پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین محسن نقوی نے لاہور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ قومی ٹیم کی کارکردگی اور کھلاڑیوں کی تیاری کے حوالے سے طویل عرصے سے مختلف آراء سامنے آتی رہی ہیں، جنہیں بہتر بنانے کے لیے عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
اُنہوں نے تقریب کے شرکاء سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ دو سال پہلے کے مقابلے میں اب صورتحال مختلف ہے اور پاکستان میں باصلاحیت کھلاڑیوں کی کوئی کمی نہیں ہے، ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ دستیاب ٹیلنٹ کو نکھارا جائے۔
محسن نقوی نے اس بات کا اعتراف کیا کہ ماضی میں قومی سطح پر کھلاڑیوں کا انتخاب کرنے کے لیے متبادل اور نئے چہروں کی دستیابی کا مسئلہ درپیش تھا، تاہم اب اس چیلنج پر قابو پانے کے لیے مربوط حکمت عملی کے تحت کام جاری ہے۔
چیئرمین پی سی بی نے بتایا کہ اس مقصد کے لیے عاقب جاوید سمیت دیگر کرکٹ ماہرین نے انتہائی محنت کی ہے اور ان کی کوششوں سے ڈومیسٹک اور گراس روٹ لیول پر کرکٹ کے ڈھانچے میں مثبت تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔
اُنہوں نے اعلان کیا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ باضابطہ طور پر سکول کرکٹ کا آغاز کیا گیا ہے، جس کا بنیادی مقصد نچلی سطح پر ہی نوجوانوں کی پوشیدہ صلاحیتوں کو اجاگر کرنا اور نکھارنا ہے۔
محسن نقوی کے مطابق صرف صوبائی دارالحکومت لاہور میں اس وقت چودہ سو سکولوں کی کرکٹ ٹیمیں اس مقابلے کا حصہ بنی ہوئی ہیں، جو کہ اس بات کا ثبوت ہے کہ نوجوان طبقے میں کھیل کے حوالے سے کس قدر جوش و خروش پایا جاتا ہے۔
اُنہوں نے مزید بتایا کہ اس دائرہ کار کو وسعت دیتے ہوئے آئندہ سال تک سکول کرکٹ ٹیموں کی مجموعی تعداد تین ہزار سے بھی تجاوز کر جائے گی، جس سے ملک کے طول و عرض میں کرکٹ کا جال پھیل جائے گا۔
چیئرمین بورڈ نے شرکاء کو بتایا کہ اسکول کی سطح پر ہونے والے ان مقابلوں کے انعقاد کا مقصد صرف کھیل کو تفریح تک محدود رکھنا نہیں بلکہ مستقبل کے لیے ایک مستحکم اور تیار شدہ کرکٹ پول تیار کرنا ہے۔
نوجوان کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کے لیے پی سی بی کی جانب سے بڑی انعامی رقم کا اعلان کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ رواں برس سے چیمپئن بننے والی ٹیم کو دو کروڑ روپے کیش انعام دیا جائے گا۔
اُنہوں نے مزید وضاحت کی کہ اس کے علاوہ رنر اپ رہنے والی ٹیم کے لیے ایک کروڑ روپے کی انعامی رقم رکھی گئی ہے، جس کا مقصد کھلاڑیوں میں مقابلے کی روح کو بیدار کرنا اور ان کی مالی معاونت کرنا ہے۔
محسن نقوی کا کہنا تھا کہ اتنی بڑی انعامی رقم کا مقصد ٹیموں کے اندر جوش پیدا کرنا اور سکول کی سطح پر ہونے والے ان مقابلوں کے تئیں نوجوانوں کی گہری دلچسپی اور رجحان کو مزید بڑھانا ہے۔
صرف مرد کھلاڑیوں تک محدود نہ رہتے ہوئے کرکٹ بورڈ کے وژن کا ذکر کرتے ہوئے اُنہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ آئندہ سال سے باقاعدہ ویمن کرکٹ چیمپئن شپ کا انعقاد بھی کیا جائے گا۔
اُنہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ خواتین کی کرکٹ کے فروغ کے لیے اٹھائے جانے والے ان اقدامات سے ملک بھر کی خواتین کھلاڑیوں کو اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھانے کے بہترین مواقع میسر آئیں گے۔
محسن نقوی نے اپنی گفتگو کے آخر میں اس بات پر زور دیا کہ پاکستان میں کرکٹ کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے ضروری ہے کہ گراس روٹ لیول بالخصوص سکول اور کالج کی سطح پر کھلاڑیوں کو تمام سہولیات فراہم کی جائیں۔





اپنی رائے دیں