر رہا ہے۔
اگرچہ انٹیلی جنس رپورٹس میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ کوئی حملہ فوری طور پر ہونے والا ہے، تاہم واشنگٹن نے خطے میں اپنی دفاعی پوزیشن کو انتہائی مستحکم کرنے کے لیے فوری اقدامات اٹھانا شروع کر دیے ہیں۔
کشیدگی کے اس ماحول میں امریکا نے مشرق وسطیٰ کے بعض حساس حصوں میں اپنی سفارتی موجودگی اور فوجی اڈوں پر تعینات عملے میں بھی کمی کرنا شروع کر دی ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے سے بچا جا سکے۔
اس سے قبل فروری کے مہینے میں بھی امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ کے آغاز سے قبل اسی نوعیت کے احتیاطی اقدامات اور انخلا کی کارروائییاں عمل میں لائی گئی تھیں جو اب پھر دہرائی جا رہی ہیں۔
امریکی جنگی بیڑے پر جاری ان تیاریوں میں زمین پر موجود اہداف کو نشانہ بنانے والے جدید گائیڈڈ میزائلوں کی فراہمی بھی شامل ہے، جو طویل فاصلے تک مار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
اس کے علاوہ فضائی کارروائیوں کے دوران مضبوط بنکرز اور زیر زمین تنصیبات کو تباہ کرنے والے خصوصی بم بھی ان بحری جہازوں پر منتقل کیے جا رہے ہیں تاکہ عسکری مہم جوئی کی صورت میں مکمل برتری حاصل رہے۔
مشرق وسطیٰ میں جاری اس کشیدہ صورتحال پر عالمی سطح پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے کیونکہ کسی بھی نئی فوجی کارروائی کے اس خطے کے امن اور استحکام پر انتہائی دور رس اور گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔





اپنی رائے دیں